پاکستان و بھارت دونوں سے رابطے میں ہیں،امریکہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, April 2025 GMT
مل کر مسئلے کا ذمہ دارانہ حل تلاش کیا جائے،مختلف سطح پر سنجیدہ بات چیت جاری ہے
امریکہ نہیں سمجھتا اس میں پاکستان ملوث ہے، سعودیہ و ایران ثالثی پیشکش کرچکے ہیں
مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں حالیہ واقعے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی اور تناؤ کے درمیان امریکا کا اہم بیان سامنے آگیا۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ واشنگٹن بھارت اور پاکستان دونوں کے ساتھ رابطے میں ہے اور دونوں ممالک پر زور دے رہا ہے کہ وہ "ذمہ دارانہ حل” کے لیے کام کریں۔امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان کی جانب سے غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کو لکھی گئی ایک ای میل میں کہا گیا کہ "یہ بدلتی صورتحال ہے اور ہم پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، ہم کئی سطح پر بھارت اور پاکستان کی حکومتوں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ امریکا فریقین کو ذمہ دارانہ حل کے لیے مل کر کام کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔محکمہ خارجہ کے ترجمان نے یہ بھی کہا کہ واشنگٹن بھارت کے ساتھ کھڑا ہے اور پہلگام واقعے کی سختی سے مذمت کرتا ہے۔امریکی حکومت نے عوامی سطح پر واقعے کے بعد بھارت کی حمایت کا اظہار کیا لیکن پاکستان پر تنقید نہیں کی جب کہ سعودی عرب اور ایران نے ثالثی کی پیشکش کی ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ بھارت اور پاکستان معاملے کا حل نکال لیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔