WE News:
2026-07-24@01:19:47 GMT

امریکا اور یوکرین کے درمیان معدنیات کے معاہدے پر دستخط

اشاعت کی تاریخ: 1st, May 2025 GMT

امریکا اور یوکرین کے درمیان معدنیات کے معاہدے پر دستخط

یوکرین اور امریکا نے واشنگٹن کو قیمتی نایاب معدنیات تک رسائی فراہم کرنے اور جنگ زدہ ملک میں تعمیر نو کی کوششوں کو فنڈ دینے کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

دونوں ممالک نے بدھ کے روز واشنگٹن ڈی سی میں کئی مہینوں کی بھرپور بات چیت کے بعد معاہدے پر دستخط کیے، معاہدے کے بعض پہلوؤں کو تبدیل کرنے کے لیے آخری لمحات میں موصول تجاویز کے سبب غیر یقینی صورتحال برقرار رہی۔

رواں برس فروری میں وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے درمیان ہونے والے بدمزگی کے بعد یہ معاہدہ امریکا اور یوکرین کے تعلقات میں ایک پیش رفت کی نشاندہی کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے، امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ امریکا-یوکرین ری کنسٹرکشن انویسٹمنٹ فنڈ کا قیام روس کے لیے ایک اشارہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ’طویل مدت کے لیے ایک آزاد، خودمختار اور خوشحال یوکرین پر مرکوز امن عمل کے لیے‘ پرعزم ہے۔

اسکاٹ بیسنٹ نے ایک بیان میں کہا کہ صدر ٹرمپ نے امریکی اور یوکرین کے عوام کے درمیان اس شراکت داری کا تصور کیا تاکہ یوکرین میں دیرپا امن اور خوشحالی کے لیے دونوں فریقوں کے عزم کو ظاہر کیا جا سکے۔”

’واضح رہے کہ روسی جنگی مشین کی مالی اعانت یا فراہمی کرنیوالی کسی بھی ریاست یا شخص کو یوکرین کی تعمیر نو سے فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘

مزید پڑھیں:

ٹرمپ انتظامیہ نے معاہدے کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کی ہیں جبکہ یوکرین کی وزارت اقتصادیات نے کہا کہ امریکا اس فنڈ میں براہ راست یا فوجی امداد کے ذریعے حصہ ڈالے گا اور یوکرین قدرتی وسائل کے استعمال سے حاصل ہونے والی آمدنی کا 50 فیصد حصہ ڈالے گا۔

یوکرین کی وزارت اقتصادیات نے کہا کہ فنڈز کے تمام وسائل خصوصی طور پر پہلے 10 سالوں کے لیے یوکرین میں لگائے جائیں گے، جس کے بعد منافع شراکت داروں کے درمیان تقسیم کیا جاسکتا ہے، امریکا اور یوکرین کو اس فنڈ پر فیصلہ سازی کا مساوی اختیار حاصل ہوگا، اس معاہدے میں صرف مستقبل کی امریکی فوجی امداد کا احاطہ کیا جائے گا، ماضی کی امداد کا نہیں۔

مزید پڑھیں:

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسکاٹ بیسنٹ امریکا ری کنسٹرکشن انویسٹمنٹ فنڈ وزارت اقتصادیات ولادیمیر زیلنسکی یوکرین.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسکاٹ بیسنٹ امریکا ری کنسٹرکشن انویسٹمنٹ فنڈ وزارت اقتصادیات ولادیمیر زیلنسکی یوکرین اور یوکرین کے کے درمیان کے لیے کہا کہ

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل