گزشتہ سال گلگت بلتستان میں 25 ہزار غیر ملکی سیاح آئے، محکمہ سیاحت
اشاعت کی تاریخ: 27th, April 2025 GMT
محکمہ سیاحت گلگت بلتستان کے مطابق اب تک 700 غیر ملکی سیاح ماؤنٹنیرنگ اور ٹریکنگ ویزہ حاصل کرنے کے لیے حکومت پاکستان کو درخواست دے چکے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ محکمہ سیاحت و ثقافت، گلگت بلتستان سے جاری ایک بیان کے مطابق سال 2024ء کے دوران تقریباً 25,000 غیر ملکی سیاحوں نے گلگت بلتستان کا دورہ کیا، جو کہ پاکستان کا رُخ کرنے والے تمام غیر ملکی سیاحوں کا 50 فیصد بنتا ہے۔ ان میں سے صرف 2,300 سیاح ایسے تھے جن سے ماؤنٹنیرنگ اور ٹریکنگ رائلٹی فیس وصول کر کے حکومت گلگت بلتستان نے باقاعدہ پرمٹ جاری کیے، جبکہ بقیہ 22 ہزار سیاحوں کو بغیر رائلٹی فیس اور پرمٹ کے مخصوص علاقوں میں سیر و تفریح کی اجازت دی گئی۔بین الاقوامی میڈیا اداروں جیسے کہ بی بی سی، سی این این اور برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے گلگت بلتستان کو سال 2025ء کے بہترین سیاحتی مقامات میں شامل کیا ہے۔ اس کے علاوہ امسال مزید نئے سیاحتی روٹس کو عام سیاحوں کے لیے کھول دیا گیا ہے، جن پر سفر کے لیے کسی قسم کی رائلٹی فیس یا پرمٹ کی ضرورت نہیں ہو گی۔ محکمہ سیاحت گلگت بلتستان کے مطابق اب تک 700 غیر ملکی سیاح ماؤنٹنیرنگ اور ٹریکنگ ویزہ حاصل کرنے کے لیے حکومت پاکستان کو درخواست دے چکے ہیں۔ ویزہ حاصل کرنے کے بعد یہ سیاح حکومت گلگت بلتستان سے ٹریکنگ و مانٹنیرنگ پرمٹ کے لیے رجوع کرتے ہیں، جس کو محکمہ سیاحت کی جانب سے 2 سے 3 دن کے اندر ضروری کارروائی کے بعد پرمٹ جاری کر دیے جاتے ہیں۔ تاہم اس وقت صرف دو سیاحوں نے پرمٹ کے لیے درخواست جمع کرائی ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان ٹور آپریٹر ایسوسی ایشن (PATO) نے گلگت بلتستان کی چیف کورٹ میں رائلٹی فیس میں اضافے کو چیلنج کرتے ہوئے درخواست دائر کی ہے، جس پر عدالت نے حتمی فیصلے تک پرمٹس کے اجراء کو معطل کر دیا ہے۔ جیسے ہی عدالت کی جانب سے فیصلہ سامنے آئے گا، محکمہ سیاحت فوری طور پر پرمٹس کا اجراء شروع کر دے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: غیر ملکی سیاح گلگت بلتستان محکمہ سیاحت رائلٹی فیس کے لیے
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔