Express News:
2026-07-24@07:58:16 GMT

حکومت نے ٹرمپ کے ٹیرف کو کم کروانے کیلیے حکمت عملی بنالی

اشاعت کی تاریخ: 28th, April 2025 GMT

وفاقی حکومت نے پاکستانی مصنوعات پر امریکا کی جانب سے عائد اضافی ٹیرف سے نمٹنے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ سے مذاکرات کے لیے  رواں ہفتے اعلیٰ سطح کا وفد امریکا بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق وفد کی سربراہی وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان کریں گے، جس میں سیکرٹری تجارت، وزارت خزانہ اور دفتر خارجہ کے حکام بھی شامل ہوں گے۔

ذرائع کے مطابق امریکا کو پاکستان کے ساتھ تجارت میں تین ارب ڈالر خسارے کا سامنا ہے، جس کو کم کرنے کے لیے پاکستان امریکا سے درآمدات بڑھانے کی تجویز پیش کرے گا۔

تجویز کے تحت ہر ایک ارب ڈالر کی کمی پر ٹیرف میں 9 فیصد کمی ممکن ہے، تجویز میں امریکا سے پوما کپاس، مشینری، اور سویا بین آئل کی درآمدات بڑھانے اور بیڈ لینن، ڈینم، اور تولیوں کی برآمدات میں 50 کروڑ ڈالر اضافے کی بات کی جائے گی۔

پاکستان سالانہ ایک ارب ڈالر مالیت کی پوما کپاس درآمد کر سکتا ہے۔ امریکی انتظامیہ سے 29 فیصد مجوزہ ٹیرف میں کمی کے لیے بات چیت کی جائے گی جبکہ غیر ٹیرف رکاوٹوں کو ہٹانے اور تجارت بڑھانے پر بھی زور دیا جائے گا۔

اس سے قبل پاکستانی مصنوعات پر اوسط 9.

9 فیصد ٹیرف عائد تھا جس میں امریکا نے 90 روز کے لیے مزید 10 فیصد اضافہ کیا90 روز بعد 29 فیصد ٹیرف سے بچنے کے لیے حکمت عملی تیار کر لی ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کے لیے

پڑھیں:

سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا

نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔  نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی، عالمی منڈی میں تشویش کی لہر
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا