UrduPoint:
2026-06-03@03:47:00 GMT

’سندھ طاس معاہدے کی معطلی اشتعال انگیز اور غیر قانونی‘

اشاعت کی تاریخ: 29th, April 2025 GMT

’سندھ طاس معاہدے کی معطلی اشتعال انگیز اور غیر قانونی‘

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 29 اپریل 2025ء) پیر 28 اپریل کو ڈی ڈبلیو نیوز سے خصوصی گفتگو میں انہوں نے پاکستان پر موسمیاتی دباؤ اور بھارت کے ساتھ واٹر ٹریٹی کے تنازعے پر تشویش کا اظہار کیا۔ بلاول بھٹو نے بھارت کی طرف سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کے اعلان پر سخت تنقید کی۔

انہوں نے کہا، ''یہ تاثر کیسا ہے کہ ایک ایسا ملک جو ہم سے سات گنا بڑا ہے، ایک جوہری ہتھیاروں سے لیس ملک جس کے ساتھ ہم پہلے ہی ماضی میں جنگیں لڑ چکے ہیں، ملین لوگوں کی لائف لائن کاٹنے کی دھمکی دے رہا ہے؟‘‘

انہوں نے بتایا کہ پاکستان پہلے ہی 'موسمیاتی دباؤ‘ کا شکار ہے، جہاں یا تو شدید خشک سالی ہوتی ہے یا تباہ کن سیلاب آتے ہیں۔

انہوں نے مغربی دنیا سے اپیل کی کہ وہ پاکستان کے ماحولیاتی چیلنجز کو سمجھیں، جو دنیا کے 10 سب سے زیادہ موسمیاتی دباؤ والے ممالک میں شامل ہے۔

(جاری ہے)

ریلی میں دیا گیا بیان غیر سفارتی تھا

تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ ان کا ایک سیاسی ریلی میں دیا گیا بیان، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ''اگر بھارت نے پانی روکا تو خون بہے گا‘‘ غیر سفارتی تھا۔

انہوں نے وضاحت کی کہ وہ اب وزیر خارجہ نہیں ہیں اور وہ سندھ کے عوام کی نمائندگی کر رہے تھے، جو پانی کی کمی کے باعث پہلے ہی مشکلات کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تاریخی حوالہ تھا لیکن انہوں نے زور دیا کہ پانی کے وسائل کو ہتھیار بنانے کا کوئی بھی اقدام جنگ کا باعث بن سکتا ہے۔ کشمیر حملے کی مذمت

بلاول بھٹو نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونے والے حملے کی بھی سخت مذمت کی، جس میں متعدد سیاح ہلاک ہوئے۔

انہوں نے کہا، ''پاکستان خود دہشت گردی کا شکار رہا ہے اور میں خود بھی دہشت گردی کا متاثرہ ہوں۔ ہم نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے سے دہشت گردی کے خاتمے کے خواہش مند ہیں۔‘‘

انہوں نے بھارت کی جانب سے اس حملے کا الزام پاکستان پر عائد کرنے پر تنقید کی اور کہا کہ بھارت ہر سکیورٹی ناکامی کا ذمہ دار پاکستان یا کشمیری عوام کو ٹھہراتا ہے۔

انہوں نے کشمیری عوام کے ساتھ ہونے والے ''اجتماعی سزا‘‘ کے سلوک پر بھی تشویش کا اظہار کیا، جہاں مکانات کو مسمار کیا جا رہا ہے اور خاندانوں کو حراست میں لیا جا رہا ہے۔

پہلگام حملے کے بعد بھارتی اور پاکستانی رہنماؤں کی لفظی جنگ جاری

دہشت گردی کے الزامات اور تعاون کی پیشکش

ڈی ڈبلیو نیوز کے ساتھ انٹرویو کے دوران بلاول بھٹو سے سوال کیا گیا کہ مغربی ممالک پاکستان پر دہشت گرد گروہوں کی حمایت کا الزام عائد کرتے ہیں۔

بلاول نے اسے ''غیر منصفانہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں پاکستان نے بین الاقوامی دباؤ پر کچھ گروہوں کی حمایت کی تھی، لیکن اب پاکستان نے اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کی ہے اور ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکل چکا ہے۔

انہوں نے کشمیر حملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کے مطالبے کی حمایت کا اعلان کیا اور کہا، ''پاکستان اس حملے کی حقیقت جاننا چاہتا ہے۔

ہم بھارتی زیر انتظام کشمیر تک رسائی نہیں رکھتے، جو دنیا کا سب سے زیادہ فوجی علاقہ ہے لیکن ہم کسی بھی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا حصہ بننے کو تیار ہیں۔‘‘ خطے میں امن کی ضرورت

بلاول بھٹو نے زور دیا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستان اور بھارت کو مل کر کام کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا، ''اگر بھارت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سنجیدہ ہے تو اسے پاکستان کے ساتھ بات چیت اور تعاون کرنا چاہیے۔

‘‘ انہوں نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی پالیسیوں پر تنقید کی اور کہا کہ وہ اپنی اندرونی ناکامیوں کا الزام پاکستان اور کشمیریوں پر عائد کرتے ہیں۔

کشمیر سے ڈی ڈبلیو کے نامہ نگار عادل بھٹ کی رپورٹ کے مطابق، چین سمیت دیگر ممالک کی جانب سے پرسکون رہنے کی اپیلوں کے باوجود خطے میں وسیع تر تنازعے کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ واٹر ٹریٹی کے تنازعے اور کشمیر حملے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں۔

ادارت: افسر اعوان

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے دہشت گردی کے انہوں نے کہا بلاول بھٹو نے بھارت کے ساتھ حملے کی رہا ہے کہا کہ

پڑھیں:

بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا

بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔

میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔

مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔

یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔

        View this post on Instagram                      

تاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔

حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • اٹلی میں 10500 پاکستانیوں کو لیبر موبیلیٹی معاہدے کے تحت روزگار مواقع ملیں گے, اطالوی سفیر
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان