فیڈرل لاجز میں مقیم اعلیٰ سرکاری افسران پر کرایہ کے کتنے واجبات ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 29th, July 2025 GMT
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ملازمت کے لیے ملک بھر سے افراد اسلام آباد کا رخ کرتے ہیں ان میں سے بیشتر گھر خرید لیتے ہیں یا کرائے پھرتے ہیں البتہ چند افسران اسلام آباد میں موجود فیڈرل لاجز سرکاری رہائشوں میں رہائش پذیر ہوتے ہیں وزارت ہاؤسنگ کی جانب سے سینٹ کو بتایا گیا کہ اسلام آباد میں موجود 7 لاجز اور سرکاری ہاسٹلز میں مقیم سرکاری افسران کے کرائے کے کچھ واجبات ہیں جن کی مجموعی تعداد 52 لاکھ 7 ہزار روپے سے زائد بنتی ہے۔
دستاویز کے مطابق وزیراعظم ہاؤس، مختلف وزارتوں، سینیٹ، سپریم کورٹ، ایف آئی اے، نیب، ایف بی آر، پی ٹی اے، پی ٹی وی، اسلام آباد پولیس، نیشنل ہائی وے پولیس، یونیورسٹیوں اور سکولوں کے اساتذہ، ڈی جی پاسپورٹ سمیت دیگر سرکاری افسران کے ان لاجز میں کرائے کی مد میں واجبات ہیں۔
مزید پڑھیں: حمیرا اصغر کے خلاف کرایہ داری کیس کی تفصیلات سامنے آگئیں
دستاویز کے مطابق آئی جی پنجاب اور اسلام آباد پولیس عامر ذوالفقار خان کے 51 ہزار روپے سے زائد کے واجبات ہیں، سابق ڈی جی پاسپورٹ یاور حسین کے 16 ہزار روپے، سابق ڈائریکٹر نیشنل پولیس بیورو اور ڈی جی سیف سٹی اسلام آباد رومل اکرم کے 16 ہزار روپے، جوائنٹ سیکریٹری وزیراعظم آفس محمد ہارون رفیق کے 5 لاکھ 16 ہزار روپے، ایڈووکیٹ آن ریکارڈ سپریم کورٹ عمرانہ بلوچ کے 8 ہزار روپے کے واجبات ہیں، ایڈیشنل ڈائریکٹر نیب حبیب الرحمن محسود اور فضل ہادی کے 45، 45 ہزار روپے، آصف رسول سیکریٹری ایف بی آر کے 35 ہزار، جی ایم نیشنل ہائی وے طارق محمود بھٹی کے 29 ہزار روپے کے واجبات ہیں۔
سب سے زیادہ واجبات ایڈیشنل سیکریٹری وزارت داخلہ محمد اسد اسلام کے 6 لاکھ 9 ہزار روپے ہیں، اسی طرح اسسٹنٹ ایڈیشن سیکریٹری کیبیننٹ ڈویژن فرحان عزیز خواجہ کے بھی 5 لاکھ 16 ہزار روپے کے واجبات ہیں، جوائنٹ سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ ڈیویژن شوکت علی کے 2 لاکھ 92 ہزار اور سیکرٹری وزارت اطلاعت نوید احمد شیخ کے بھی 2 لاکھ 92 ہزار روپے کے واجبات ہیں۔
مزید پڑھیں: اب وزیراعظم کا لگژری سیلون عوام کے نام، کرایہ وہ جو ہوش اڑا دے
دستاویز کے مطابق عبداللطیف بٹھائی لاج فیڈرل لاج ون نیو بلاک کے 14 سرکاری افسران کے 2 لاکھ 94 ہزار روپے سے زائد کرائے کے واجبات ہیں اسی طرح اسی لاج کے اولڈ بلاک کے 12 افسران کے 2 لاکھ 81 ہزار روپے سے زائد کے واجبات ہیں، لال شہباز قلندر لاج فیڈرل لاج دوم میں مقیم 20 سرکاری افسران کے دو لاکھ 93 ہزار سے زائد کے واجبات ہیں، فاطمہ جناح ورکنگ وومن ہاسٹل میں مقیم 27 خواتین سرکاری افسران کے کرائے کی مد میں 3 لاکھ 50 ہزار روپے سے زائد کے واجبات ہیں فیڈرل گورنمنٹ چوماری ہاسٹل جی ایٹ کے ایک سرکاری افسر کے 9 ہزار روپے سے زائد کے واجبات ہیں جبکہ گلشن جناح کمپلیکس اسلام آباد کے فیملی سوٹ کمپلیکس میں سرکاری ملازمین کے 19 لاکھ 93 ہزار روپے سے زائد کے واجبات ہیں، جبکہ فیملی سوٹ کمپلیکس جی 5 کے 15 سرکاری ملازمین کے 25 لاکھ 85 ہزار روپے سے زائد کے واجبات ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سیکریٹری وزارت داخلہ محمد اسد اسلام فیڈرل لاجز کرایہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سیکریٹری وزارت داخلہ محمد اسد اسلام فیڈرل لاجز کرایہ ہزار روپے سے زائد کے واجبات ہیں ہزار روپے کے واجبات ہیں سرکاری افسران کے اسلام ا باد فیڈرل لاج
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔