سابق امریکی نائب وزیر خارجہ نے بھارت کی جانب سے پہلگام حملےکے 5 منٹ بعد پاکستان پر الزام لگانے کو نا منا سب قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 28th, April 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)امریکہ کی سابق نائب وزیر خارجہ برائے جنوبی ایشیا رابن رافیل نے وزیراعظم شہباز شریف کی پہلگام حملےکی تحقیقات غیر جانبدار ماہرین سے کرانے کی تجویز کی حمایت کردی۔ہارورڈ یونیورسٹی میں جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک کے میزبان حامد میر سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ پہلگام حملے پر پاکستان کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کی پیشکش مثبت پیشرفت ہے، واقعے کے صرف 5 منٹ بعد کسی پر الزام لگانا انتہائی نامناسب ہے۔امریکہ کی سابق نائب وزیر خارجہ برائے کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کو حالیہ پاک بھارت کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری کردار ادا کرنا چاہیے۔
لندن میراتھن میں 40 پاکستانیوں کی شرکت، کینیا کے سیباسشین ساوے فاتح قرار پائے
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
ٹرمپ کا ایران سے تحریری وعدے کا مطالبہ!
امریکی ذرائع کے مطابق، بین الاقوامی معاہدوں پر "انتہائی کم عمر دستخط" کے حامل انتہاء پسند امریکی صدر نے اس بار تہران سے "موجودہ تعطل پر قابو پانے کیلئے" تحریری عزم کا مطالبہ کیا ہے اسلام ٹائمز۔ امریکی حکام نیز ایک باخبر ذریعے سے نقل کرتے ہوئے امریکی چینل اے بی سی نیوز نے انکشاف کیا ہے کہ انتہاء پسند امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خواہش ظاہر کی ہے کہ تہران اس مرتبہ، "امریکہ کے ساتھ ابتدائی معاہدے" کے طور پر، مخصوص جوہری رعایتیں تحریری انداز میں پیش کرے۔ اے بی سی کے ذرائع نے تفصیلات فراہم کئے بغیر دعوی کیا کہ ایرانی مذاکراتکاروں نے پہلے زبانی طور پر اس بات کی ضمانت دی تھی کہ تہران بالآخر اپنے "جوہری پروگرام" سے متعلق کچھ شرائط پر راضی ہو جائے گا لیکن امریکی صدر نے جمعے کے روز سیچویشن روم میں ہونے والی ملاقات میں یہ نتیجہ اخذ کیا کہ یہ وعدے کافی مضبوط نہیں۔
ادھر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے منگل کے روز سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سامنے اپنی رپورٹنگ کے سیشن کے دوران کسی بھی معاہدے پر پہنچنے سے قبل، ایران سے ٹرمپ انتظامیہ کی توقعات کی تفصیلات بتائی ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کے دیگر اہلکاروں کی طرح ایران کے لئے گوناگوں شرائط بیان کرتے ہوئے، واشنگٹن کی جانب سے تہران کو دی جانے والی مراعات کے بارے مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ تفصیلات، اور اسی طرح تہران کے لئے مالی مراعات کا تعین بھی بعد میں کیا جائے گا۔ انتہاء پسند امریکی صدر سے نقل کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ مثال کے طور پر، اُنہیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم افزودہ یورینیم کو ضائع کر دیں گے.. اور اب سوال یہ ہے کہ ایسا کرنے کا طریقہ کار کیا ہے؟.. اور یہ بات مذاکرات کے قابل ہے!