پہلگام حملے کے بعد جنگی جنون میں مبتلا بھارت نے ایک بار پھر پاکستان کو بغیر کسی ثبوت کے مورد الزام ٹھہرا کر خطے میں کشیدگی کو ہوا دینا شروع کردی۔ بھارت کسی بھی وقت پاکستان کے خلاف فوجی کارروائی کی حماقت کرسکتا ہے۔ تاہم، پاکستانی مسلح افواج دشمن کی ہر مہم جوئی کا دندان شکن جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

مستند ذرائع کے مطابق، بھارتی افواج کی لائن آف کنٹرول (ایل او سی) اور مقبوضہ کشمیر کے اطراف غیر معمولی نقل و حرکت دیکھی گئی ہے، جبکہ سرحدی علاقوں میں دیہات خالی کرانے کا عمل تیز تر ہو چکا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارتی فوج نے سامبا، کٹھوعہ، اور اکھنور سیکٹرز میں بڑے پیمانے پر مقامی آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کے احکامات دیئے ہیں۔ اس سے قبل اٹاری سیکٹر میں بھی گردواروں سے اعلانات کروا کر کسانوں کو فصلوں کی فوری کٹائی کی ہدایات دی گئی تھیں، جسے ماہرین جنگی تیاریوں کا پیش خیمہ قرار دے رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: پہلگام فالس فلیگ آپریشن: بھارتی جنگی جنون کے باعث مقبوضہ کشمیر کے عوام ظلم و جبر کا شکار

دفاعی اور انٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت کسی بھی وقت پاکستان کے خلاف فوجی کارروائی کی حماقت کرسکتا ہے۔ تاہم، پاکستانی مسلح افواج دشمن کی ہر مہم جوئی کا دندان شکن جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ پاکستان کی بری، بحری اور فضائی افواج کو الرٹ کر دیا گیا ہے، اور کسی بھی بھارتی جارحیت کا بھرپور دفاع کیا جائے گا۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ مودی سرکار کے جنگی جنون نے نہ صرف خطے کے امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے بلکہ کشمیری مسلمانوں کے لیے بھی زندگی کو اجیرن بنا دیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں پہلگام حملے کو جواز بنا کر مسلمانوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن جاری ہے۔ گھروں پر چھاپے، نوجوانوں کی گرفتاری، اور ذرائع مواصلات کی بندش معمول بنتی جا رہی ہے۔

بین الاقوامی سطح پر اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ عالمی مبصرین اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بھارتی عزائم کو علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے رہی ہیں۔ ادھر بھارت نے ہندوتوا پروپیگنڈے کے تحت پاکستان کے سینکڑوں نیوز چینلز کو بھی بلاک کروا دیا ہے تاکہ بھارتی عوام کو یکطرفہ بیانیے کے ذریعے گمراہ کیا جا سکے۔

مزید پڑھیں: پہلگام واقعہ: پاکستان کے خلاف مہم جوئی سے انکار پر بھارتی فوج کے جنرل کی چھٹی

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت کی جانب سے میڈیا اور عوام کو حقائق سے دور رکھنا ایک منظم مہم کا حصہ ہے جس کا مقصد داخلی ناکامیوں سے توجہ ہٹانا اور انتہا پسند ووٹرز کو خوش کرنا ہے۔

پاکستانی عوام اور مسلح افواج یک زبان اور یکجان ہو کر ملکی خود مختاری، علاقائی سالمیت اور قومی غیرت کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر دفاع کے لیے تیار ہیں۔ عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر بھارت نے کوئی مہم جوئی کی تو اسے ایسی عبرتناک شکست دی جائے گی جو تاریخ میں لکھی جائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بھارت پاک فوج پاکستان پہلگام حملہ جنگی جنون.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بھارت پاک فوج پاکستان پہلگام حملہ جنگی جنون کا کہنا ہے کہ مسلح افواج پاکستان کے جنگی جنون کہ بھارت کے خلاف کے لیے

پڑھیں:

جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان

برلن: جرمنی نے بحیرۂ احمر میں تعینات اپنے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ سفارتی پیش رفت کے بعد آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے ممکنہ مشن کی فوری ضرورت باقی نہیں رہی۔

جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق واپس بلائے جانے والے جہازوں میں ’فلڈا‘ نامی مائن ہنٹر اور ’موزیل‘ نامی سپورٹ شپ شامل ہیں۔ دونوں جہاز جون میں نہرِ سویز کے راستے بحیرۂ احمر پہنچے تھے اور اس وقت جبوتی میں تعینات تھے۔

ان جہازوں کے ساتھ تقریباً 140 اہلکار بھی موجود تھے، جن میں بارودی سرنگیں صاف کرنے والے غوطہ خور، خودکار زیرِ آب نظام کے ماہرین اور سکیورٹی ٹیمیں شامل تھیں۔

جرمن حکام کے مطابق ان بحری جہازوں کو اس خدشے کے پیش نظر تیار رکھا گیا تھا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگیں بچھاتا ہے تو انہیں فوری کارروائی کے لیے استعمال کیا جا سکے۔

جرمنی کے وزیر دفاع بورس پسٹوریئس پہلے ہی واضح کر چکے تھے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی فوجی مشن کا انحصار سیاسی اور سفارتی صورتحال کے ساتھ ساتھ ایران اور عمان سمیت علاقائی ممالک کی رضامندی پر ہوگا۔

وزارتِ دفاع نے کہا کہ یہ بحری مشن کسی جنگی کارروائی کا حصہ نہیں تھا بلکہ یورپی ممالک کی جانب سے عالمی بحری راستوں پر آزادانہ جہاز رانی کے تحفظ کی کوششوں کا حصہ تھا۔

اگرچہ یہ دونوں جہاز واپس بلائے جا رہے ہیں، تاہم جرمنی بدستور یورپی یونین کے آپریشن اسپائیڈیز میں شامل رہے گا، جس کا مقصد بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو یمن کے حوثی گروپ کے حملوں سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔

اس کے علاوہ جرمنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ لبنان کے ساحل پر اقوام متحدہ کے امن مشن یونیفل میں اپنی بحری شمولیت بھی 2026 کے اختتام تک برقرار رکھے گا۔

جرمن حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ فوری خطرات میں کچھ کمی آئی ہے، لیکن مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی سکیورٹی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔ ان کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی دوبارہ بڑھتی ہے تو آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں عالمی جہاز رانی ایک مرتبہ پھر متاثر ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا