عالمی اقتصادی غیر یقینی صورتحال کے باوجود، دبئی کے سیاحتی شعبے نے 2025 کی پہلی سہ ماہی میں توقع سے زیادہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، جہاں جنوری سے مارچ کے دوران دنیا بھر سے 5.31 ملین بین الاقوامی سیاحوں کا خیرمقدم کیا جاچکا ہے۔

عربین ٹریول مارکیٹ یعنی اے ٹی ایم کے 32 ویں ایڈیشن سے قبل دبئی ڈیپارٹمنٹ آف اکانومی اینڈ ٹورازم نے انکشاف کیا کہ یہ تعداد 2024 کی اسی مدت کے مقابلے میں 3 فیصد اضافے کی نمائندگی کرتی ہے۔

ڈیپارٹمنٹ آف اکانومی اینڈ ٹورازم کے مطابق، پہلی سہہ ماہی میں دبئی کی ترقی کے اعداد مسلسل دو ریکارڈ ساز سالوں میں امارات کی عمارت کے لیے ایک مثبت رفتار کا اشارہ دیتے ہیں، یہ 2024 میں مجموعی طور پر 9 فیصد اضافے سے راتوں رات 18.

72 ملین سیاحوں تک پہنچتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: شامی ایئرلائنز کا متحدہ عرب امارات کے لیے براہِ راست پروازیں بحال کرنے کا اعلان

دبئی کارپوریشن فار ٹورازم اینڈ کامرس مارکیٹنگ کے سربراہ عصام کاظم کا کہنا ہے کہسیاحت کے شعبے کی مسلسل ترقی نہ صرف اس کے براہ راست اقتصادی اثرات کے ذریعے، بلکہ شہر میں سرمایہ کاری، ہنر اور کاروبار کے راستے کے طور پر بھی اہم ہے۔

عصام کاظم کے مطابق ان کا محکمہ دبئی کے سیاحتی اہداف کے لیے کثیر الجہتی نقطہ نظر اپنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔’متحرک مارکیٹنگ مہموں کے ساتھ عالمی مرئیت کو بڑھا کر اور کلیدی ملکی اسٹیک ہولڈرز اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ تعاون کو مضبوط بنا کر ڈیپارٹمنٹ آف اکانومی اینڈ ٹورازم ایسا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔‘

دبئی کی مارکیٹ کی متنوع حکمت عملی 80 سے زیادہ مارکیٹوں کو نشانہ بناتی ہے، مغربی یورپ 1.15 ملین سیاحوں کے ساتھ سرکردہ منبع مارکیٹ رہا، جو کل کا 22 فیصد بنتا ہے، کامن ویلتھ آف انڈیپینڈنٹ اسٹیٹس اور مشرقی یورپ کا حصہ 8 لاکھ 91 ہزار سیاح یعنی 17 فیصد جبکہ گلف کوآپریشن کونسل کے رکن ممالک کی جانب سے 7 لاکھ 72 ہزار سیاحوں  یعنی 15 فیصد کا حصہ شمار کیا گیا۔

مزید پڑھیں: دبئی میں رہائشیوں کے لیے ویزا امیگریشن کا عمل مزید آسان بنا دیا گیا

دیگر اہم خطوں میں جنوبی ایشیا سے 7 لاکھ 52 ہزار سیاحوں یعنی 14 فیصد، مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ سے 6 لاکھ 20 ہزار سیاح یعنی 12 فیصد، شمال مشرقی اور جنوب مشرقی ایشیا  سے 4 لاکھ 74 ہزار سیاح یعنی 9 فیصد، امریکا سے 3 لاکھ 74 ہزار سیاح یعنی 7 فیصد، افریقہ سے ایک لاکھ 97 ہزار یعنی 4 فیصد، آسٹریلیشیا سے 78 ہزار سیاحوں نے دبئی کا رخ کیا جو سیاحون کی مجموعی تعداد کا 1 فیصد بنتی ہے۔

عصام کاظم کا کہنا ہے کہ مستقبل پر نظر رکھتے ہوئے، ہم اپنی توجہ کلیدی منڈیوں میں رفتار کو مزید تیز کرنے اور ابھرتی ہوئی مارکیٹوں کی نمایاں صلاحیت سے فائدہ اٹھانے پر مرکوز رکھے ہوئے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ای ٹی ایم دبئی دبئی کارپوریشن فار ٹورازم اینڈ کامرس ڈیپارٹمنٹ آف اکانومی اینڈ ٹورازم عربین ٹریول مارکیٹ متحدہ عرب امارات

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ای ٹی ایم عربین ٹریول مارکیٹ متحدہ عرب امارات ہزار سیاح یعنی کے لیے

پڑھیں:

حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا

وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔

متعلقہ مضامین

  • سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • قادر آباد بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب، چناب میں پانی کا بہاؤ بڑھ گیا
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • ہیڈ مرالہ میں پانی کی سطح میں ایک بارپھر اضافہ
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا