ملک بھر میں آج بھی ہیٹ ویو، درجہ حرارت معمول سے 7 ڈگری تک رہنے کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 28th, April 2025 GMT
محکمۂ موسمیات نے سندھ، جنوبی پنجاب اور بلوچستان کے مختلف حصوں میں آج بھی ہیٹ ویو اور درجۂ حرارت معمول سے 7 ڈگری تک رہنے کی پیشگوئی کی ہے۔
لاہور، پشاور، سرگودھا اور ملتان سمیت متعدد شہروں میں درجۂ حرارت 40 ڈگری یا زائد رہنے کا امکان ہے۔
سکھر، نواب شاہ، مٹھی، سبی اور تربت میں 45 ڈگری یا زائد رہنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
کراچی: پارہ 38 پر گرمی کی شدت 46 ڈگری محسوس ہونے لگیکراچی میں 24 گھنٹوں کے دوران موسم گرم اور مرطوب رہنے کا امکان ہے۔
محکمۂ موسمیات کے مطابق گزشتہ روز سب سے زیادہ درجۂ حرارت نواب شاہ میں 48 ڈگری ریکارڈ کیا گیا۔
ادھر وادی کوئٹہ اور گردونواح میں مطلع صاف ہے، موسم خشک اور معتدل ہے۔
اندرون بلوچستان اور شمالی اضلاع میں موسم معتدل جبکہ وسطی جنوبی اضلاع میں گرم ہے۔
محکمۂ موسمیات نے صوبے میں آج دن کا درجۂ حرارت معمول سے 3 سے 5 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: رہنے کا امکان
پڑھیں:
بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔
سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔
حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔
اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔