حالیہ امریکی و صیہونی جارحیت ناکام ہو گی، یمنی وزیر دفاع
اشاعت کی تاریخ: 29th, April 2025 GMT
حکومتی کونسل کے سامنے ایک رپورٹ پیش کرتے ہوئے میجر جنرل محمد العاطفی کا کہنا تھا کہ خدا کے فضل و کرم، انقلابی قیادت اور سپریم پولیٹیکل کونسل کے بے پناہ تعاون کی بدولت، یمن نے ڈیفنس سسٹم و جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں نمایاں ترقی کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ یمنی وزیر دفاع میجر جنرل "محمد العاطفی" نے حکومتی کونسل کے سامنے ایک رپورٹ پیش کی جس میں امریکی و صیہونی دشمن کے خلاف جنگ اور یمنی مسلح افواج کی فتوحات سے متعلق پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس رپورٹ میں یمنی مسلح افواج کے ہاتھوں بحیرہ احمر میں F-18 امریکی لڑاکا طیارے کا گر کر تباہ ہونا بھی ذکر کیا گیا۔ اس موقع پر میجر جنرل محمد العاطفی نے ملک کی عسکری و فضائی دفاعی صنعتوں میں نمایاں پیش رفت کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے خلاف حالیہ امریکی و صیہونی جارحیت ناکام ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ خدا کے فضل و کرم، انقلابی قیادت اور سپریم پولیٹیکل کونسل کے بے پناہ تعاون کی بدولت، یمن نے ڈیفنس سسٹم و جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں نمایاں ترقی کی ہے۔
میجر جنرل محمد العاطفی نے کہا کہ ہمارے خلاف امریکہ و اسرائیل کی حالیہ جارحیت بالکل ویسے ہی ناکام ہو گی جیسے ان کے علاقائی ایجنٹوں کو یمن سے گزشتہ 10 سالوں میں شکست ہوئی۔ دشمن کے حملے و کارروائیوں سے ہماری مسلح افواج اور دفاعی صلاحیت پر کوئی فرق نہیں پڑا بلکہ اس اقدام سے غزہ کی حمایت اور دشمن سے مقابلے کے لئے ہمارا عزم مزید مستحکم ہو جاتا ہے۔ ہماری مسلح افواج امریکی و صیہونی جارحیت اور ملک میں ان کے ایجنٹوں سے مقابلے کے لئے ہر وقت تیار ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ صبح امریکی جنگی طیاروں نے شمالی یمن کے صوبے "صعدہ" میں مہاجر کیمپ پر بمباری کر دی جس کے نتیجے میں 60 افریقی مہاجر شہید اور 65 کے قریب زخمی ہو گئے۔ یاد رہے کہ امریکہ و برطانیہ نے صیہونی رژیم کی حمایت میں 15 مارچ 2025ء سے یمن کے خلاف اپنی فضائی جارحیت کا آغاز کر رکھا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: امریکی و صیہونی محمد العاطفی مسلح افواج کونسل کے
پڑھیں:
99 ووٹ لے کر بنگلہ دیش نے دنیا کو حیران کردیا، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی صدارت جیت لی
بنگلا دیش کے وزیر خارجہ خالد الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس (2026-2027) کے لیے صدر منتخب ہوگئے ہیں۔ انہوں نے ایک سخت اور قریبی مقابلے میں قبرص کے امیدوار آندریاس ایس کاکورس کو شکست دی۔
193 رکنی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہونے والی رائے شماری میں خالد الرحمان نے 99 ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے حریف آندریاس کاکورس کو 91 ووٹ ملے۔ انتخاب میں کوئی رکن ملک غیر حاضر یا غیر جانبدار نہیں رہا۔ کامیابی کے لیے 96 ووٹ درکار تھے۔
اقوام متحدہ کے قواعد کے مطابق جنرل اسمبلی کے صدر کا انتخاب ہر سال تمام رکن ممالک کی خفیہ رائے شماری کے ذریعے کیا جاتا ہے اور ہر ملک کو ایک ووٹ کا حق حاصل ہوتا ہے۔
اگرچہ یہ انتخاب باضابطہ طور پر مسابقتی ہوتا ہے، تاہم عمومی طور پر مختلف علاقائی گروپوں کے درمیان باری باری صدارت کا اصول اپنایا جاتا ہے۔
81 ویں اجلاس کے لیے ایشیا پیسیفک گروپ کو امیدوار نامزد کرنے کا حق حاصل تھا، جس کے نتیجے میں بنگلہ دیش اور قبرص کے حمایت یافتہ امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوا۔
خالد الرحمان ستمبر 2026 میں جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس کے آغاز پر اپنے عہدے کا باضابطہ چارج سنبھالیں گے اور ایک سال تک اس منصب پر فائز رہیں گے۔ اس دوران وہ جنرل اسمبلی کے اجلاسوں کی صدارت، عالمی مسائل پر مباحثے کی نگرانی اور رکن ممالک کے درمیان مذاکرات کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری ادا کریں گے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ کامیابی عالمی سفارت کاری میں بنگلا دیش کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتی ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی صدارت کو ایک اہم سفارتی منصب سمجھا جاتا ہے جو عالمی امن، ترقی، ماحولیاتی تبدیلی اور اقوام متحدہ کی اصلاحات جیسے اہم معاملات پر اثر انداز ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
دوسری جانب پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے خالد الرحمان کو کامیابی پر مبارکباد دی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا کہ خالد الرحمان کا وسیع سفارتی تجربہ اور کثیرالجہتی تعاون کے لیے ان کی وابستگی جنرل اسمبلی کی مؤثر قیادت میں اہم کردار ادا کرے گی۔
Heartiest felicitations to my dear brother, H.E. Dr. Khalilur Rahman, Foreign Minister of Bangladesh on his election as President of the 81st Session of the UN General Assembly.
Having had closely engaged with him, I am confident that his vast diplomatic experience and steadfast…
اسحاق ڈار نے امید ظاہر کی کہ اقوام متحدہ میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون مزید مضبوط ہوگا اور عالمی امن، پائیدار ترقی اور بین الاقوامی مکالمے کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رہیں گی۔