data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

بحیرہ کریبیئن کی گہرائیوں میں 3 صدیوں سے دفن خزانہ بالآخر سطحِ آب پر آنا شروع ہوگیا ہے جس کا شمار دنیا کے سب سے قیمتی ڈوبے ہوئے اثاثوں میں کیا جاتا ہے۔

اٹھارویں صدی کے مشہور ہسپانوی جنگی جہاز سان جوز کے ملبے سے خزانے کی پہلی قسط نکال لی گئی ہے اور اس دریافت نے پوری دنیا میں ایک مرتبہ پھر تاریخ، دولت اور ملکیت کے پرانے تنازع کو تازہ کر دیا ہے۔ اس جہاز پر موجود سونے اور چاندی کے 10 ملین سے زائد سکے آج کی قیمت کے مطابق تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت رکھتے ہیں، جس کے باعث یہ ملبہ عالمی سطح پر سب سے زیادہ مطلوب اور متنازع سمندری ورثہ سمجھا جاتا ہے۔

سان جوز، جسے 64 توپوں سے لیس ایک طاقت ور ہسپانوی جنگی جہاز کے طور پر تاریخ میں یاد کیا جاتا ہے، 1708 میں کولمبیا کے ساحل کے قریب اس وقت غرق ہوا تھا جب برطانوی بحری بیڑے نے اسے نشانہ بنایا۔ یہ جہاز ہسپانیہ کے لیے قیمتی دھاتیں لے جا رہا تھا اور انہی دھاتوں کی مالیت نے اس ڈوبے جہاز کو کئی ممالک اور نجی اداروں کی دلچسپی کا مرکز بنا رکھا ہے۔

300 سال سے زیادہ عرصہ سمندر کی تہہ میں چھپے رہنے کے بعد اس کے خزانے کی بازیابی کا عمل اب عملی طور پر شروع ہو چکا ہے۔

کولمبیا کے سرکاری مشن نے تازہ ترین کارروائی کے دوران ملبے سے نوادرات کی پہلی کھیپ نکال لی ہے۔ اس ابتدائی بازیابی میں ایک توپ، 3 قدیم سکے اور کچھ قیمتی پورسلین شامل ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ملبے تک رسائی اور نکاسی کا عمل نہایت احتیاط اور جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔

یہ جہاز 600 میٹر کی گہرائی میں موجود ہے اور کولمبیا اس کی درست لوکیشن کو ریاستی راز قرار دیتا ہے تاکہ اسے غیر قانونی سرگرمیوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔

یاد رہے کہ اس خزانے پر ملکیت کا مسئلہ برسوں سے ایک تنازع کی شکل اختیار کیے ہوئے ہے، جس میں امریکا، اسپین اور کولمبیا مختلف قانونی مؤقف رکھتے ہیں۔

امریکا کے سرمایہ کار گروپ سی سرچ آرماڈا کا دعویٰ ہے کہ اس نے 1982 میں اس جہاز کے ملبے کی نشاندہی کی تھی، اس لیے اسے مجموعی مالیت کا کم از کم نصف یعنی تقریباً 10 ارب ڈالر کا حق ملنا چاہیے۔

دوسری جانب کولمبیا اس موقف سے اتفاق نہیں کرتا اور تاریخی بنیادوں پر اس خزانے کو اپنی ملکیت قرار دیتا ہے جب کہ اسپین اسے اپنی نوآبادیاتی تاریخ کے تناظر میں اپنا حق سمجھتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس بڑی دریافت کے بعد قانونی جنگ مزید طویل ہونے کا امکان ہے، کیونکہ خزانے کی مالیت اتنی زیادہ ہے کہ کوئی بھی فریق پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں۔

عالمی آثارِ قدیمہ کے ادارے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ملبے کو پوری طرح نکالنے سے پہلے اس کی تاریخی اور سائنسی حیثیت کو مدنظر رکھا جائے تاکہ یہ اہم ورثہ محفوظ رہ سکے۔ سان جوز کی بازیابی نہ صرف مالی اعتبار سے اہم ہے بلکہ یہ  3 صدیوں پر محیط تاریخ کے ایک اہم باب کو بھی دوبارہ دنیا کے سامنے لا رہی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان

برلن: جرمنی نے بحیرۂ احمر میں تعینات اپنے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ سفارتی پیش رفت کے بعد آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے ممکنہ مشن کی فوری ضرورت باقی نہیں رہی۔

جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق واپس بلائے جانے والے جہازوں میں ’فلڈا‘ نامی مائن ہنٹر اور ’موزیل‘ نامی سپورٹ شپ شامل ہیں۔ دونوں جہاز جون میں نہرِ سویز کے راستے بحیرۂ احمر پہنچے تھے اور اس وقت جبوتی میں تعینات تھے۔

ان جہازوں کے ساتھ تقریباً 140 اہلکار بھی موجود تھے، جن میں بارودی سرنگیں صاف کرنے والے غوطہ خور، خودکار زیرِ آب نظام کے ماہرین اور سکیورٹی ٹیمیں شامل تھیں۔

جرمن حکام کے مطابق ان بحری جہازوں کو اس خدشے کے پیش نظر تیار رکھا گیا تھا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگیں بچھاتا ہے تو انہیں فوری کارروائی کے لیے استعمال کیا جا سکے۔

جرمنی کے وزیر دفاع بورس پسٹوریئس پہلے ہی واضح کر چکے تھے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی فوجی مشن کا انحصار سیاسی اور سفارتی صورتحال کے ساتھ ساتھ ایران اور عمان سمیت علاقائی ممالک کی رضامندی پر ہوگا۔

وزارتِ دفاع نے کہا کہ یہ بحری مشن کسی جنگی کارروائی کا حصہ نہیں تھا بلکہ یورپی ممالک کی جانب سے عالمی بحری راستوں پر آزادانہ جہاز رانی کے تحفظ کی کوششوں کا حصہ تھا۔

اگرچہ یہ دونوں جہاز واپس بلائے جا رہے ہیں، تاہم جرمنی بدستور یورپی یونین کے آپریشن اسپائیڈیز میں شامل رہے گا، جس کا مقصد بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو یمن کے حوثی گروپ کے حملوں سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔

اس کے علاوہ جرمنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ لبنان کے ساحل پر اقوام متحدہ کے امن مشن یونیفل میں اپنی بحری شمولیت بھی 2026 کے اختتام تک برقرار رکھے گا۔

جرمن حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ فوری خطرات میں کچھ کمی آئی ہے، لیکن مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی سکیورٹی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔ ان کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی دوبارہ بڑھتی ہے تو آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں عالمی جہاز رانی ایک مرتبہ پھر متاثر ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کشمیر عالمی تنازع ہے،داخلی معاملہ نہیں، سلامتی کونسل میں پاکستان کا بھارت کو دوٹوک جواب
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی