اللہ رب العزت کا یہ عدل کا نظام ہے کہ ’’ہر کمال کو زوال ہے، ہر بلندی کے بعد پستی کا آنا لازمی ہے۔‘‘ جیسے رات کی تاریکی کے بعد دن کے اجالے کا پھیلنا لازمی ہوتا ہے۔ ایسے ہی ہر بدی اور ہر برائی کے بعد اچھائی اور نیکی کا ہونا بھی لازمی ہوتا ہے۔ اللہ رب العزت نے ہر چیز کا جوڑا پیدا فرمایا ہے۔ اب شاید بدی کی تاریکی چھٹنے اور اجالا پھیلنے کا وقت قریب آنے والا ہے۔ کہتے ہیں کہ جب گیڈر کی موت آتی ہے تو اس کا رخ شہر کی طرف ہو جاتا ہے کچھ ایسا ہی یہاں ہوتا نظر آنے لگا ہے۔ سیاست میں کب کیا کچھ ہو جائے اس کا علم کسی بھی انسان کو نہیں ہوتا پر اللہ رب العزت کو سب ہی علم ہوتا ہے اور سب کچھ اس کی حکمت اور رضا سے ہورہا ہوتا ہے، جو وہ پاک رب چاہتا ہے وہی ہوتا ہے، انسان لاکھ چاہیے پر وہ کچھ بھی اللہ کی مرضی کے بغیر نہیں کرسکتا۔ انسان تو خود اتنا بے بس ہے کہ وہ چاہ کر بھی اپنے لیے کچھ بھی نہیں کرسکتا گر اللہ چاہے تو پھر ہی ممکن ہو پاتا ہے۔ حکمران، ان کو لانے والے اور ان کی حمایت کرنے والے کچھ بھی اپنی مرضی و منشا سے نہیں کرسکتے پر عجب بات یہ ہے کہ یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ جو کچھ یہ لوگ چاہ رہے ہیں وہی ہورہا ہے تو اصل میں یہی لوگ غفلت کا شکار اور گمراہی میں مبتلا نظر آرہے ہوتے ہیں کیونکہ اللہ رب العزت نے کچھ عرصہ کے لیے اپنی مرضی سے ان کی رسی کو دراز کر رکھا ہوتا ہے اور ان کو ڈھیل دی ہوئی ہوتی ہے کہ وہ اپنی من مرضی کی کرلے جس میں وہ حقیقتاً خسارہ میں رہتے ہیں۔ اگر ہم وطن عزیز میں دیکھیں ابتدائی شروع کے چند سال چھوڑ کر تو ساری حقیقت ہمارے سامنے روزِ روشن کی طرح عیاں ہوکر کھڑی ہو جائے گی۔ جب بھی وطنِ عزیز کو اللہ رب العزت کی طرف سے کوئی مخلص سربراہ ملا ہے اس کی قدر نہیں کی یا پھر اس سربراہ نے اپنے ہی ہاتھوں سے خود کو تباہ و برباد کرنے کے ساتھ ہی وطن عزیز اور عوام کو بھی بے پناہ نقصان پہنچایا۔ ہماری ملکی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے پھر ہم اس سے کسی بھی قسم کی عبرت حاصل نہیں کر پاتے ہیں اور حکمرانی کے نشہ میں چور سرمستی میں مبتلا واحد اللہ کو بھلا کر خود وقت کے فرعون بن بیٹھتے ہیں یہ سوچے بغیر کہ کل اگر یہ حکمرانی نہیں رہی تو ہمارا انجام کیا ہوگا اور ہم کل اللہ کے سامنے کیسے کھڑے ہو پائیں گے۔
وطنِ عزیز کی تاریخ ہی نہیں بلکہ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جب جب حکمرانِ وقت اقتدار کے نشے میں مد ہوش ہونے لگتے ہیں تو ان کے زوال کا وقت شروع ہو جاتا ہے۔ وطنِ عزیز کی سیاسی تاریخ ایک شفاف آئینے کی مانند ہمارے سامنے عیاں ہے۔ جب بھی صاحبِ اقتدار حکمران کو یہ گمان ہوتا ہے کہ ’’اس کی کرسی مضبوط ہوگئی ہے اور اسے کوئی نہیں ہلا سکتا‘‘ تب ہی وہ منہ کے بل گر پڑتا ہے۔ جنرل ایوب خان کو جب یہ گمان ہوا کہ انہیں اور اُن کے اقتدار کو کوئی ہلا نہیں سکتا تو انہوں نے من مانی کرنا شروع کردی تھی۔ آئین و قانون کی دھجیاں اڑانا شروع کردی تھیں اور اپنے لاڈلے بیٹے گوہر ایوب کو کھلی چھٹی دے دی تھی کہ وہ جو جی میں آئے کرتا پھرے۔ قانون تمہارے گھر کی لونڈی ہے بالآخر انہیں منہ کی کھانی پڑی اور ذلت و رسوائی کے ساتھ رخصت ہونا پڑا اور یہی حشر جنرل یحییٰ کا ہوا، انہوں نے بھی قانون کو اپنی جوتے کی نوک پر رکھا اور وہی ہوا جو ہوتا آیا تھا انہیں بھی ذلت و رسوائی کے سوا کچھ ہاتھ نہ آیا اس کے بعد سونے کی چڑیا ذوالفقار علی بھٹو کے ہاتھ لگی جب تک انہوں نے قانون کو قانون سمجھ کر اس کا احترام ملحوظ خاطر رکھا انہوں نے ملک پر ہی نہیں عوام کے دلوں پر بھی راج کیا اور جب انہیں اقتدار کا نشہ چڑا اور انہیں لگنے لگا تھا کہ اب ان کی کرسی مضبوط ہوگئی ہے اور اسے کوئی ہلا نہیں سکتا اور وہ خود کو قانون سے بالا تر سمجھنے لگے تو انہیں بھی اسی ہی قانون نے اپنے شکنجے میں جکڑا اور ان کی ساری قانون دانی دھری کی دھری رہ گئی تھی۔ کہتے ہیں کہ ’’اللہ کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے‘‘ جب چلتی ہے تو وہ کچھ ہو جاتا ہے جس کا تصور تک انسان نہیں کرسکتا۔ جنرل ضیاء الحق نے اقتدار اپنی طاقت اور بندوق کے زور پر حاصل کیا تھا اور تاثر یہی دیا تھا کہ انہوں نے اللہ کی مضبوط رسی کو تھام رکھا ہے، جب انہوں نے اللہ کی رسی کو چھوڑ کر امریکی رسی کو مضبوطی سے تھاما تو ان کا دماغ بھی آسمان سے باتیں کرنے لگا تھا اور وہ سمجھنے لگے تھے کہ وہ خود ہی قانون ہیں اور وہ ہر ’’سیاہ و سفید کے مالک ہیں‘‘ وہ جو چاہیں کریں اللہ کے بجائے انہوں نے اپنے سر پر امریکا کا ہاتھ مضبوط کرتے ہوئے قانون کو اپنے ہاتھ میں لیا پھر اس ہی قانون نے ان کے نیچے سے ہی نہیں بلکہ اوپر ہی اوپر ان کو اقتدار سے محروم کردیا تھا۔ اللہ کی ’’بے آواز لاٹھی‘‘ کام کر گئی تھی ایک مشہور قول ہے کہ ’’جب ظلم حد سے بڑھ جائے تو مٹ جاتا ہے‘‘ بقول شاعر ساحر لدھیانوی
ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے
خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا
جب اللہ رب العزت نے اقتدار میاں نواز شریف کے نصیب میں لکھا تو وہ بھی بالآخر ایک ایسے مقام پر پہنچے جہاں انہیں یہ یقین ہو چلا تھا کہ اب ان کی کرسی مضبوط ہوگئی ہے اور اسے کوئی ہلا نہیں سکتا تو انہوں نے بھی قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کوشش کی تو ان کے ہاتھ بھی جل گئے اور حکمرانی کا تخت ان کے نیچے سے سرک گیا۔ اس کے بعد ایک نیا دور شروع ہوا پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی کو اقتدار نصیب ہوا جب تک وہ قانون اور آئین کی پاسداری کرتی رہیں حکومت کرتی رہیں لیکن جیسے ہی انہیں یہ گمان ہوا کہ ان کی کرسی اور ان کا اقتدار مضبوط ہوگیا ہے اور جب انہوں نے خود کو قانون سے ماورا جانا تب ان کا تختہ بھی الٹ دیا گیا۔ ایک بار پھر سے میاں نواز شریف کی لاٹری لگ گئی اور اقتدار انہیں نصیب ہوا پر انہوں نے اس سارے عرصے میں اپنی بے تختی اور بے توقیری قیدی سے کچھ بھی سبق حاصل نہیں کیا تھا۔ اب ان میں اپنے سر پرست ضیاء الحق کی خود سری اور خود مختاری کی خوبو خوب بس چکی تھی۔ انہوں نے اب زیادہ کھل کر اقتدار کے تخت پر بیٹھتے ہی خود کو ماورائے قانون سمجھ لیا تھا اور جو جی میں آیا، جیسا چاہا کرنا شروع کردیا تھا۔ قانون کو تو ہر حکمران اپنے ’’گھر کی لونڈی‘‘ سمجھتا رہا ہے کیونکہ وہ خود قانون ساز ادارے کا رکن ہونے کے باعث سمجھتا ہے کہ قانون کا کیا ہے یہ تو ہم نے خود ہی بنایا ہے پھر اس سے جیسا چاہے کھیلیں ہمیں روکنے والا کون ہوگا اور ساتھ ہی یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اس قانون کا اطلاق صرف عوام پر ہوتا ہے۔ حکمرانوں، سیاست دانوں، قانون سازوں اور اشرافیہ پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا البتہ حکمرانوں اور ان کی رسی پکڑ کر چلانے والوں کی منشا پر حکومت مخالفین پر جیسا چاہے ویسا استعمال ہوتا نظر آتا ہے۔
(جاری ہے )
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: اللہ رب العزت انہوں نے قانون کو کی کرسی ہوتا ہے اللہ کی جاتا ہے کچھ بھی سے کوئی نہیں کر اور وہ ہے اور کے بعد اور ان کی رسی رسی کو ہیں کہ خود کو
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔