Juraat:
2026-07-24@04:20:53 GMT

بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا، اراکین سینیٹ

اشاعت کی تاریخ: 29th, April 2025 GMT

بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا، اراکین سینیٹ

مودی نے سیاسی حکمت عملی یہ بنائی کہ کیسے مسلمانوں کا قتل عام کرنا ہے، عرفان صدیقی
بھارت کی لالچی آنکھیں اب جہلم اور چناب کے پانی پر لگی ہوئی ہیں، سینیٹر علی ظفر

سینیٹ اجلاس میں اراکین نے کہاہے کہ دنیا بھر میں کہیں بھی دہشت گردی ہو اس کی مذمت کرتے ہیں، پہلگام واقعہ بھارت کی سوچی سمجھی سازش ہے ، بھارتی الزامات کو دنیا نے کوئی اہمیت نہیں دی، بھارت نے کوئی جارحیت کی تو افواج پاکستان اسے منہ توڑ جواب دیں گی۔ پیر کو سینیٹ اجلاس میں اظہارخیال کرتے ہوئے سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ 2000 میں جب صدر بل کلنٹن بھارت پہنچے تھے تو 40 کے لگ بھگ سکھو ں کو ماردیا گیا اور الزام پاکستان پر دھر دیا گیا، اب امریکی نائب صدر کے دورے پر پھر 26 لوگوں کو مار کر الزام پاکستان پر لگادیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ مودی کو گجرات کے قصاب کا خطاب دیا گیا جس پر انہوں نے فخر کیا، اور اسے اپنے لیے بڑا اعزاز سمجھا، انہوں نے اپنی سیاست کی حکمت عملی بنائی کہ کیسے مسلمانوں کا قتل عام کرنا ہے ۔ عرفان صدیقی نے کہا کہ 1998 میں جب سے ایٹمی دھماکے ہوئے ہیں اس وقت سے بھارت کو کوئی حملہ کرنے کی جرات نہیں ہوئی۔انہوں نے کہا کہ ہمیں ہرگز یہ بھولنا نہیں چاہے کہ ہمارا دشمن چالاک اور مکار ہے اور اسے کسی خیر کی توقع نہیں ہے ، وہ کوئی بھی حماقت کرسکتا ہے مگر اسے پتا ہونا چاہیے کہ اس حماقت کا نتیجہ وہی نکلے گا جو کہ ایک احمق کے لیے نکلنا چاہیے ۔سینیٹرعلی ظفر نے سینیٹ اجلاس میں اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی قوم ذمیدار، بہادر اور نڈر قوم ہے ، دنیا کے کسی بھی خطے میں دہشت گردی کے خلاف ہیں، اور ہمارے ہزاروں شہری دہشت گردی خلاف جنگ میں جانیں قربان کرچکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پہلگام واقعے میں پاکستان کے ملوث ہونے کا بھارتی الزام جھوٹا ہے ، دروغ گوئی بھارتی حکمرانوں کی عادت ہے ۔سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ 2000 میں جب بل کلنٹن آئے تو اس وقت بھی 40 سکھوں کو ہلاک کرکے الزام پاکستان پر لگایا گیا، پھر بھارتی اداروں ہی کی تحقیقات میں ثابت ہوا کہ پاکستان پر یہ الزام غلط تھا، خود بھارتی حکومت ہی اس واقعے میں ملوث تھی، بھارت میں کچھ بھی ہوتا ہے تو بغیر کسی ثبوت کے الزامات پاکستان پر لگادیے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں پاکستانی عوام کی طرف سے مودی کو ایک پیغام دینا چاہتا ہوں کہ دنیا اور لوگ بے وقوف نہیں ہیں، وہ بھارتی ڈرامے کے اسکرپٹ کو بخوبی جانتے اور اس پروپیگنڈے کو پہچانتے ہیں، ظلم کی بات یہ ہے کہ اس سانحے سے مودی حکومت سیاسی مفاد حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ بھارت کشمیریوں پر بے پناہ ظلم ڈھارہا ہے ، وہ پہلے اپنے گریبان میں جھانکے اور پھر پاکستان پر الزام لگائے ۔انہوں نے کہا کہ بھارت سندھ طاس معاہدہ ختم کرنا چاہتا ہے ، بھارت کی لالچی آنکھیں اب جہلم اور چناب کے پانی پر لگی ہوئی ہیں، پہلی بات تو یہ کہ بھارت یکطرفہ پر اس معاہدے میں ترمیم، اسے معطل یا ختم نہیں کرسکتا۔انہوں نے کہا کہ بھارت ہمارا پانی بند کرنا چاہتا ہے اور ہمیں بھوکا مارنا چاہتا ہے ، کیا اس سے بڑی کوئی دہشت گردی ہوسکتی ہے ۔سینیٹر فیصل واڈا نے کہا کہ میں بھارتی وزیراعظم کو بتانا چاہتا ہوں کہ تم نے مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی ہے ، لیکن اگر پانی بند کرنے کی دھمکی دی گئی تو پہلا حملہ پاکستان کریگا، اور ہم بھارتی فوج کے خون سے ہولی کھیلیں گے ۔سینیٹر جان بلیدی نے سینیٹ اجلاس میں اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ وہ اپنے اندرونی معاملات اور کشمیریوں کے معاملات کو سنجیدگی سے لے ، اور ہمیں بھی اس پر غور کرنا ہوگا کہ ہم کیا کررہے ہیں، آیا ہم اپنے لوگوں کے ساتھ انصاف کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ دیکھنا ہوگا کہ بلوچستان جو پاکستان کا حصہ ہے وہاں جو روزانہ احتجاج ہورہا ہے اس کی کیا وجوہات ہیں، ہمیں دیکھنا ہوگا کہ ہم نے سولہ ایم پی او کے تحت بچیوں کو جیل میں ڈال دیا ہے ۔بعد ازاں سینٹ کا اجلاس (آج) منگل کی سہ پہر تین بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: سینیٹ اجلاس میں انہوں نے کہا کہ کہا کہ بھارت پاکستان پر دیا گیا اور ہم

پڑھیں:

بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔

قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں  کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔  ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔

پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔

قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔

 

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان