زرمبادلہ کی دونوں مارکیٹوں میں ڈالر مزید مہنگا ہوگیا
اشاعت کی تاریخ: 28th, April 2025 GMT
کراچی:
مختلف عوامل کے باعث ڈالر کی پیش قدمی جاری رہی، پیر کے روز زرمبادلہ کی دونوں مارکیٹوں میں ڈالر مزید مہنگا ہوگیا۔
ترسیلات زر میں اضافے، برآمدات میں مستحکم اضافے کی پیشگوئی اور عالمی مارکیٹ میں ایک ارب 40کروڑ ڈالر مالیت کے بانڈز کے اجراء جیسی مثبت اطلاعات کے باوجود زرمبادلہ کی دونوں مارکیٹوں میں پیر کو بھی اتارچڑھاو کے بعد ڈالر کی پیشقدمی جاری رہی جس سے ڈالر کے انٹربینک ریٹ ایک بار پھر 281روپے سے تجاوز کرگئے۔
انٹربینک مارکیٹ میں کاروباری دورانیے کے دوران مثبت سینٹیمنٹس کے باعث ایک موقع پر ڈالر کی قدر 10پیسے کی کمی سے 280روپے 06پیسے کی سطح پر بھی آگئی تھی لیکن عالمی تحقیقی اداروں کی اگلے سال کے وسط تک ڈالر کی قدر میں نمایاں اضافے کی پیشگوئیوں اور معیشت میں درآمدی نوعیت کی طلب بڑھنے سے کاروبار کے اختتام پر انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر مزید 09پیسے کے اضافے سے 281روپے 06پیسے کی سطح پر بند ہوئی۔
اوپن کرنسی مارکیٹ میں بھی عمرہ زائرین غیرملکی جامعات میں پڑھنے والے طلباء کی فیسوں اور سیاحت پر جانے والوں کی ڈیمانڈ سے ڈالر کی قدر 07پیسے کے اضافے سے 282روپے 78پیسے کی سطح پر بند ہوئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ڈالر کی قدر مارکیٹ میں
پڑھیں:
عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
عالمی منڈی میں سونے کی قیمت(Gold Rates) مسلسل دوسرے روز بھی دباؤ کا شکار رہی، کیونکہ امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے آئندہ مہینوں میں شرح سود بڑھانے کے امکانات نے سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.4 فیصد کمی کے بعد 4,030.09 ڈالر فی اونس رہ گئی، جبکہ امریکی گولڈ فیوچرز بھی 0.4 فیصد کم ہو کر 4,033.20 ڈالر فی اونس پر آ گئے۔
مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ سونا ہفتہ وار بنیاد پر معمولی اضافے کی جانب گامزن ہے، تاہم بلند شرح سود کے خدشات کے باعث اس کی قیمتوں پر دباؤ برقرار ہے۔
مزیدپڑھیں:پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب شرح سود میں اضافے کی توقع ہوتی ہے تو سونے جیسی ایسی سرمایہ کاری، جس پر منافع یا سود نہیں ملتا، نسبتاً کم پرکشش ہو جاتی ہے۔
سرمایہ کاروں کی نظریں اب آئندہ ہفتے ہونے والے امریکی فیڈرل ریزرو کے پالیسی اجلاس پر مرکوز ہیں۔ مارکیٹ کی توقع ہے کہ اس اجلاس میں شرح سود برقرار رکھی جائے گی، تاہم ستمبر میں شرح سود میں اضافے کے امکانات بدستور مضبوط سمجھے جا رہے ہیں