ڈرامہ ’کبھی میں کبھی تم‘ کا سیکوئل نہیں بننے دوں گا، فہد مصطفیٰ
اشاعت کی تاریخ: 1st, May 2025 GMT
پروڈیوسر و اداکار فہد مصطفیٰ نے حال ہی میں اختتام پذیر ہونے والے اپنے مقبول ڈرامے ’کبھی میں کبھی تم‘ کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کا سیکوئل نہیں بننے دیں گے۔
فہد مصطفیٰ نے نجی ٹی وی کے شو میں شرکت کی، جہاں میزبان نے ایک سیگمنٹ کے دوران ان سے پوچھا کہ ’کبھی میں کبھی تم‘ کا سیکوئل بنا تو کیا وہ لازمی اس کا حصہ ہوں گے؟ جس پر فہد مصطفیٰ نے کہا کہ ’میں کبھی میں کبھی تم کا سیکوئل بننے ہی نہیں دوں گا‘۔
یہ بھی پڑھیں: فہد مصطفیٰ نے ڈرامہ ’کبھی میں کبھی تم‘ کی موٹر سائیکل کو نیلام کردیا
اداکار کا ڈرامے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مزید کہنا تھا کہ ’اچھی چیز بن گئی ہے تو اس کو خراب مت کریں، تشنگی برقرار رہنی چاہیے‘۔
ہانیہ عامر اور فہد مصطفیٰ ڈراما سیریل ’کبھی میں کبھی تم‘ میں شرجینا اور مصطفیٰ کے کردار میں نظر آنے کے بعد مداحوں کے دلوں پر راج کررہے ہیں۔
واضح رہے’کبھی میں کبھی تم‘ ڈرامے کو کہانی اور کرداروں کی وجہ سے کافی سراہا گیا تھا، اس کی مقبولیت نہ صرف پاکستان بلکہ بھارت اور بنگلہ دیش سمیت دیگر ممالک میں بھی دیکھی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: بشریٰ انصاری کو ڈرامہ کبھی میں کبھی تم میں اپنا کردار کیوں پسند نہیں تھا؟
ڈرامے میں فہد مصطفیٰ کے ساتھ ساتھ ہانیہ عامر، جاوید شیخ، بشریٰ انصاری، نعیمہ بٹ، اریج چوہدری اور عماد عرفانی سمیت دیگر اداکاروں نے کام کیا۔ ڈرامے میں فہد مصطفیٰ اور ہانیہ عامر نے میاں اور بیوی کا کردار ادا کیا جبکہ عماد عرفانی نے فہد مصطفیٰ کے لالچی بھائی کا روپ دھارا جو دولت کی خاطر ہانیہ عامر سے شادی کرنے سے انکار کردیتے ہیں، جس کے بعد فہد مصطفیٰ ان سے شادی کرتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستانی ڈرامے فہد مصطفی کبھی میں کبھی تم ہانیہ عامر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستانی ڈرامے فہد مصطفی کبھی میں کبھی تم ہانیہ عامر کبھی میں کبھی تم ہانیہ عامر فہد مصطفی کا سیکوئل
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔