معروف چینی کمپنی کی جانب سےکم قیمت اورمہران جیسی چھوٹی الیکٹرک کار لانچ ، اہم خصوصیات اور قیمتیں کیا ؟ جانیں
اشاعت کی تاریخ: 28th, April 2025 GMT
چینی الیکٹریکل وہیکل کمپنی ’’نیو‘‘ نے شنگھائی آٹو شو 2025ء میں اپنی نئی چھوٹی اور الیکٹرک کار فائر فلائی لانچ کردی۔
ماہرین کے مطابق فائر فلائی پاکستان کیلئے ’’الیکٹرک مہران‘‘ ثابت ہوسکتی ہے، نیو کی فائر فلائی کمپنی کی منصوبہ بندی کا مرکزی حصہ ہے تاکہ یہ 5 براعظموں کی 16 نئی مارکیٹس میں قدم رکھ سکے۔نیو کمپنی کے سی ای او ولیم لی نے بتایا کہ فائر فلائی کئی ممالک میں تیسری پارٹی کے ڈسٹری بیوٹرز اور مقامی پارٹنرز کے ذریعے متعارف کرائی جائے گی جو کہ کمپنی کی پچھلی فروخت کے طریقے سے مختلف ہوگی۔
واضح امکان ہے کہ فائر فلائی پاکستان میں بھی جلد دستیاب ہوگی، کیونکہ یہاں کئی چینی کار کمپنیاں پہلے ہی مقامی ڈسٹری بیوٹرز اور مینوفیکچررز کے ساتھ پارٹنرشپ کررہی ہیں۔رپورٹ کے مطابق نیو نے فائر فلائی کو ایک چھوٹی، سستی گاڑی کے طور پر ڈیزائن کیا ہے جو عملی استعمال کیلئے بہترین ثابت ہوگی۔
کمپیکٹ سائز: فائر فلائی تنگ گلیوں اور مصروف شاہراہوں کیلئے مثالی ثابت ہوسکتی ہے، جو پاکستان کے شہری علاقوں کیلئے بہترین انتخاب ہوگی۔
رینج: نیو الیکٹرک فائر فلائی ایک چارجنگ پر 300 سے 400 کلومیٹر تک چل سکتی ہے، جو بیٹری کی قسم پر منحصر ہے۔
بیٹری سوئپنگ: یہ بیٹری سوئپ ٹیکنالوجی کو سپورٹ کرتی ہے، لیکن موجودہ سوئپ اسٹیشن ابھی اس کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہیں۔ نئے پانچویں نسل کے سوئپ اسٹیشنز جو اگلے سال تک متعارف ہوں گے، فائر فلائی کو نیو اور اونوو گاڑیوں کے ساتھ سپورٹ کریں گے۔
چارجنگ کے آپشنز: اگر بیٹری سوئپنگ دستیاب نہ ہو، تو گاڑی کو روایتی فاسٹ چارجنگ سے چارج کیا جا سکتا ہے۔
انٹیریئر ڈیزائن: سادہ ڈیزائن کے ساتھ ڈیجیٹل ڈسپلے اور اہم کنیکٹڈ سروسز، جیسے موبائل ایپ کنٹرولز اور اوور دی ایئر اپ ڈیٹس۔
قیمت: نیو کی لائن اپ میں فائر فلائی کار کے سب سے سستی گاڑی ہونے کی توقع کی جارہی ہے، یہ بجٹ دیکھ کر گاڑی خریدنے والوں کو متوجہ کرنے کیلئے ڈیزائن کی گئی ہے۔
کمپنی نے فائر فلائی کیلئے کنٹینر اسٹائل بیٹری سوئپ اسٹیشنز کا منصوبہ منسوخ کردیا ہے، تاہم نئے اسٹیشنز پر کام جاری ہے جس سے 2026ء تک انفرااسٹرکچر کے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔
ماہرین کہتے ہیں کہ اگر نیو پاکستان میں کسی مقامی ڈسٹری بیوٹر کے ساتھ شراکت داری کرے اور گاڑی کی قیمت مناسب رکھے، تو یہ پاکستانی ڈرائیورز کیلئے ایک سستی الیکٹرک گاڑی کا اچھا آپشن ہوسکتی ہے، بالکل ویسے ہی جیسے مہران نے کئی سالوں تک سستی سواری فراہم کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: فائر فلائی بیٹری سوئپ کے ساتھ
پڑھیں:
جیفری ایپسٹین کیس سے جڑے معروف نام ڈینیئل سیاد کی فرانس میں پراسرار موت
امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے جاری کی گئی بدنام زمانہ ’جیفری ایپسٹین فائلز‘ میں بارہا نام آنے والے ماڈلنگ اسکاؤٹ ڈینیئل سیاد فرانس میں اپنے گھر میں مردہ پائے گئے ہیں۔
فرانسیسی پراسیکیوٹرز نے ان کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے پوسٹ مارٹم کرایا جائے گا، جبکہ ان کے خلاف جاری فوجداری تحقیقات بھی ان کی وفات کے باوجود جاری رہیں گی۔
یہ بھی پڑھیں:ایپسٹین فائلز کا نیا حصہ جاری، ٹرمپ سے متعلق الزامات پر مبنی ایف بی آئی انٹرویوز کی دستاویزات منظر عام پر
پراسیکیوٹرز کے مطابق 69 سالہ ڈینیئل سیاد کی لاش پیرس کے نواحی علاقے میں واقع ان کے گھر سے پیر کی شام برآمد ہوئی۔ ابتدائی طور پر ان کی موت کی وجہ سرکاری طور پر سامنے نہیں آئی، تاہم پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد حتمی مؤقف اختیار کیا جائے گا۔
وکیل کا دعویٰ، موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئیڈینیئل سیاد کی وکیل، مینیا عرب تیگرین نے کہا ہے کہ ان کے مؤکل کا انتقال دل کا دورہ پڑنے کے باعث ہوا۔ بعض فرانسیسی میڈیا اداروں نے بھی ابتدائی اطلاعات کے حوالے سے یہی امکان ظاہر کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ان کی لاش گھر کے کچن سے ایک خاتون نے دیکھی، جو اس وقت ان کے ساتھ رہ رہی تھیں، جبکہ ایک پڑوسی نے انہیں بچانے کے لیے ‘سی پی آر’ بھی کی، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے۔
ایپسٹین فائلز کے بعد تحقیقات کا دائرہ وسیع ہوافرانسیسی حکام نے رواں سال فروری میں انسانی اسمگلنگ اور ٹیکس فراڈ سے متعلق وسیع تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔ یہ کارروائی امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے ایپسٹین فائلز جاری ہونے کے بعد سامنے آنے والی معلومات کے تناظر میں کی گئی۔
مزید پڑھیں:ایپسٹین فائلز: بینک آف امریکا متاثرہ خواتین کیس میں تصفیے پر مجبور
پیرس کی پراسیکیوٹر لور بیکو نے بتایا کہ تحقیقات شروع ہونے کے بعد اب تک 24 خواتین خود کو متاثرہ یا گواہ کے طور پر سامنے لا چکی ہیں، جنہوں نے ڈینیئل سیاد یا دیگر افراد کے خلاف مختلف الزامات سے متعلق بیانات ریکارڈ کرائے۔
نگرانی جاری رہی، مگر گرفتاری کے لیے شواہد ناکافی قرارپراسیکیوٹرز کے مطابق تحقیقات کے دوران ڈینیئل سیاد کی فون نگرانی سمیت خصوصی تفتیشی اقدامات کیے گئے تھے، تاہم اب تک ایسے شواہد سامنے نہیں آئے تھے جو فوری گرفتاری کے لیے قانونی طور پر کافی سمجھے جاتے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تقریباً 10 تفتیش کار اس کیس پر کام کر رہے ہیں اور ڈینیئل سیاد کی وفات کے باوجود تحقیقات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
سیاد نے تمام الزامات مسترد کیے تھےفرانسیسی میڈیا کے مطابق کم از کم 5 خواتین نے ڈینیئل سیاد پر ریپ اور انسانی اسمگلنگ کے الزامات عائد کیے تھے، تاہم انہوں نے ہمیشہ ان الزامات کی تردید کی۔
ان کے وکیل کا کہنا تھا کہ سیاد نے متعدد بار فرانسیسی عدالتی حکام کے سامنے اپنا مؤقف پیش کرنے کی درخواست کی، مگر اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ وکیل کے مطابق ان کے مؤکل آخر وقت تک اپنی بے گناہی پر قائم رہے۔
جیفری ایپسٹین سے تعلق کی وضاحتڈینیئل سیاد نے رواں سال مئی میں فرانسیسی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا جیفری ایپسٹین کے ساتھ تعلق صرف پیشہ ورانہ نوعیت کا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:’ایپسٹین فائلز ’خالص جہنم‘ ہیں، مغربی ادارے بچوں کی اسمگلنگ چھپاتے رہے، ماسکو
تاہم امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے جاری کی گئی ایپسٹین فائلز میں دونوں کے درمیان ای میلز بھی شامل تھیں، جن میں ماڈلز سے متعلق گفتگو کا ذکر موجود تھا۔ انہی دستاویزات میں ڈینیئل سیاد کا نام تقریباً 2 ہزار مرتبہ سامنے آیا۔
فرانس میں ایپسٹین سے منسلک دوسرے شخص کی موتڈینیئل سیاد فرانس میں ایپسٹین سے تعلق رکھنے والے دوسرے نمایاں فرد ہیں جن کی موت ہوئی ہے۔اس سے قبل فرانسیسی ماڈلنگ ایجنٹ ژاں لوک برونیل کو 2020 میں گرفتار کیا گیا تھا۔
ان پر الزام تھا کہ انہوں نے جیفری ایپسٹین کے لیے خواتین فراہم کیں۔ برونیل 2022 میں مقدمے کی سماعت سے قبل جیل کی کوٹھڑی میں مردہ پائے گئے تھے۔ انہوں نے بھی اپنے خلاف تمام الزامات کی تردید کی تھی۔
امریکی سرمایہ کار جیفری ایپسٹین کو کم عمر لڑکیوں کی اسمگلنگ کے الزامات کا سامنا تھا۔ وہ 2019 میں نیویارک کی جیل میں ٹرائل سے قبل مردہ پائے گئے تھے، جبکہ سرکاری طور پر ان کی موت کو خودکشی قرار دیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:ایپسٹین فائلز نے میری ازدواجی زندگی کی تکلیف دہ یادیں تازہ کر دیں، میلنڈا فرنچ گیٹس
بعد ازاں ان سے متعلق عدالتی دستاویزات اور ‘ایپسٹین فائلز’ منظرِ عام پر آنے کے بعد دنیا بھر میں کئی افراد اور نیٹ ورکس کی سرگرمیاں دوبارہ تحقیقاتی اداروں کی توجہ کا مرکز بن گئیں۔
ڈینیئل سیاد بھی انہی تحقیقات کے سلسلے میں فرانسیسی حکام کی زیرِ نگرانی تھے، تاہم ان کی وفات کے باوجود متعلقہ تحقیقات جاری رہیں گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی محکمہ انصاف انسانی اسمگلنگ پراسرار موت جیفری ایپسٹین ڈینیئل سیاد ریپ فائلز فرانس فرانسیسی میڈیا مردہ حالت وکیل