مشترکہ مفادات کونسل کا فیصلہ دیر آید درست آید ہے: لیاقت بلوچ
اشاعت کی تاریخ: 29th, April 2025 GMT
جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ—فائل فوٹو
جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ کا کہنا ہے کہ مشترکہ مفادات کونسل کا فیصلہ دیر آید درست آید ہے۔
ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ وفاق اور صوبے پانی کی قلت و آبی ذخائر کا مسئلہ بھی حل کریں۔
لیاقت بلوچ کا کہنا ہے کہ پاکستان کےلیے دریاؤں کا پانی زندگی اور بقاء ہے۔
مشترکہ مفادات کونسل نے نئی نہریں بنانے کا فیصلہ.
نائب امیرِ جماعت اسلامی نے یہ بھی کہا کہ پنجاب حکومت ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف پر ظلم بند کرے، ان کے جائز مطالبات تسلیم کرے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز مشترکہ مفادات کونسل نے نئی نہریں بنانے کا فیصلہ مسترد کر دیا تھا۔
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت مشترکہ مفادات کونسل کا 52 واں اجلاس ہوا تھا، جس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ مشترکہ مفادات کونسل کی باہمی منظوری کے بغیر کوئی نیا نہر منصوبہ شروع نہیں کیا جائے گا، تمام صوبوں کے درمیان مفاہمت کے بغیر وفاقی حکومت اس سلسلے میں مزید پیشرفت نہیں کرے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: مشترکہ مفادات کونسل لیاقت بلوچ کا فیصلہ
پڑھیں:
آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔
حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔