’طنز اگر بے مقصد ہو تو صرف زخم دیتا ہے، اور مقصد کے ساتھ ہو تو مرہم بن جاتا ہے‘۔ کمال احمد رضوی کا یہ جملہ فکری گہرائی اور طنز و مزاح کو سماجی شعور سے جوڑنے کی کوشش کا واضح مظہر ہے۔ اسی لیے ان کا تخلیق کردہ ’الف نون‘ آج بھی محض ڈرامہ نہیں، بلکہ ایک سماجی آئینہ سمجھا جاتا ہے۔
کمال احمد رضوی پاکستان کے ایک عظیم اداکار، ڈرامہ نویس، ہدایتکار اور ثقافت کے علمبردار تھے جنہوں نے اپنے کیریئر کے دوران بے شمار یادگار ڈراموں، تحریروں اور تھیٹر سے اپنا منفرد مقام بنایا۔ ان کا 95واں یومِ پیدائش آج (یکم مئی) منایا جا رہا ہے۔
کمال احمد رضوی یکم مئی 1930 کو بھارت کی ریاست بہار کے ایک ادبی خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد ایک پولیس افسر ہونے کے ساتھ ساتھ ادبی ذوق کے حامل تھے، جس کا اثر کمال احمد رضوی پر گہرا تھا۔ رضوی صاحب نے اپنی ابتدائی تعلیم پٹنہ یونیورسٹی سے حاصل کی اور پھر 1951 میں کراچی منتقل ہو گئے۔ ان کا ذہن ہمیشہ تخلیقی تھا اور انہوں نے اُردو کلاسیکی ادب کا مطالعہ بچپن سے ہی شروع کردیا تھا۔
مزید پڑھیں: ’تم ہی سو گئے داستاں کہتے کہتے‘، معین اختر کی 14ویں برسی
کمال احمد رضوی کا فنی سفر بچپن ہی میں شروع ہوگیا تھا جب وہ آٹھویں جماعت کے طالب علم تھے۔ اس وقت انہوں نے اردو کے کلاسیکی ادب سے متاثر ہو کر ڈرامے پڑھنا شروع کیے۔ ان کا یہ شوق ان کے والد کی وجہ سے بڑھا جو سٹیج ڈرامے دیکھنے کے شوقین تھے۔ اسکول کے دنوں میں کمال احمد رضوی نے ولیم شیکسپیئر کے مشہور ڈرامے ’وینس کا تاجر‘ میں شائیلاک کا کردار ادا کیا۔
کمال احمد رضوی نے 20 سے زائد ڈرامے تحریر کیے اور ان سب کو خود ہی ڈائریکٹ کیا اور ان میں اپنی اداکاری کے جوہر بھی دکھائے۔ ان کے مشہور ڈراموں میں چور مچائے شور، میرے ہمدم میرے دوست، آدھی بات اور صاحب بی بی غلام، شامل ہیں۔ ان کی اداکاری کا ایک اہم سنگ میل ’الف نون‘ میں ’الن‘ کے کردار کی صورت میں سامنے آیا، جس نے انہیں نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں شہرت دلائی۔
کمال احمد رضوی نہ صرف کامیاب اداکار بلکہ کامیاب مصنف بھی تھے۔ انہوں نے بچوں کے ادب کے لیے بھی کئی شاندار ڈرامے اور ناول تحریر کیے، جن میں جادو کی بوتل، خوبصورت شہزادی اور سمندر میں نمک شامل ہیں۔ ان کا ادب صرف بچوں تک محدود نہیں تھا، بلکہ انہوں نے کلاسیکی ادب کے مشہور ناولوں کا اُردو میں ترجمہ بھی کیا، جیسے کہ جرم و سزا اور دستوئیفسکی کے دیگر ناولز۔
مزید پڑھیں: لوگوں کو ہنسانے والے ننھا نے کیا واقعی خودکشی کی تھی؟
کمال احمد رضوی نے 1951 میں ریڈیو پاکستان کے لیے ڈرامے لکھنا شروع کیے۔ ان کے مشہور ریڈیو ڈراموں میں جب آنکھ کھلی اور وحشی بطخ شامل ہیں۔ اس کے بعد، وہ اسٹیج ڈراموں میں بھی کامیاب ہوئے اور خوابوں کے مسافر جیسے ڈراموں کو اسٹیج پر پیش کیا۔
’الف نون‘ کی شہرت کے بعد کمال احمد رضوی نے ٹی وی پر بھی طویل عرصے تک کام کیا اور کئی مشہور ڈرامے تخلیق کیے، جیسے مسٹر شیطان، چیلنج ویکلی، بانو کے میاں، آؤ نوکری کریں اور ہم سب پاگل ہیں۔
کمال احمد رضوی نے اپنے فن سے معاشرتی برائیوں، منافقت اور دھوکا دہی کو بے نقاب کیا۔ ان کے منتخب ڈراموں کے مجموعے نے انہیں جنوبی ایشیا کے مشہور ڈراما نویسوں میں شامل کیا۔ 1989 میں انہیں تمغہ حسنِ کارکردگی سے نوازا گیا۔
مزید پڑھیں: لالو کھیت کا لعل۔۔ عمر شریف
کمال احمد رضوی کا انتقال 17 دسمبر 2015 کو کراچی میں ہوا۔ وہ 85 برس کے تھے۔ ان کی زندگی اور کام ہمیشہ فنونِ لطیفہ کی دنیا میں زندہ رہیں گے۔ انہوں نے جنرل ضیاءالحق سے پرائیڈ آف پرفارمنس لینے سے انکار کر دیا تھا، اور کہا تھا کہ وہ ’ضیاءالحق جیسے غلیظ آدمی کے ہاتھ سے ایوارڈ نہیں لیں گے۔‘
کمال احمد رضوی کی زندگی ایک لازوال ورثہ ہے، جو نہ صرف ان کی اداکاری کی بدولت یاد رکھی جائے گی بلکہ ان کی تخلیقات اور ان کے معاشرتی پیغامات بھی ہمیشہ زندہ رہیں گے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کمال احمد رضوی نے انہوں نے کے مشہور اور ان
پڑھیں:
گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ملاقات، دینار ہسپتال ڈی آئی خان کیلئے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی فراہمی پر تبادلہ خیال
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے اسلام آباد میں ملاقات کی۔ منگل کو گورنر آفس سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں ڈی آئی خان کے دینار ہسپتال کے لیے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی فراہمی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔(جاری ہے)
اس موقع پر گورنر نے کہا کہ جنوبی اضلاع کے کینسر کے مریضوں کو شدید مشکلات کاسامنا ہے، وفاق طبی آلات کی فراہمی میں تعاون کرے جس پر وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے دینار ہسپتال کے لیے ضروری مشینری اور طبی آلات کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی۔
گورنر نے کہا کہ وفاق صحت کے شعبے میں خیبرپختونخوا کے پسماندہ اور متاثرہ علاقوں پر خصوصی توجہ دے، دینار ہسپتال میں جدید طبی سہولیات کی فراہمی سے جنوبی اضلاع کے مریضوں کو ریلیف ملے گا۔ وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں صحت کی سہولیات کی بہتری کے لیے ہرممکن تعاون کریں گے۔ ملاقات میں وفاق اور خیبرپختونخوا کے درمیان صحت کے شعبے میں تعاون مزید بڑھانے پر بھی اتفاق ہوا۔ خیبرپختونخوا اسمبلی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر احمد کریم کنڈی بھی اس موقع پر موجود تھے۔