پاکستان کے راستے تجارت بند، بھارت کو 1.14 ارب ڈالر کا نقصان
اشاعت کی تاریخ: 28th, April 2025 GMT
پاکستان بزنس فورم کے مطابق بھارت نے اپریل 2024ء سے جنوری 2025ء کے درمیان پاکستان کو تقریبا پچاس کروڑ ڈالر کی اشیا برآمد کیں جبکہ بھارت سے پاکستان کی درآمدات صرف چار لاکھ بیس ہزار ڈالر رہ گئیں جو کہ تجارتی عدم توازن کو ظاہر کرتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان کے راستے افغانستان تک تجارت بند ہونے کے باعث بھارت کو ایک ارب 14 کروڑ ڈالر کا تجارتی نقصان ہو رہا ہے، جس کی تصدیق پاکستان بزنس فورم نے کی ہے۔ فورم کے مطابق پاکستان کی سرزمین سے افغانستان کے راستے بھارت کا سامان پہنچنے کا تخمینہ تقریباً چونسٹھ کروڑ ڈالر سالانہ ہے جو اب متاثر ہو رہا ہے۔ پاکستان بزنس فورم نے مزید بتایا کہ بھارت نے اپریل 2024ء سے جنوری 2025ء کے درمیان پاکستان کو تقریبا پچاس کروڑ ڈالر کی اشیا برآمد کیں جبکہ بھارت سے پاکستان کی درآمدات صرف چار لاکھ بیس ہزار ڈالر رہ گئیں جو کہ تجارتی عدم توازن کو ظاہر کرتا ہے۔ فورم نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی پر بھی سخت تنقید کی اور اس فیصلے کو جنوبی ایشیا میں استحکام کے لیے مضحکہ خیز اور نقصان دہ قرار دیا۔ پاکستان بزنس فورم نے کہا کہ اس فیصلے کے نتیجے میں نہ صرف تجارتی روابط متاثر ہو رہے ہیں بلکہ خطے میں سیاسی اور اقتصادی تعلقات پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پاکستان بزنس فورم کروڑ ڈالر فورم نے
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔