بلوچستان میں ہیٹ ویو، انسانوں کے ساتھ ساتھ فصلوں کے متاثر ہونے کا بھی خدشہ
اشاعت کی تاریخ: 28th, April 2025 GMT
ملک بھر میں ہر گزرتے دن کے ساتھ گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے، بلوچستان کے بیشتر علاقے تپتی دھوپ اور شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں۔
محکمہ موسمیات بلوچستان کے مطابق آئندہ چند دنوں کے دوران ضلع سبی میں سب سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیے جانے کا امکان ہے۔ سبی میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 47، تربت میں 46، لسبیلہ میں 44، نوکنڈی میں 43، دالبندین میں 41 جبکہ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں 35 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیے جانے کا امکان ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ملک میں گرمی کی شدت برقرار، نیا ہیٹ ویو الرٹ جاری
محکمہ موسمیات کے مطابق چند دنوں میں سبی، کچھی، صحبت پر، لہڑی، نصیر آباد، جھل مگسی، تربت، لسبیلہ، واشک، خاران اور چاغی میں خشک گرمی پڑنے کا امکان ہے جبکہ ہیٹ ویو کا بھی خدشہ ہے۔
ایسے میں بڑھتی گرمی جہاں عام لوگوں کو متاثر کر رہی ہے وہیں ہیٹ ویو سے فصلوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے۔
خالد حسین باٹھ چیئرمین کسان اتحاد کے مطابق ہیٹ ویو کا اثر جس طرح انسانی جسم پر ہوتا ہے ویسی ہی شدید گرمی سے فصلوں کے تباہ ہونے کا بھی خدشہ رہتا ہے۔ شدید گرمی میں جب فصل کاشت کی جاتی ہے تو اس کا بیج گرمی کو برداشت نہیں کر سکتا ایسی صورت میں ہماری اگلی پیدا ہونے والی فصلیں جل سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ شدید گرمی کے دوران فصلوں کی پیداوار میں بھی کمی دیکھنے کو ملتی ہے۔ ماضی میں جب موسم مناسب تھا تو ہمارے پاس 50 سے 60 من ایکڑ گندم عام طور پر حاصل ہوتی تھی لیکن سردی کمی ہونے سے اب گندم کی پیداوار 20 سے 25 من فی ایکڑ پر آگئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: موسمیاتی تبدیلی نے امریکا اور میکسیکو میں ہیٹ ویو کا امکان 35 گنا بڑھا دیا
خالد حسین باٹھ نے بتایا کہ گرمی کی شدت میں اضافے سے سب سے زیادہ نقصان بلوچستان کے نہری علاقوں کو ہو رہا ہے جہاں پانی کم ہوتا جا رہا ہے، اگر صورتحال یوں ہی رہی تو فصلوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے، ایسے میں حکومت کو کوئی ایسا بیج کسانوں کو دینا ہوگا جو شدید گرمی میں بھی پیداوار جاری رکھ سکے، اگر ایسا نہیں ہوا تو کسانوں کا اربوں روپے کا نقصان ہوگا اور غذائی قلت بھی پیدا ہوسکتی ہے۔
وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر محمود احمد نے بتایا کہ بلوچستان میں گرمی کی شدید میں اضافہ ہوا ہے اور ہیٹ ویو سے متاثرہ افراد کا ہسپتالوں میں رش بڑھ سکتا ہے، ایسے میں جہاں حکومت اپنے اقدامات کر رہی ہیں وہیں ہیٹ ویو سے بچاؤ ضروری ہے۔ ہیٹ ویو کے دوران اگر احتیاط نہ برتی جائے تو ہیٹ اسٹروک ہونے کا خدشہ رہتا ہے، ہیٹ اسٹروک کی چند علامات میں پسینہ آنا، کمزوری یا تھکن محسوس ہونا، چکر آنا، دل کی دھڑکن تیز ہو جانا، متلی یا قے آنا، سر درد کرنا، بخار ہونا، جلد کا سرخ یا خشک ہو جانا، سانس لینے میں دشواری، بے ہوشی طاری ہونا شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: ہیٹ ویو: فالج سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟
ڈاکٹر محمود احمد نے بتایا کہ ہیٹ اسٹروک سے بچنے کے لیے چند اہم اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے۔ پانی اور دیگر مشروبات کا زیادہ سے زیادہ استعمال کرنا چاہیے۔ دھوپ سے بچنا بھی ضروری ہے بالخصوص صبح کے 11 بجے سے 4 بچے تک دھوپ سے اجتناب کیا جائے۔ ہلکے رنگ کے کھلے کپڑے پہننا بھی ضروری ہے۔ اس کے علاوہ غذا میں گوشت کا استعمال کم کرکے پھلوں اور سبزیوں کے استعمال کو یقنی بنانے سے ہیٹ اسٹروک سے بچا جا سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بلوچستان زراعت سبی فصلوں کا نقصان کاشتکاری گرمی کی لہر موسمیاتی تبدیلی ہیٹ ویو.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بلوچستان فصلوں کا نقصان کاشتکاری گرمی کی لہر موسمیاتی تبدیلی ہیٹ ویو ہیٹ اسٹروک کا امکان سے زیادہ گرمی کی ہیٹ ویو سکتا ہے
پڑھیں:
ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
ماہرین فلکیات نے نظام شمسی سے باہر موجود سیاروں (ایگزوپلینیٹس) میں مقناطیسی میدانوں کے شواہد دریافت کر لیے ہیں جسے اس حوالے سے اب تک کا مضبوط ترین ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا پلوٹو کو سیارے کا درجہ دوبارہ مل جائے گا، یہ سیاروں کی فہرست سے نکالا کیوں گیا؟
سائنس دانوں نے چلی اور ہوائی میں نصب جدید دوربینوں کی مدد سے 7 بڑے اور انتہائی گرم گیسوں پر مشتمل سیاروں کا مشاہدہ کیا۔ تحقیق کے دوران ان سیاروں کی فضائی ہواؤں کے غیرمعمولی رویے کا جائزہ لیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ ان پر مقناطیسی میدان موجود ہیں۔
یہ تحقیق جریدے نیچر آسٹرونومی میں شائع ہوئی ہے اور اس کے مطابق مقناطیسی میدان وہ غیر مرئی قوت ہے جو کسی سیارے کے اندر موجود پگھلے ہوئے دھاتی مواد کی حرکت اور اس کی گردش سے پیدا ہوتی ہے۔
تحقیق کی سربراہ اور فرانس کے آبزرویٹری ڈی لا کوٹ ڈی آزور سے وابستہ ماہر فلکیات جولیا سیڈل کے مطابق سائنس دانوں کی توقع تھی کہ زیادہ گرم سیاروں پر ہوائیں زیادہ تیز ہوں گی کیونکہ وہاں توانائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے لیکن مشاہدات میں اس کے برعکس نتائج سامنے آئے۔
مزید پڑھیے: 45 نئے سیارے دریافت جہاں زندگی کے امکانات موجود ہیں
انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ گرم سیاروں پر ہواؤں کی رفتار توقع سے کم دیکھی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ستاروں سے ملنے والی اضافی توانائی کسی اور طریقے سے ضائع ہو رہی ہے۔
ان کے مطابق اس کی سب سے ممکنہ وجہ مقناطیسی میدان اور فضا میں موجود برقی ذرات کے درمیان تعامل ہے۔
تحقیق میں شامل ساتوں سیارے اپنے ستاروں کے انتہائی قریب گردش کرتے ہیں۔ ان کا ایک حصہ مسلسل ستارے کی طرف جبکہ دوسرا حصہ ہمیشہ تاریکی میں رہتا ہے۔ اس قسم کے سیاروں کو ’ہاٹ جیوپیٹر‘ کہا جاتا ہے کیونکہ ان کا حجم اور ساخت مشتری سے ملتی جلتی ہوتی ہے تاہم ان کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے۔
ان سیاروں پر ہواؤں کی رفتار بعض مقامات پر 25 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی جو نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری کی ہواؤں سے بھی زیادہ ہے۔
مزید پڑھیں: سب سے چھوٹے سیارے عطارد کا وجود ایک معمہ، جانیے اس پراسرار جہان کی حقیقت؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ نظام شمسی کے بیشتر سیاروں میں مقناطیسی میدان موجود ہیں اس لیے یہ بات حیران کن نہیں کہ دوسرے نظاموں کے سیاروں میں بھی یہ خصوصیت پائی جائے تاہم اب تک اس کے واضح شواہد دستیاب نہیں تھے۔
تحقیق میں شامل جرمنی کے یورپی جنوبی رصدگاہ سے وابستہ ماہر فلکیات بیبیانا پرنوتھ کے مطابق مقناطیسی میدان کسی سیارے کو قابلِ رہائش بنانے کا واحد عنصر نہیں لیکن یہ طویل عرصے تک فضا کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ زندگی کے لیے فضا کا موجود ہونا انتہائی ضروری ہے کیونکہ فضا سطحی دباؤ کو برقرار رکھنے، درجہ حرارت کو متوازن رکھنے اور زمین کی طرح مائع پانی کے وجود کو ممکن بناتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: زمین جیسے سیارے کی تلاش ایک دلچسپ جدوجہد، سائنسدان پرامید
ماہرین کے مطابق اگرچہ اس تحقیق میں شامل تمام سیارے گیسوں پر مشتمل ہیں اور زندگی کے لیے موزوں نہیں سمجھے جاتے تاہم ان میں مقناطیسی میدانوں کی موجودگی کی دریافت مستقبل میں زمین جیسے چٹانی سیاروں کے مطالعے اور قابلِ رہائش دنیاوں کی تلاش میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ مقناطیسی میدان رکھنے والے سیارے نظام شمسی ہاٹ جیوپیٹر