ججز ٹرانسفر، چیف جسٹس نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیڈرل ازم پر تفصیل سے بات کی، آئینی بینچ
اشاعت کی تاریخ: 1st, May 2025 GMT
اسلام آباد:
سپریم کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر نے میں ججز ٹرانسفر کیخلاف کیس میں ریمارکس دیے ہیں کہ ججز ٹرانسفر کیلئے تین چیف جسٹس صاحبان نے رضامندی کا اظہار کیا جبکہ چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے بہت تفصیل کیساتھ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیڈرل ازم پر بات کی۔
جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 5 رکنی آئینی بینچ نے اپیلوں پر سماعت کی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے 5 ججز کے وکیل منیراے ملک نے دلائل میں کہا ہم نے جواب الجواب دلائل جمع کرا دیے ہیں۔
ایک جج کا ٹرانسفر ایگزیکٹو عمل ہے جس پر جوڈیشل ریویو ہو سکتا ہے، ججز ٹرانسفر کے عمل میں صدر مملکت کو سمری کابینہ سے منظوری کے بغیر بھجوائی گئی، اس بارے میں سپریم کورٹ کا فیصلہ مصطفیٰ ایمپکس کیس موجود ہے۔
مزید پڑھیں: ججز ٹرانسفر کیس؛ وکیل درخواستگزار کو جواب الجواب دینے کیلیے مہلت مل گئی
جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا مصطفیٰ ایمپکس کیس میں رولز آف بزنس کے سیکشن 16 دو کو کالعدم قرار دیا گیا، اسکا ججز ٹرانسفر سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
منیر اے ملک نے کہا قاضی فائز عیسیٰ کیس میں سپریم کورٹ نے کہا عدالتی امور پر صدر کو آزادانہ مائنڈ اپلائی کرنا چاہیے، ججز ٹرانسفر کی سمریوں سے عیاں ہوتا ہے صدر مملکت اور وزیراعظم نے ایک ہی دن منظوری دی، سمری عدلیہ کے ذریعے نہیں بھجوائی گئی، ٹرانسفر سے قبل عدلیہ میں مشاورت نہیں ہوئی۔ کیس کی آئندہ سماعت آئندہ بدھ تک ملتوی کر دی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ججز ٹرانسفر کی کورٹ کے
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔