پہلگام حملے کے 5 منٹ بعد پاکستان پر الزام نامناسب، دنیا پاک بھارت کشیدگی کم کرائے، سابق امریکی نائب وزیر خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 28th, April 2025 GMT
سابق امریکی نائب وزیر خارجہ برائے جنوبی ایشیا رابن رافیل نے پاکستان کی اس تجویز کی حمایت کی ہے کہ پہلگام حملے کی تحقیقات غیرجانبدار ماہرین سے کرائی جائیں۔
ہارورڈ یونیورسٹی میں جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں ںے کہاکہ بھارت نے پہلگام واقعے کے 5 منٹ بعد ہی پاکستان پر الزام لگا دیا جو نامناسب ہے، پاکستان کی جانب سے غیرجانبدارانہ تحقیقات کی پیشکش مثبت پیشرفت ہے۔
یہ بھی پڑھیں پہلگام واقعے پر مختلف ممالک کا سفارتی ردعمل کیا رہا؟
انہوں نے کہاکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے عالمی برادری کو کردار ادا کرنا چاہیے۔
واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں سیاحوں پر حملے کے 5 منٹ بعد ہی بھارت نے بغیر شواہد پاکستان پر الزام عائد کردیا، اور یکطرفہ اقدام کرتے ہوئے سندھ طاس معاہدہ معطل کردیا۔
پاکستان نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے بھارت کے ساتھ تجارت معطل کردی، اور فضائی حدود بھی بند کردی ہے، اس کے علاوہ واضح کیا ہے کہ اگر پاکستان کا پانی بند کیا گیا تو جنگ ہوگی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے جب پاک بھارت کشیدگی پر سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ دونوں ذمہ دار ممالک ہیں، مسئلے کا کوئی حل نکال لیں گے۔
یہ بھی پڑھیں دونوں ممالک حل ڈھونڈ نکالیں گے، پاک بھارت کشیدگی پر ٹرمپ تبصرہ
بھارت اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر اپنے پہلے ریمارکس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کشمیر کے تنازعے کو ایک پرانا تنازع قرار دیتے ہوئے دونوں ممالک کے ساتھ اپنے قریبی تعلقات کا حوالہ بھی دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews امریکا پاک بھارت جنگ پاکستان بھارت کشیدگی پاکستان پر الزام پہلگام واقعہ ڈونلڈ ٹرمپ رابن رافیل سابق امریکی نائب وزیر خارجہ عالمی برادری وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا پاک بھارت جنگ پاکستان بھارت کشیدگی پاکستان پر الزام پہلگام واقعہ ڈونلڈ ٹرمپ رابن رافیل سابق امریکی نائب وزیر خارجہ عالمی برادری وی نیوز پاکستان پر الزام بھارت کشیدگی پاک بھارت
پڑھیں:
آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔
مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔
وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔
مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔