بین الصوبائی چیک پوسٹوں اور ڈرون سرویلنس پر کام ہورہا ہے، وزیر قانون پنجاب ملک صہیب احمد بھرتھ
اشاعت کی تاریخ: 29th, April 2025 GMT
صوبائی وزیر قانون ملک صہیب احمد بھرتھ کی زیر صدارت انسداد دہشتگردی و ہارڈنڈ دی اسٹیٹ کمیٹی کا محکمہ داخلہ میں اہم اجلاس منعقد ہوا۔
اس موقع پر سیکرٹری داخلہ پنجاب نور الامین مینگل نے اجلاس کو امن و امان کی صورتحال بارے بریفنگ دی جبکہ اجلاس میں ایڈیشنل آئی جی پنجاب چوہدری سلطان، سی ٹی ڈی، سیف سٹی، ایس پی یو، ایکسائز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران پنجاب میں نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کا جائزہ لیا گیا اور صوبائی وزیر کو صوبے میں قیام امن کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
سی ٹی ڈی پنجاب نے صوبہ کے بارڈر ایریا اضلاع کی سیکیورٹی پر بریفنگ دی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ سال 2024، 25 میں 454 مقدمات کا اندراج کیا، 488 ملزمان کو چالان، 226 کو سزائیں دلوائی گئیں، پنجاب بھر میں 15776 کومبنگ آپریشنز کیے گئے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ دہشت گردوں کی مالی معاونت کرنے پر 3 مقدمات و ملزمان کو سزائیں دلوائی گئیں، اجلاس کو چینی باشندوں کی سیکیورٹی کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی اور بتایا گیا کہ سرویلنس کے لیے سیف سٹی 15 اضلاع میں کیمروں کی تنصیب مکمل کر چکی ہے اور فیز 2 میں 19 اضلاع میں کیمروں کی تنصیب رواں سال دسمبر تک مکمل ہو گی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ گداگر مافیا کے خلاف کاروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
صوبائی وزیر قانون نے اجلاس میں کہا کہ قیام امن کے لیے بین الصوبائی چیک پوسٹوں کی تعمیر پر کام جاری ہے، 31 فیصد تعمیراتی کام کو مکمل کر لیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مستقبل میں ڈرون سرویلنس اور سی ٹی ڈی کو جدید اسلحہ و ٹیکنالوجی کی فراہمی پر کام ہو رہا ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جدید اسلحہ و ٹیکنالوجی سے لیس کر رہے ہیں۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ صوبہ پنجاب میں امن و امان کے قیام کے لیے متحرک ہیں، وزیراعلیٰ پنجاب صوبے میں قیام امن کے لیے دن رات کام کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
malik sohaib ahmad bharath اسلحہ امن و امان سی ٹی ڈی ملک صہیب احمد بھرتھ وزیر قانون.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سی ٹی ڈی ملک صہیب احمد بھرتھ بتایا گیا کہ بریفنگ دی سی ٹی ڈی کے لیے
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔