فواد خان کی فلم ’’عبیر گلال‘‘ بھارت کے بعد اب پاکستان میں بھی پابندی کی زد میں آچکی ہے۔

پہلگام واقعے کے بعد ’’عبیر گلال‘‘ کی بھارت میں ریلیز پر پابندی کے بعد اب خبریں ہیں کہ یہ فلم پاکستان میں بھی ریلیز نہیں کی جائے گی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ عبیر گلال کو ایک انٹرنیشنل پروجیکٹ قرار دیا جا رہا تھا، جس پر امید کی جا رہی تھی کہ یہ فلم پاکستانی سینماؤں میں نمائش کے لیے پیش کی جائے گی۔ مگر جیسے ہی بھارت میں اس فلم پر غیر رسمی طور پر بریک لگا، ویسے ہی پاکستان میں بھی سرکاری دروازے بند کر دیے گئے۔ معروف ڈسٹری بیوٹر ستیش آنند نے بھارتی میڈیا سے گفتگو میں تصدیق کی کہ فلم اب پاکستان میں ریلیز نہیں ہوگی۔

ستیش آنند کے مطابق، اصل مسئلہ فلم کی ہیروئن، بھارتی اداکارہ وانی کپور کی موجودگی ہے۔ ان کا کہنا تھا، ’’’یہ پاکستان کی طرف سے بھارتی پابندی کا جواب ہے۔ چونکہ فلم میں بھارتی اداکارہ شامل ہیں، اس لیے ہم نے بھی ریلیز روکنے کا فیصلہ کیا۔‘‘‘

اس اچانک فیصلے سے پاکستانی فلم ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک کو بھی مالی دھچکا لگا ہے، اور ستیش کے بقول یہ فلم کی ریلیز کے لیے ’’انتہائی برا وقت‘‘ ثابت ہوا۔

فواد خان کا بالی ووڈ سفر پہلے ہی سیاست کی لہروں کے تھپیڑے سہہ چکا ہے۔ انہوں نے ’خوبصورت‘، ’کپور اینڈ سنز‘ اور ’اے دل ہے مشکل‘ جیسی فلموں کے ذریعے بھارتی فلم نگری میں اپنا مقام بنایا، مگر 2016 کے اڑی حملے کے بعد جب بھارتی حکومت نے پاکستانی فنکاروں پر پابندی لگا دی، تب سے فواد کا فلمی سفر تعطل کا شکار رہا۔

اب جبکہ عبیر گلال پر ایک بار پھر دونوں ممالک نے نظریں چُرالی ہیں، تو فلم کی عالمی ریلیز بھی بے یقینی کی دھند میں چھپ گئی ہے۔ پہلے خبر تھی کہ فلم 9 مئی کو ریلیز ہو گی، لیکن تازہ اطلاعات کے مطابق اسے غیر معینہ مدت تک مؤخر کر دیا گیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پاکستان میں بھی عبیر گلال کے بعد

پڑھیں:

لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش

کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔

جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا  ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔

حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت