WE News:
2026-06-03@04:59:25 GMT

’پھنس گئے ہیں موذی جی‘

اشاعت کی تاریخ: 28th, April 2025 GMT

22 اپریل 2025 کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں سیاحوں پر ایک مشکوک حملہ ہوا ہے، حسب روایت انڈیا نے اس بار بھی لمحہ ضائع کیے بغیر اس کا الزام پاکستان پر دھر دیا۔ انڈیا نے صرف الزام ہی نہیں لگایا بلکہ 24 گھنٹے کے اندر اندر صورتحال کو جنگی ماحول میں بھی بدل دیا، مسخرے پن میں انڈین سیاستدان اپنی مثال آپ ہیں، حالات نارمل ہوں تو یہ واشنگٹن، ماسکو اور برسلز جا کر کہتے ہیں:

’ہم علاقائی سپر طاقت ہیں، ہمارا مقابلہ چائنا سے ہے‘

لیکن الیکشن آجائے تو کہتے ہیں:

’ہمیں ووٹ دیجیے، کیونکہ پاکستان کا مقابلہ بس ہم ہی کرسکتے ہیں‘

عقل کے کسی بھی پیمانے پر پرکھ لیجیے، آبادی، رقبے، معیشت اور فوجی طاقت کے لحاظ سے پاکستان سے کئی گنا بڑے ملک کے سیاستدان اپنے عوام سے ووٹ اس وعدے پر مانگ سکتے ہیں کہ ہم تمہیں پاکستان سے بچائیں گے، اور ووٹرز کا یہ حال کہ وہ اسی وعدے پر 75 سال سے ووٹ دے بھی رہے ہیں۔ گویا جیسے راجا ویسی ہی پرجہ۔ اب اسی معاملے کا اگلا رخ دیکھیے کہ اگر کبھی پاکستان کے ساتھ تناؤ کی صورتحال پیدا ہوجائے تو پھر یہ واشنگٹن، ماسکو اور برسلز جا کر کہتے ہیں:

’اپن کو پاکستان سے شدید خطرہ ہے، اپن کی مدد کرو‘

گورے ایک دوسرے کی شکل تکنے لگتے ہیں کہ یہ نمونہ تو جب پچھلی بار آیا تھا تو کہہ رہا تھا ہم علاقائی سپر طاقت ہیں، ہمارا مقابلہ چائنا سے ہے۔ یوں گورے کو یہ فکر لاحق ہوجاتی ہے کہ ہم ان کے بھروسے چین سے پنگے لے رہے ہیں؟ جنہیں چھوٹے سے پاکستان کے خلاف ہماری مدد درکار ہے، وہ چین جیسے عالمی دیو کے خلاف ہماری کوئی مدد کرسکیں گے؟ سفارتی محاذ پر ہی ایک اور چیز دیکھیے۔

جب امریکی مداخلت پر کارگل کی جنگ بند ہوئی تو پروپیگنڈا یہی کیا گیا تھا کہ پاکستان اس جنگ میں بری طرح پھنس گیا تھا۔ سو یہ جنرل مشرف تھے جنہوں نے نواز شریف سے کہاکہ امریکا جا کر اس جنگ سے ہماری جان چھڑائیے، اور جب نواز شریف گئے تو ان پر ساز باز کا الزام لگا کر اقتدار سے برطرف کردیا گیا۔ یہی آپ نے پڑھ اور سن رکھا ہے ناں؟ کیا آپ جانتے ہیں بھارت اور امریکا کے کئی اہم ترین افراد اسی موضوع کو اپنی کتب میں زیر بحث لاچکے ہیں؟ جاننا چاہیں گے کہ اس وقت کے انڈین وزیر خارجہ جسونت سنگھ سمیت کئی ٹاپ سفارتکاروں نے اس موضوع پر کیا لکھا ہے؟ حوالے کئی ہیں، آپ بس تین پر گزارہ کر لیجیے۔ سابق انڈین وزیر خارجہ جسونت سنگھ اپنی کتاب A Call to Honour: In Service of Emergent India میں لکھتے ہیں:

’کارگل تصادم کے دوران میں امریکی وزیر خارجہ میڈیلین آلبرائٹ اور نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر سینڈی برگر کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھا۔ ہم نے امریکا کو مطلع کیا کہ پاکستان نے لائن آف کنٹرول عبور کی ہے اور یہ جارحیت ہے، ہم نے امریکی سفارتی مداخلت کی درخواست کی تاکہ پاکستان کو روکا جا سکے۔‘

اسی موضوع پر سابق انڈین سیکریٹری خارجہ شیام سرن اپنی کتاب How India Sees the World: Kautilya to the 21st Century میں فرماتے ہیں:

’بھارت نے چالاک سفارتکاری کے ذریعے یہ یقینی بنایا کہ بین الاقوامی برادری جس کی قیادت امریکا کررہا تھا، کارگل جارحیت کا مکمل الزام پاکستان پر عائد کرے۔ یہ ایک نادر لمحہ تھا جب دنیا کی رائے مکمل طور پر بھارت کے حق میں تھی۔‘

انڈیا ہی کیا آپ امریکا کا حوالہ بھی لیجیے۔ بروس رائیڈل کلنٹن انتظامیہ میں قومی سلامتی کونسل کے سینیئر ڈائریکٹر برائے جنوبی ایشیا تھے۔ وہ اپنی کتاب Avoiding Armageddon: America, India, and Pakistan to the Brink and Back میں رقم طراز ہیں:

’کارگل میں امریکا نے خاموشی لیکن مؤثر انداز میں پاکستان کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے کے لیے کام کیا۔ کلنٹن نواز شریف سے سخت ناراض تھے اور انہوں نے فوری طور پر پاکستانی افواج کو بھارتی علاقے سے واپس بلانے کا مطالبہ کیا۔‘

آپ کو ان حوالوں میں کہیں بھی یہ نظر آتا ہے کہ پاکستان کارگل میں پھنس گیا تھا، اور یہ پاکستان تھا جس نے امریکا سے رابطہ کیا تھا کہ ہمیں اس صورتحال سے نکالیے اور جنگ بندی کی کوئی سبیل پیدا کیجیے؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ انڈیا تھا جو لڑنے کے بجائے سفارتی محاذ پر امریکا سے بھیک مانگ رہا تھا کہ فار گاڈ سیک ہماری پاکستان سے جان چھڑائیے۔ اور امریکا نے اس کی یہ درخواست قبول کرلی، مگر سوال یہ ہے کہ اگر آج کی تاریخ میں انڈیا صرف دھمکیوں تک نہیں رہتا بلکہ کوئی جنگی قدم بھی اٹھا لیتا ہے تو کیا امریکا اسے بچائے گا؟

ہمارے نزدیک صورتحال یہ ہے کہ اس بار امریکا درپردہ پاکستان کی مدد کرسکتا ہے، اور بیک ڈور سے کہہ سکتا ہے کہ ’اور مارو، بلکہ مارو کم اور گھسیٹو زیادہ‘ کیوں؟ یہ امکان کیوں ہے؟ آپ موجودہ عالمی سیاسی منظر نامہ دیکھیے۔ دنیا دو بلاکوں میں تقسیم ہوچکی۔ چند سال قبل انڈیا کے کہنے پر برکس میں پاکستان کی انٹری روکی گئی تو انڈیا نے بغلیں بجائیں۔ ہماری طرف ’سیانے‘ مسکرائے اور چپ کرکے مناسب وقت کا انتظار کرنے لگے۔ وہ جانتے تھے کہ برکس جن کے خلاف بنایا گیا ہے وہی وقت آنے پر ہمارے کام آئیں گے، چنانچہ لمحہ موجود میں صورتحال یہ کہ مغرب کو برکس کا سب سے نازک پرزہ انڈیا ہی لگتا ہے، چنانچہ پچھلے دو برسوں کے دوران آپ دیکھ چکے ہوں گے کہ مغرب اسی نازک پرزے پر مسلسل دباؤ ڈالے جا رہا ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے کینیڈا نے اپنے سکھ شہری کی موت کا الزام مودی حکومت پر بس ویسے ہی لگایا ہے؟ یہ بھی اسی دباؤ کا حصہ ہے۔

چنانچہ موجودہ صورتحال میں اگر انڈیا جنگ کی طرف جاتا ہے تو کوئی شک نہیں کہ مغربی اتحاد اسے بچانے نہیں آئے گا، بلکہ اس صورتحال کو انڈیا کے خلاف مؤثر انداز میں استعمال کرنے کی کوشش کرے گا۔ سوال یہ بھی ہے کہ کیا برکس کی طرف سے ہم پر دباؤ آسکتا ہے؟ برکس کی جانب سے ہم پر دباؤ کوئی نہیں آسکتا، کیونکہ ہماری ممبر شپ کی درخواست مسترد کرکے یہ چینل وہ خود ہی بند کرچکے، ہاں ہمیں برکس کی جانب سے لالچ ضرور دیا جاسکتا ہے، اور وہ لالچ برکس میں انٹری کا ہوگا، ہم پر دباؤ کے معاملے میں برکس کی صورتحال بہت ہی دلچسپ ہوگی، کیونکہ برکس کے دو پاور ہاؤس ہیں۔ ایک ماسکو، دوسرا بیجنگ، ماسکو دلی کا خالو لگتا ہے تو بیجنگ اسلام آباد کا ماموں، اور صورتحال یہ ہے کہ بیجنگ کا دلی کی طرف بہت بھاری ادھار چل رہا ہے جس کے نتائج ہم آئے روز دیکھتے ہیں۔ جبکہ ماسکو کو اسلام سے کوئی شکایت نہیں۔ مگر روس اور چین اس صورتحال سے لاتعلق بھی نہیں رہ سکتے کیونکہ پوری برکس داؤ پر لگی ہوگی۔ یوں برکس کے ان دونوں بڑوں کے پاس بس ایک ہی آپشن بچتی ہے، وہ یہ کہ مسئلے کا کوئی پائیدار حل نکالیں ورنہ انڈیا کا برکس کا نازک پرزہ ہونا برکس کی سب سے بڑی کمزوری کے طور پر برقرار رکھنا وہ افورڈ نہیں کرسکتے۔ امریکا اس کا فائدہ اٹھائے بغیر رہے گا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ مسئلے کے پائیدار حل سے کیا مراد ہے؟ دیکھیے صاحب، مسئلہ تو ایک ہی ہے، مسئلہ کشمیر۔ پلیز اب یہ نہ پوچھیے گا کہ پائیدار حل سے کیا مراد ہے؟

پہلگام والی شاٹ ماری کس نے ہے، یہ ہم نہیں جانتے، مگر تجزیہ کار کے طور پر یہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ پائیدار حل کے لیے گیند پہنچ برکس کے ہی کورٹ میں گئی ہے، برکس نے نظر انداز کیا تو ٹرمپ جانے دے گا؟ وہ تو انتظار میں بیٹھا ہوگا کہ جسونت سنگھ کی طرح موجودہ وزیر خارجہ جے شنکر جی بھی رابط فرمائیں، مگر سوال یہ ہے کہ بھارتی دفتر خارجہ کے بابو امریکا سے رابطے کی غلطی کرسکتے ہیں؟ یہ رابطہ برکس ہضم کرجائے گا؟ یہی وہ صورتحال ہے جس کی وجہ سے ہمیں نہیں لگتا کہ انڈیا حملے کی غلطی کرسکتا ہے، جنگ سپلائی لائن کے بغیر نہیں لڑی جاسکتی، سپلائی لائن کی صورتحال یہ ہے کہ روس خود جنگ لڑ رہا ہے وہ انڈیا کو سپلائی نہیں دے سکتا، مغرب سے سپلائی مانگے گا تو وہ بدلے میں برکس سے علیحدگی مانگیں گے، اور ساتھ یہ ڈراوے بھی دیں گے کہ بھئی فیصلہ جلدی کرو ورنہ اگلے تو لال قلعہ پر پرچم لہرانے کی تیاری کرچکے ہیں۔ جس کا مطلب ہے کہ مودی جی جنہیں ہم پیار سے ’موذی جی‘ کہتے ہیں بری طرح پھنس گئے ہیں، شاید یہی وجہ کہ ڈینگیں بھی بڑی بڑی مار رہے ہیں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

رعایت اللہ فاروقی

wenews اقوام متحدہ امریکا انڈیا پاک بھارت کشیدگی پاک فوج پاکستان بھارت جنگ چین رعایت اللہ فاروقی روس کارگل جنگ مودی سرکار موذی جی وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اقوام متحدہ امریکا انڈیا پاک بھارت کشیدگی پاک فوج پاکستان بھارت جنگ چین رعایت اللہ فاروقی کارگل جنگ مودی سرکار وی نیوز صورتحال یہ پائیدار حل کہ پاکستان پاکستان سے کہتے ہیں یہ ہے کہ سوال یہ برکس کی کے خلاف ہیں کہ

پڑھیں:

جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم

سٹی 42: علیمہ خانم  نے  فیکٹری ناکہ پر میڈیا ٹاک  کرتے ہوئے کہا آج بھی بانی سے ملاقات کے لئے آئے ہیں یہ ہمارا آئینی قانونی حق ہے

علیمہ خانم نے کہااگر آج ملاقات نہ ہوئی تو دیکھیں گے ،اگر بانی کے لئے کھڑے نہ ہوں تو کیا کریں آپکا خیال ہے یہاں کچھ قانون کی مطابق چل رہا ہے،کونسا قانون ہے۔ہم عدلیہ اور آزاد میڈیا کے لئے کھڑے ہیں۔ہم اپنے دفاع میں آپ لوگوں(میڈیا)کو پیش کریں گے۔انکو تو جیل میں ڈالنے کا بہانہ چاہیئے،کس کس کو ڈالیں گے جیل میں۔بانی کہہ چکے کہ پاکستان اسی طرف جا رہا ہے جس طرف نیپال،بنگلہ دیش اور سری لنکا گئے۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

بانی سے سابق آرمی چیف کی ملاقات کے بارے میں بیرسٹر گوہر سے پوچھا تھا ۔بانی سے ملنے کوئی نہیں گیا،یہ فیک ہے،جان بوجھ کر دیا انفارمیشن پھیلا رہے ہیں ۔

جب انکو لگتا ہے ٹمپریچر اوپر جا رہا ہے،اسکو ٹھنڈا کرنے کے لئے یہ باتیں شروع ہو جاتی ہیں ڈیل کی ۔میں نے بیرسٹر گوہر سے محسن نقوی کی ملاقات کا پوچھا تھا تو انھوں نے کہا تھا کہ ملے ہیں ۔

بیرسٹر گوہر ن نے کہا محسن نقوی کہتے ہیں کہ کل آپ کی ملاقات کروا دیتے ہیں ۔میں نے کہا وہ جھوٹ بولتے ہیں آپ ان کو کہیں کہ وہ بانی کو اسپتال میں علاج کروائیں۔بیرسٹر گوہر کو کہا تھا کہ آپ نے ملاقات کرنی ہوتو ہم سب کو بتا دو،اسی طرح ہونا چاہیئے ۔کچھ نہیں ہو رہا،اپکو نظر آرہا ہے کہ کچھ ہو رہا ہے ۔یہ خوف سے بھرے ہوئے ہیں،یہ خوف نظر نہیں آرہا،اج سڑک پر کرفیو لگا دیا ہے ۔وہ کہتے ہیں بشری بی بی کی بیٹی سے ملاقات کے بعد سوال میں پوچھنا ۔انکا مطلب یہ ہے کہ بانی کی صحت کے بارے میں نہیں پوچھنا ۔مجھے نہیں پتہ یہ ملاقاتیں کس مقصد کے لئے ہوتی ہیں۔ہمیں یہ پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے ہیں،حکومت یہ چیزیں کرکے اپنا خوف دکھا رہی ہے ۔نئی سیاست بانی کو رہا کروانا ہے،جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا 

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

جب آپ ووٹ چوری کرو گے تو اسکے نتائج کیا ہوں گے؟جب وہ بے بسی محسوس کریں گے آپ جان جان کے جھوٹے الیکشن کروا گے،لاٹھی چارج کرو،یہ ڈرامہ کر رہے ہو،ظلم کر رہے ہیں۔آپ انکے امیدواروں کو مار رہے ہو یہ خوفزدہ لوگ کرتے ہیں ۔یہ پی ٹی آئی کا نہیں لوگوں کا حق ہے،آپ نے کسی کو گرفتار کرلیا،کسی کو جہاز نہیں چڑھنے دیا کیا فرق پڑا ۔ان کے پیچھے عوام نہ کھڑی ہو وہ یہی کرتے ہیں ۔ظلم وہ کرتا ہے جسکے ساتھ عوام نہیں ہوتی ۔وہ بانی کو کہہ رہے ہیں منہ بند رکھو،

 نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ

ایران کو دیکھ لیں لیڈر قربانیاں دے رہے یہ انکے لئے نارمل چیز ہے ۔بانی اپنی جان کی قربانی دینے کو تیار ہے،وہ ان لوگوں کے ساتھ کیا ڈیل کرکے نکلے گا ۔ڈیل ایک ہی ہے آزاد عدلیہ،ازاد اور منصفانہ انتخابات  ۔آپ عدلیہ ازاد کریں،ازاد منصوبہ انتخابات کون یقینی بناتا ہے آزاد عدلیہ۔

افغانستان اور پاکستان کے دونوں اطراف رشتے دار ہیں ،بانی کہتے ہیں یہ حکومت انکے فیور میں ہے،یہ جان جان کر اس حکومت سے چھیڑا چھاڑی کررہے ہیں ۔اپنے ہمسائے کے ساتھ بہت اچھا بنا کر رکھنی چاہیئے۔

 آزاد کشمیر:تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی چھٹیوں کا اعلان

افغانستان اپنی زاد خارجہ پالیسی کے تحت روس،چین کے ساتھ معاہدے کرکے ملک کر ترقی کی جانب لیکر جا رہے ہیں ۔آپ نے بارڈر اور ایکسپورٹ بند کرکے ملک بلین ڈالرز کا نقصان کردیا۔ ہم انکے ساتھ ایکسپورٹ بند کریں گے وہ ایران سے لے لیں گے،ایران کی ایکسپورٹ بڑھ جائے گی ۔وہ پارٹیاں نہیں لوٹ مار کی کمپنیاں ہیں،

ہم بھائی کے لئے کھڑے ہیں ہر چیز کریں گے ۔اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو بانی سے سلیکٹ کیا،کہ وہ میچور سیاستدان ہیں ۔سیدھی سے بات ہے جو انکا قانونی حق ہے وہ دے دیں ۔ بانی کو بھی پتہ ہے ان پر پریشر ڈالیں گے تو میز پر بیٹھیں گے

لاہور بورڈ کا بڑا فیصلہ، داخلہ فارم مکمل طور پر آن لائن کرنے کی تجویز

متعلقہ مضامین

  • امریکا کیوں ایران سے ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے؟ امریکی ڈیموکریٹک سینیٹر کے وزیر خارجہ سے سخت سوالات
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار