یکم اپریل سے 41 ہزار سے زائد افغان باشندوں کو چمن سے واپس بھیجا گیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, April 2025 GMT
ڈی سی چمن کا کہنا ہے کہ اب افغانستان میں امن و امان قائم ہوچکا ہے، لہٰذا تمام افغان باشندوں کو بڑی خوشی کیساتھ اپنے ملک جانا چاہیئے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈپٹی کمشنر چمن حبیب بنگلزئی نے کہا ہے کہ یکم اپریل سے اب تک 41 ہزار سے زائد افغان باشندے چمن بارڈر کے راستے واپس افغانستان جاچکے ہیں۔ ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کی وطن واپسی کا سلسلہ چمن بارڈر کے راستے جاری ہے۔ یہ بات انہوں نے پاک افغان سرحد زیرو پوائنٹ پر افغان باشندوں کیلئے قائم کئے گئے ود ہولڈنگ کیمپ کے دورے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کیمپ میں تمام سہولیات اور انتظامات کا جائزہ لیا اور افغان باشندوں کو فراہم کی جانے والی کھانے، پینے، علاج و معالجہ اور دیگر سہولیات اور اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ باقی علاقوں کی طرح چمن میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے خلاف بھی کریک ڈاؤن شروع کر دیا گیا ہے۔ افغانستان میں امن و امان کی قیام کے بعد تمام افغانیوں کو واپس اپنے ملک جاکر ملک کی آبادکاری اور ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے گذشتہ تین چار دہائیوں سے افغان مہاجرین کو پاکستان میں ہر طرح کی سہولیات اور آزادی کے ساتھ زندگی گزارنے کا موقع فراہم کیا۔ اب افغانستان میں امن و امان قائم ہوچکا ہے، لہٰذا تمام افغان باشندوں کو بڑی خوشی کیساتھ اپنے ملک جانا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ افغان باشندوں کو عزت و وقار کے ساتھ واپس افغانستان بھیجا جا رہا ہے۔
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: افغان باشندوں کو انہوں نے نے کہا
پڑھیں:
افغانستان میں جیل میں قید برطانوی والدین کی موت کا خدشہ ہے، بچوں کی درخواست
کابل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 25 جولائی2025ء)افغانستان میں جیل میں قید بزرگ برطانوی جوڑے کے بچوں نے والدین کی رہائی کے لیے طالبان حکومت سے درخواست کردی۔غیرملکی میڈیا کے مطابق 80 سالہ پیٹر اور ان کی 76 سالہ اہلیہ باربی رینالڈز کو یکم فروری کو افغانستان کے صوبہ بامیان میں اپنے گھر واپس جاتے ہوئے گرفتار کیا گیا تھا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ دونوں افراد ساڑھے پانچ ماہ سے زائد بغیر کسی الزام کے حراست میں ہیں اور ان دونوں کو سخت سیکیورٹی والی جیل میں الگ الگ رکھنے کی اطلاعات ہیں۔س برطانوی جوڑے کے امریکا اور برطانیہ میں رہنے والے چاروں بچوں نے اپنے والدین کی صحت کے بارے میں شدید تشویش کا اظہار کیا ہے، یہ دونوں افراد متعدد بیماریوں میں بھی مبتلا ہیں۔(جاری ہے)
بچوں کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ طالبان سے ایک مرتبہ اور فوری درخواست ہے کہ ہمارے والدین کو رہا کر دیا جائے اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے اور کہیں وہ ان کی تحویل میں ہی نہ مر جائیں۔
والدین نے گزشتہ 18 سالوں سے اپنی زندگیاں افغانستان کے لوگوں کے لیے وقف کر رکھی ہیں۔اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے اپنے بیان میں ان دونوں افراد کے لیے مناسب طبی دیکھ بھال تک رسائی کے بغیر ناقابل تلافی نقصان پہنچنے یا موت کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔غیرملکی میڈیا کے مطابق یہ برطانوی جوڑا گزشتہ 18 سال سے افغانستان میں رہ رہا تھا جو وہاں تعلیم اور تربیت کے منصوبے چلا رہا تھا۔ اس جوڑے نے 2021 میں طالبان کے واپس آنے کے بعد بھی افغانستان میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا تھا۔