Express News:
2026-06-03@03:00:06 GMT

زندہ لاش ہے مزدور۔۔۔۔ !

اشاعت کی تاریخ: 1st, May 2025 GMT

 ہر سال یکم مئی کو جب ہم یوم مزدور مناتے ہیں تو میں اکثر یہ دیکھتا ہوں کہ جو کسان اور کاشت کار شدید گرمی کے اس موسم میں گندم کی کٹائی اور سنبھالنے میں دن رات ایک کئی ہوتے ہیں، بعد ازآں آٹے کے پانچ کلو تھیلے کے لیے طویل قطار میں سراپا انتظار ہوتے ہیں۔ یہ پانچ کلو کا تھیلا سستا بھی ہو تو اس کے لیے کافی مہنگا ثابت ہوتا ہے، وجہ یہ ہے کہ ایک مزدور اور غریب گھرانے کے پانچ سات سے آٹھ دس افراد ایک یا دو تھیلوں پر آخر کتنے دن بسر کریں گے۔۔۔ ؟

ستم بالائے ستم یہ کہ جس دن آٹا لینے کا معرکہ درپیش ہو اس دن دیہاڑی بھی تو نہیں لگتی۔ جب تین سے چار گھنٹے پانچ سو میٹر کی قطار میں تُوتکار، مارو مار اور ذلیل و خوار ہونے میں صرف ہو جائیں تو پھر ساری دیہاڑی یوں ہی ہی بے کار چلی جاتی ہے۔

ستّر فی صد زراعت سے متعلقہ پیداواری ملک میں ستّر فی صد محنت کشوں اور ملازمین کے پاس اپنا مکان ہوتا ہے نہ کھیت و کھلیان۔ ایک آٹے اور روٹی کا مسئلہ تو نہیں بل کہ پرائے مکان کے کرائے، اپنے خستہ مکان کی پختگی اور نہ اپنے نہ پرائے بہلاوے کے تین مرلہ پلاٹ کی قسط کا مسئلہ الگ سے ہے۔ روزہ ہے تو محنت کش روز کا روز پریشان، نہ سحری کے پراٹھوں اور ناشتے کے لیے سودا سلف ہے تو نہ افطار کے لیے خورونوش کا سامان، چاند رات ہے تو مزدور کی شب غم اور عید ہے تو کوئی مبارک باد اور نہ کسی کی دید۔

ایک ہزار سے پندرہ سو دو ہزار دیہاڑی کی اجرت میں روٹی سالن کا انتظام کیا جائے یا پھر بال بچوں کے جوتوں اور چیتھڑوں کا۔ دکھ دردوں سے چُور زور زور سے کھانسنے والے بوڑھے اور ناتواں باپ کی دوائی بھی تو ہفتہ عشرہ سے ختم ہے۔ ماں بے چاری پچھلے سال کم خوراکی اور جاڑے کی شدید ٹھنڈ کے سبب خاموشی سے بغیر کھانسنے کھنکھارنے کے چل بسی تھی، اس لیے کہ اسے اپنے بیٹے کی لاچاری و بے بسی کا بہ خوبی اندازہ تھا۔

زردی مائل دبلی پتلی گھر والی بھی اکثر شاکی رہتی ہے کہ جس دن سے اس کی ڈولی اس گھر اتری ہے ہمیشہ اس کے ارمانوں کا خون ہی ہُوا ہے۔ کبھی ڈھنگ کے کپڑے پہنے ہیں اور نہ کبھی کانوں اور بالوں میں پھول گجرے سجائے ہیں۔ نکاح نامے میں درج مبلغ پانچ سو روپے ماہانہ پاکستانی بھی تو اسے کبھی نصیب نہ ہوئے تھے۔ گھر میں موجود خاطر خواہ جہیز میسر نہ ہونے سے بیٹھی ہوئی کنواری نند اپنے رشتے کی تاخیر اور بالوں میں چاندی اتر آنے پر منحوس بھابھی کو صبح شام جلی کٹی سنانے سے باز نہیں آتی۔

سرکاری اسکول میں ٹیچرز کی کمی تھی دوسرا گھر سے دور بھی تھا لہٰذا ننھے اور گڑیا کو چند ماہ پہلے ایک گلی کے ایک بہلاوے کے پرائیویٹ اسکول میں داخل کروایا گیا جس کی دو ماہ کی فیس بقایا تھی۔ گیس کا بل تو پیڈ تھا مگر بجلی والوں نے شوکاز بھیجا ہُوا تھا۔ عید پر ادھر ادھر سے کچھ ادھار سدھار کرکے اہل خانہ کو کسی قدر راضی کر لیا تھا لیکن اس کے بعد اب دو مہینوں سے گھر میں گوشت پکنے کی نوبت نہ آئی تھی، کبھی دال دلیہ تو کبھی چٹنی اچار اور کبھی روکھی سوکھی۔ پیٹ کے دوزخ کو ٹھنڈا کرنا مقصود تھا جیسے تیسے کر لیا جاتا، اﷲ اﷲ خیر صلا!

کرایہ مکان، یوٹیلٹی بل، آٹا، چاول، دالیں، سبزیاں، کپڑا لتہ، بچوں کی فیسیں، ادویات اور دیگر کی ایک اخراجات کے علاوہ روز بہ روز بڑھتے ہوئے قرض کے چکانے کی فکر محنت کش کو اندر سے دیمک کی طرح چاٹتی چاٹتی ایک دن قبر میں جا اُتارتی ہے اور یہ ہر دوسرے محنت کش اور اس کی خاندانی زندگی کی روح فرسا اور جاں گسل کتھا ہے۔

بنیادی مسئلہ خوشۃٔ گندم اور روٹی کے لقمہ کا ہے۔ یہی سب سے بڑا سچ اور مسئلہ ہے اور باقی سارے اس کے سامنے نان ایشوز ہیں یا اس ’’اُم المسائل‘‘ سے پھوٹنے والی شاخیں۔ یہ سرطان کا پھوڑا ہے اور پھر باقی سب اسی پھوڑے کی دکھتی رگیں۔

بندۂ مزدور کے اوقات کی تلخی کی کسی سرمایہ دار اور جاگیردار کو کیا خبر جو منہ میں سونے کا چمچ لے کر پیدا ہُوا ہو اور پھر اپنے آس پاس کی ننگ اور بھوک کو ایک غریب مزدور اور کسان کی قسمت اور اپنی بے حساب دولت و زمین کو خدا کی عطا سمجھ بیٹھا ہو، ہاں البتہ کبھی کبھار انسانی ضمیر کی ہلکی سی دستک محسوس کرکے قرب و جوار کے چند غریبوں میں خیرات کے چند سکے بانٹنا نہیں بھولتا کیوں کہ مولوی صاحب نے غریب محنت کش پر اس جُود و سخا کے بدلے اس کے لیے خدا سے جنّت کی ضمانت جو لے رکھی ہے۔

کشتگان غرور کی باتیں صاحبان غرور کیا جانیں

اور غفورے پہ جو گزرتی ہے سیٹھ عبدالغفور کیا جانیں

یہ طبقاتی جنگ ہے، یہ ظالم و مظلوم کے مابین کش مکش ہے، یہ سرمایہ دار اور مزدور کا جھگڑا ہے، یہ ایک جاگیردار اور کاشت کار کا تنازعہ ہے مگر ایک استحصالی اقتصادی نظام کی شکل میں مزدوروں، مجبوروں اور معذوروں پر زبردستی ٹھونس دیا گیا ہے۔ اس ظلم و جبر کے نظام میں ایک فریق تعداد میں کم ترین مگر سیاسی و معاشی طاقت میں زبردست ہے جب کہ دوسرا تعداد کے لحاظ سے تو نوے فی صد 90% سہی مگر انقلابی و اجتماعی شعور سے عاری، نظریہ و نصب العین سے خالی، ڈسپلن اور تنظیمی قوت سے ماوراء و بے کار،، ظلم تو سہتا ہے مگر نہ اسے اس ستم ظریفیٔ حالات پر رونے کی فرصت ہے اور نہ اس کے اسباب پر سوچنے سمجھنے کا وقت۔

بس اتنا سارا قصور ہی تو ہے کہ جس کے سبب گدھے اور کولھو کے بیل کی طرح ایک عام آدمی اور مزدور محنت و مشقت میں شب و روز جتا ہُوا ہے مگر اس کی ساری زندگی میں کام کی صبح تو ضرور آتی ہے لیکن آرام کی شام کبھی نہیں آتی۔

سارے محنت کشوں کے ان گنت مسائل کا حل ایک خالص غیر متعصب سماجی انقلاب میں مضمر ہے جس کی راہ برصغیر پاک و ہند کے باسیوں کو امام شاہ ولی اﷲ اور امام عبیداﷲ سندھی نے دکھائی ہے۔ بہ قول ڈاکٹر اقبال

اٹھو مری دنیا کے غریبوں کو جگا دو

کاخ امراء کے در و دیوار ہلا دو

جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہیں روزی

اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلا دو!

اور یہ کیسا ہے جی۔۔۔۔۔ !

اس شخص پر بھی شہر کے کتے جھپٹ پڑے

روٹی اُٹھا رہا تھا جو کچرے کے ڈھیر سے

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

ناتمام (آخری قسط)

ہارون صاحب کی کتاب ’’ناتمام‘‘ میں کچھ غیر معمولی شخصیات کے بارے میں لکھی گئی تحریریں بے حد دلنشین ہیں۔ ایک جگہ لکھتے ہیں ’’کبھی کبھی یہ طالب علم سوچتا ہے سیدنا علی بن عثمان ہجویریؒ کے بعد شاید اقبالؔ ہی وہ مفکر تھے، جنھوں نے امت کے ادبار پر دل سوزی کے ساتھ پیہم تدبر کیا، جس برصغیر میں وہ پیدا ہوئے تھے، اسے الوداع کہا تو وہ بدل چکا تھا، مسلم برصغیر کو امید اور امکان کی راہ دکھانے میں ان کا حصہ کسی بھی شخص سے زیادہ تھا، یہ اقبالؔ ہی تھے، جنھوں نے کہا تھا: جہاں کہیںجہاں میں روشنی ہے، مصطفیؐ کے طفیل ہے یا مصطفی ؐ کی تلاش میں! ۔۔۔۔‘‘

’’سیّد ابوالاعلیٰ نے آخری دنوں میں اقبالؔ سے فیض پایا۔ ان کی وفات پر اپنے مضمون ’’اقبالؔ، میرا نفسیاتی سہارا‘‘ میں لکھا ’قرآنِ کریم ان کے لیے ایک شاہ کلید تھا، تمام بند دروازے جس سے کھل جاتے‘آج کل کے دانشور کیا ہیں کہ مغرب کی چکاچوند نے جنھیں اندھا کردیا، جو یہ نہیں سمجھتے کہ ترقی، علم اور ارتقا، تقلید میں نہیں ہوتا، جہاں جو چیز اچھی ہے، وہ لے لی جاتی ہے اور جو ناقص ہو، وہ ترک کردینی چاہیے اور یہ عالمانِ دین ہیں کہ اکیسویں صدی میں قبائلی عہد میں زندہ رہنے پر مصر ہیں، جنھیں سرکارؐ کا پڑھایا ہوا اولین سبق ہی یاد نہیں۔ غوروفکر، حسنِ کلام، حکمت اور دلیل کے ساتھ مکالمہ، دردمندی اور دل سوزی کے ساتھ تفکّر اور تدبّر درکار ہے۔‘‘

مصنّف قائد اور اقبالؒ کا پھر ایک کالم میں ذکر کرتے ہیں ’’یہ قوم اپنے دو عظیم رہنماؤں کو بھول گئی۔ جناح ایسے تھے کہ عمر بھر تین باتوں کا طعنہ انھیں کبھی نہ دیا گیا۔ کبھی وعدہ نہ توڑا، کبھی مالی بے قاعدگی نہیں، کبھی جھوٹ نہ بولا۔ اقبالؔ ایسے کہ تمام فکری تعصبات سے اوپر اٹھ کر سوچ بچار کیا اور پیہم کیا، تمام خلوص، تمام صلابتِ کردار۔۔ نہیں، فقط سیاست سے ہماری زندگی نہیں بدلے گی، تعلیم، غوروفکر اور حسنِ کردار۔ حضورؐ نے ارشاد فرمایا تھا: اللہ جسے ہدایت دینا چاہے، اپنی آنکھ اس پر کھول دیتا ہے۔ دوسروں کے عیب چننے سے نہیں، حیات اپنی اصلاح سے ثمر بار ہوتی ہے۔‘‘ مصنّف نے کیا دلپذیر باتیں لکھی ہیں جو ہرشعبۂ حیات کے لیڈر کو پڑھنی چاہئیں۔

 ناتمام میں مصنف نے بھٹوصاحب کا بھی تجزیہ کیا ہے، لکھتے ہیں ’’بھٹو حیرت انگیز خامیوں اور خوبیوں کا مجموعہ تھے۔ 1965کی جنگ کے ہنگام وہ ایک قوم پرست بن کر ابھرے، جب بھارت کے خلاف ہزار سالہ جنگ کا انھوں نے نعرہ لگایا، غریب آدمی کے احساسات کا انھوں نے ادراک کیا، سندھ اور پنجاب میں وہ ایک مقبول رہنما بن کر ابھرے مگر 1970 کے انتخابی نتائج کو عملاً انھوں نے تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ شیخ مجیب الرحمٰن کو واضح اکثریت حاصل ہوئی تو جنرل یحییٰ سے انھوں نے گٹھ جوڑ کرلیا اور انتقالِ اقتدار کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گئے، ان دو آدمیوں کی ہوسِ اقتدار نے پاکستان کے دولخت ہونے کی بنیاد فراہم کی۔‘‘

پھر لکھتے ہیں ’’ایک راز بھٹو نے پالیا تھا۔ لیڈر وہ شخص ہوتا ہے، جو کسی قوم کی عمیق ترین، سب سے بنیادی اور سب سے بڑی آرزو کو پوری طرح پہچان لے۔ جنگِ ستمبر تک، وہ فیلڈ مارشل ایوب خان کے درباری تھے، کبھی اسے صلاح الدین قرار دیتے اور کبھی ایشیا کا ڈیگال۔ جنگِ ستمبر میں پہلی بار دلوں میں یہ امید جاگی کہ کشمیر پہ دشمن بھارت کا تسلّط تمام ہوسکتا ہے، بھٹو نے اس نجیب آرزو کو پہچانا اور اس کا مظہر بن گئے، اقوامِ متحدہ میں جاری مباحث کے دوران، جن کا ایک ایک لفظ غور سے پڑھا اور سنا جایا کرتا، بھٹو نے بھارت کے ’’میسنے‘‘ وزیرِ خارجہ سردار سورن سنگھ کو مخاطب کرکے کہا: لڑنا پڑا تو کشمیر کے لیے ایک ہزار برس تک بھی ہم لڑیں گے، تبھی وہ ہیرو بن کر ابھرے۔ ہاں! مگر ان کا کوئی عقیدہ نہ تھا، قوم پرست وہ یقیناً تھے اور بے شک انھوں نے پہلی بار Anti Estabhishment پارٹی تشکیل دی مگر خود پسند، اقتدار کے حریص اور نرگسیت کے مارے۔ باقی سب تاریخ ہے"

پاکستانی سیاست کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں’’ پاکستانی سیاست اور معاشرے کا مرض یہ ہے کہ سائنسی اندازِ فکر سے وہ محروم ہے۔ تعصّبات اور جذبات کا غلبہ اس قدر ہے کہ کبھی نفرت چھا جاتی ہے اور کبھی محبت۔ بھٹو صاحب کے مداحوں سے عرض کیجیے کہ بے شک مقبول وہ بہت تھے۔

بجا کہ ملک کو انھوں نے دستور عطا کیا، ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی، جذباتی توازن سے مگر وہ محروم تھے اور پرلے درجے کے انتقام پسند۔ دوسروں کا تو ذکر ہی کیا، اپنی پارٹی کے سیکریٹری جنرل جے رحیم کو پٹوایا۔ قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے رکنِ اسمبلی ملک سلیمان اور ان کے خاندان کی تذلیل کی، اپنے وزیرِ اعلیٰ حنیف رامے کو شاہی قلعے میں قید رکھا۔ پارٹی کے ایک دوسرے لیڈر احمد رضا قصوری پر قاتلانہ حملے میں ان کے والد مارے گئے۔ کوئی نہیں سنتا، کوئی نہیں مانتا۔‘‘

کتاب کے مصنّف، عمران خان کے سب سے بڑے سپورٹر تھے اور شاید اب بھی ہیں مگر اس کتاب میں انھوں نے اس کی خامیاں بھی چھپانے کی کوشش نہیں کی، لکھتے ہیں ’’لاہور میں موسم بہار کی ایک سویر جب میں زمان پارک میں اسے ملنے گیا تو وہ ورزش میں مصروف تھا۔ کچھ دیر کے بعد وہ نمودار ہوا اور ضرورت سے زیادہ پُراعتماد لہجے میں کہا’’اپنے جسم پر بھی آدمی کو سرمایہ کاری کرنی چاہیے‘‘ ۔ ’’جی ہاں‘‘۔ عرض کیا ’’اپنے ذہن پر بھی‘‘۔ اسے دھچکا لگا ’’تمہارا مطلب یہ ہے کہ میں نے ذہن پہ سرمایہ کاری نہیں کی‘‘۔ ہاں! میں نے جواب دیا ’’میرا مطلب یہی ہے‘‘۔ بدمزہ نہیں، وہ کچھ حیران سا ہوا اور ناشتے میں جُت گیا، پھل، دہی، ڈبل روٹی کے دو ٹکڑے اور بہت سا جوس۔ مجال ہے کہ ایسے میں دوسروں کو وہ دعوت دے‘‘۔

 پھر لکھتے ہیں ’’عمران خان اپنی پہاڑ سی غلطیوں کو بھلا کر ظفرمندی کے خواب کا اسیر تھا، 11 مئی کی صبح احسن رشید سے کہا کہ انتخابی نتائج سنتے ہی شوکت خانم اسپتال آجانا کہ جشن منایا جاسکے۔ اپنے بچوں سے لندن میں کہہ آیا تھا کہ اگلی بار وزیراعظم کی حیثیت سے برطانیہ آئے گا۔ نتیجہ نکلا تو صرف اس کی نہیں، پارٹی کے تمام بزر جمہروں کی رائے یہ تھی کہ قبول کرلینا چاہیے۔

الجھے ہوئے ذہن کے ساتھ کئی ماہ وہ مخمصے کا شکار رہا، پارٹی کو ان دنوں دو تین گھنٹے سے زیادہ وقت نہ دیا کرتا۔ شاطروں نے سمجھ لیا کہ اسے الّو بنانے میں کامیاب رہے‘‘۔ ایک اور جگہ لکھتے ہیں ’’ناقابلِ فہم بات یہ ہے کہ دس حلقے کھولنے کی شرط کے ساتھ مفاہمت پہ آمادگی کے بعد تحریکِ انصاف کے سربراہ وزیراعظم کے استعفیٰ کی تاریخیں کیوں دینے لگے؟ نوبت پھر تھرڈ امپائر کی انگلی تک پہنچی، بلا استثنیٰ سبھی کا تاثر یہ تھا کہ کپتان کا اشارہ عسکری قیادت کی طرف ہے۔ کئی دن بعد کپتان نے اعلان کیا کہ ان کی مراد اللہ تعالیٰ سے تھی۔ اللہ تعالیٰ امپائر نہیں، وہ کائنات اور زندگی کا خالق ہے۔ حیات کی تمام حرکیات اور قوانین کا، وہ دلوں کے بھید جانتا ہے۔ ذاتِ باری تعالیٰ کو کرکٹ کے امپائر سے تشبیہہ دینا پرلے درجے کی بدذوقی اور سطحیت تھی۔ کپتان اگر انھی لوگوں کے زیرِ اثر رہا، جن کے زیرِ اثر ہے تو مستقبل میں بھی اس طرح کے واقعات ہوتے رہیں گے‘‘۔

کچھ دوسرے لیڈروں کے بارے میں لکھتے ہیں ’’چوہدری نثار علی میں صلاحیّت بے پایاں تھی مگر روحانی جہت معمولی۔ کھٹ سے اللہ کی رحمت کا دروازہ کھلتا مگر بن مانگے تو گاہے وہ گھاس بھی نہیں دیتا، چہ جائیکہ عظمت ورفعت۔ یوں بھی عظمت غریبوں، دکھ جھیلنے اور ایثار کرنے والوں کے لیے ہوتی ہے۔ چوہدری کہاں، شریف برادران کہاں، ان کے مقاصد محدود ہیں۔ اقتدار کا انبساط، جو دنیا کا سب سے تباہ کن نشہ ہے، جان چھوڑتا ہی نہیں، عزتِ نفس اور شان وشوکت کا ایک سطحی سا تصور۔عمران خان سمیت سبھی کا حال پتلا ہے۔ پانی پت کی تیسری جنگ لڑنے جاتے ہیں اور لشکر سراج الدولہ سے بدتر۔ رہے علّامہ طاہرالقادری تو جرأت ہی نہیں، جسارت ہی نہیں، فقط زورِ خطابت۔ کوئی دن میں غبارہ پھٹ جائے گا‘‘۔

’’اچھی حکمرانی کی بے تاب تمنا بھی بجا۔ بحث بہت ہوچکی۔ سیاست کے قرینوں سے اب ہم آگاہ ہیں مگراس کے لیے سیاست کافی نہیں زندگی جوڑ توڑ سے بہت بڑی ہے۔ علم اور اخلاق کے بغیر معاشرے، اقوام نہیں، ریوڑ ہوتے ہیں۔ علم، اخلاق اور تربیت۔ قرآن کریم اور اس کا صاحب انوار شارع۔۔ اور ہاں جدید علم!‘‘

ہر طبقۂ فکر کے لوگوں خصوصاً سیاست میں دلچسپی رکھنے والوں کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے۔

متعلقہ مضامین

  • ناتمام (آخری قسط)