سمندر میں ڈوبے جہاز سے 20 ارب ڈالر کا خزانہ برآمد، ملکیت پر تنازع کھڑا ہوگیا
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بحیرہ کریبیئن کی گہرائیوں میں 3 صدیوں سے دفن خزانہ بالآخر سطحِ آب پر آنا شروع ہوگیا ہے جس کا شمار دنیا کے سب سے قیمتی ڈوبے ہوئے اثاثوں میں کیا جاتا ہے۔
اٹھارویں صدی کے مشہور ہسپانوی جنگی جہاز سان جوز کے ملبے سے خزانے کی پہلی قسط نکال لی گئی ہے اور اس دریافت نے پوری دنیا میں ایک مرتبہ پھر تاریخ، دولت اور ملکیت کے پرانے تنازع کو تازہ کر دیا ہے۔ اس جہاز پر موجود سونے اور چاندی کے 10 ملین سے زائد سکے آج کی قیمت کے مطابق تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت رکھتے ہیں، جس کے باعث یہ ملبہ عالمی سطح پر سب سے زیادہ مطلوب اور متنازع سمندری ورثہ سمجھا جاتا ہے۔
سان جوز، جسے 64 توپوں سے لیس ایک طاقت ور ہسپانوی جنگی جہاز کے طور پر تاریخ میں یاد کیا جاتا ہے، 1708 میں کولمبیا کے ساحل کے قریب اس وقت غرق ہوا تھا جب برطانوی بحری بیڑے نے اسے نشانہ بنایا۔ یہ جہاز ہسپانیہ کے لیے قیمتی دھاتیں لے جا رہا تھا اور انہی دھاتوں کی مالیت نے اس ڈوبے جہاز کو کئی ممالک اور نجی اداروں کی دلچسپی کا مرکز بنا رکھا ہے۔
300 سال سے زیادہ عرصہ سمندر کی تہہ میں چھپے رہنے کے بعد اس کے خزانے کی بازیابی کا عمل اب عملی طور پر شروع ہو چکا ہے۔
کولمبیا کے سرکاری مشن نے تازہ ترین کارروائی کے دوران ملبے سے نوادرات کی پہلی کھیپ نکال لی ہے۔ اس ابتدائی بازیابی میں ایک توپ، 3 قدیم سکے اور کچھ قیمتی پورسلین شامل ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ملبے تک رسائی اور نکاسی کا عمل نہایت احتیاط اور جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔
یہ جہاز 600 میٹر کی گہرائی میں موجود ہے اور کولمبیا اس کی درست لوکیشن کو ریاستی راز قرار دیتا ہے تاکہ اسے غیر قانونی سرگرمیوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔
یاد رہے کہ اس خزانے پر ملکیت کا مسئلہ برسوں سے ایک تنازع کی شکل اختیار کیے ہوئے ہے، جس میں امریکا، اسپین اور کولمبیا مختلف قانونی مؤقف رکھتے ہیں۔
امریکا کے سرمایہ کار گروپ سی سرچ آرماڈا کا دعویٰ ہے کہ اس نے 1982 میں اس جہاز کے ملبے کی نشاندہی کی تھی، اس لیے اسے مجموعی مالیت کا کم از کم نصف یعنی تقریباً 10 ارب ڈالر کا حق ملنا چاہیے۔
دوسری جانب کولمبیا اس موقف سے اتفاق نہیں کرتا اور تاریخی بنیادوں پر اس خزانے کو اپنی ملکیت قرار دیتا ہے جب کہ اسپین اسے اپنی نوآبادیاتی تاریخ کے تناظر میں اپنا حق سمجھتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس بڑی دریافت کے بعد قانونی جنگ مزید طویل ہونے کا امکان ہے، کیونکہ خزانے کی مالیت اتنی زیادہ ہے کہ کوئی بھی فریق پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں۔
عالمی آثارِ قدیمہ کے ادارے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ملبے کو پوری طرح نکالنے سے پہلے اس کی تاریخی اور سائنسی حیثیت کو مدنظر رکھا جائے تاکہ یہ اہم ورثہ محفوظ رہ سکے۔ سان جوز کی بازیابی نہ صرف مالی اعتبار سے اہم ہے بلکہ یہ 3 صدیوں پر محیط تاریخ کے ایک اہم باب کو بھی دوبارہ دنیا کے سامنے لا رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
دنیا کی سب سے بڑی اور مقبول ترین کرپٹو کرنسی ’بٹ کوائن‘ کی قیمت میں اچانک تاریخی گراوٹ دیکھی گئی ہے، جس کے بعد یہ 70 ہزار ڈالر کی نفسیاتی سطح سے بھی نیچے گر گیا ہے۔
مارکیٹ رپورٹ کے مطابق اس اچانک کمی کے نتیجے میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرپٹو مارکیٹ سے تقریباً 80 کروڑ (800 ملین) ڈالر مالیت کی لیوریجڈ ٹریڈنگ پوزیشنز یکدم ختم (لیکویڈیٹ) ہو گئی ہیں، جس سے سرمایہ کاروں کو شدید ترین نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
قیمتوں میں گراوٹ اور مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں کمیمارکیٹ کے تازہ ترین ڈیٹا کے مطابق منگل کو ’بٹ کوائن‘ کی قیمت گر کر تقریباً 69,400 ڈالر کی کم ترین سطح پرآگئی، جو گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 4.4 فیصد کی نمایاں ترین کمی کو ظاہر کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا مذاکرات کا دوسرا دور، بٹ کوائن کی قیمت پر کیا اثرات مرتب ہورہے ہیں؟
مارکیٹ کیپٹلائزیشن کے لحاظ سے دنیا کی سرفہرست 10 کرپٹو کرنسیوں میں یہ سب سے بڑی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ بٹ کوائن کے اس زوال کے اثرات پوری کرپٹو مارکیٹ پر مرتب ہوئے، جس کے باعث مجموعی ڈیجیٹل مارکیٹ ویلیو 3 فیصد سے زیادہ کمی کے بعد تقریباً 2.47 ٹریلین ڈالر تک نیچے آگئی ہے۔
ٹریڈرزکے کروڑوں ڈالر ڈوب گئےکرپٹو مارکیٹ کے اعداد و شمار فراہم کرنے والے معتبر عالمی ادارے ’کوائن گلاس‘ کے مطابق حالیہ فروخت کے شدید دباؤ کی وجہ سے 24 گھنٹوں میں 800 ملین ڈالر کی پوزیشنز مارکیٹ سے آؤٹ ہوئیں۔
ڈیٹا کے مطابق لانگ پوزیشنزمیں تقریباً 700 ملین ڈالر (قیمت بڑھنے کی امید پر لگائے گئے سودے) جبکہ شارٹ پوزیشنز میں تقریباً 100 ملین ڈالر (قیمت گرنے کی امید پر لگائے گئے سودے) شامل ہیں۔
سب سے زیادہ نقصان بٹ کوائن سے منسلک ٹریڈرز کو برداشت کرنا پڑا، جن کی تقریباً 500 ملین ڈالر مالیت کی پوزیشنز ڈوب گئیں، جو کہ مجموعی مارکیٹ لیکویڈیشنز کا سب سے بڑا حصہ ہے۔
’ای ٹی ایف‘ آؤٹ فلو دباؤ میں اضافہکرپٹو کرنسی سے وابستہ مبصرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق اس بڑی فروخت کی سب سے بڑی وجہ اسپاٹ بٹ کوائن ایکسچینج ٹریڈ فنڈ (ای ٹی ایف) سے سرمایہ کاروں کا مسلسل پیسہ نکالنا ہے۔
مزید پڑھیں:مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے دوران بٹ کوائن مضبوط، قیمت 80 ہزار ڈالر تک پہنچنے کا امکان
اسپاٹ بٹ کوائن ای ٹی ایف سے مسلسل 11 تجارتی سیشنز سے سرمایہ کا اخراج (نیٹ آؤٹ فلو) ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جبکہ اسپاٹ ’ایتھیریم ای ٹی ایف‘ سے بھی مسلسل 15 سیشنز سے سرمایہ نکالا جا رہا ہے۔
کرپٹو تجزیہ کار ’ایمبر سی این‘ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ جب سے اسپاٹ ای ٹی ایف مصنوعات کا آغاز ہوا ہے، بٹ کوائن اور ایتھیریم کی قیمتیں ای ٹی ایف فنڈز کے بہاؤ سے بہت زیادہ منسلک ہو چکی ہیں، یہی وجہ ہے کہ فنڈز کے اخراج کا براہِ راست اور فوری اثر قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔
ایتھیریم مارکیٹ میں نسبتاً مستحکمدلچسپ بات یہ ہے کہ اس شدید مندی کے دوران دوسری بڑی کرپٹو کرنسی ’ایتھیریم‘ نے مارکیٹ میں نسبتاً بہتر اور مستحکم کارکردگی دکھائی۔ ایتھیریم کی قیمت تقریباً 1,970 ڈالر کے قریب برقرار رہی اور اس میں بٹ کوائن کے مقابلے میں کم اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔
ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ اگر ای ٹی ایف سے سرمایہ کے اخراج کا یہ سلسلہ نہ رکا تو کرپٹو مارکیٹ پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ عالمی سرمایہ کار آنے والے چند دنوں میں مارکیٹ کے رجحان پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اخراج ای ٹی ایف بٹ کوائن ڈالر سرمایہ کاروں عالمی سرمایہ کرپٹو مارکیٹ گراوٹ ماہرین معیشت ملین ڈالر