وزیرداخلہ محسن نقوی کی حافظ نعیم الرحمان سے ملاقات،حالیہ صورتحال پر تبادلہ خیال
اشاعت کی تاریخ: 29th, April 2025 GMT
سٹی 42 :وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کی منصورہ آمد،وزیرداخلہ محسن نقوی نے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان سے ملاقات کی،پاک بھارت حالیہ کشیدگی اور سرحدوں کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق وزیر داخلہ نے امیر جماعت اسلامی کو نیشنل سکیورٹی کونسل کے فیصلوں سے آگاہ کیا،وزیر داخلہ نے حافظ نعیم الرحمان کو پاکستان کے موقف،فیصلوں سے آگاہ کیا،حافظ نعیم الرحمان کی پاکستان کے اصولی موقف کی تائید،بھرپور حمایت کی یقین دہانی کرائی۔
سونے اور چاندی کے آج کے ریٹس ۔منگل 29 اپریل، 2025
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ بھارت کے معاملے پر پوری قوم یکجا ہے ،کشمیریوں کو قتل کرنے والی بھارتی سرکار کو ہوش کے ناخن لینے چاہیئں۔
جماعت اسلامی کے امیر کا فلسطین کی موجودہ صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
محسن نقوی نے کہا کہ جان بوجھ کر سازش کے ذریعے بھارت خطے کا امن تباہ کرنے کے درپے ہے،سیاسی اکابرین اور قوم بھارت کی کسی بھی جارحیت کے خلاف یکجان ہیں،پاکستان کی بہادر مسلح افواج دفاع وطن کے لئے پوری طرح تیار ہیں۔
بھارتی فوج بوکھلاہٹ کا شکار، اپنے ہی فوجیوں پر فائرنگ ، 5 سکھ اہلکار ہلاک
جماعت اسلامی کے سینئر رہنما لیاقت بلوچ بھی ملاقات میں موجود تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔