ملک بھر میں موسم خوشگوار ہونے کی نوید؛ آج سے بارشیں ہونے کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 1st, May 2025 GMT
اسلام آباد:
محکمہ موسمیات نے آج سے ملک بھر کا موسم خوشگوار ہونے کی نوید سنائی ہے اور پیش گوئی کی ہے کہ بیشتر علاقوں میں بارشیں شروع ہوں گی۔
چھوٹے بڑے شہروں سمیت ملک بھر میں جاری گرمی کی شدید لہر کے بعد آج سے بارشوں کا سلسلہ شروع ہونے کا امکان ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق آج اسلام آباد اور گردونواح میں مطلع جزوی طور پر ابر آلود رہے گا جب کہ چند مقامات پر موسلادھار بارش اور ژالہ باری کا بھی امکان ہے۔
خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع بشمول چترال، دیر، سوات، ایبٹ آباد، مانسہرہ اور ہری پور میں بارش اور ژالہ باری متوقع ہے۔ شانگلہ، بونیر، مالاکنڈ، وزیرستان، کوہاٹ اور ہنگو میں بھی گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
علاوہ ازیں ماہرین نے لکی مروت، باجوڑ، مہمند، کرک، خیبر، پشاور اور صوابی کے علاقوں میں بھی ژالہ باری اور بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ اسی طرح مردان، کرم، ڈی آئی خان اور بنوں میں بھی بارش کے ساتھ ژالہ باری متوقع ہے۔
اُدھر پنجاب کے علاقوں راولپنڈی، مری، گلیات، اٹک، چکوال، جہلم اور منڈی بہا الدین میں بارش کا امکان ہے۔ اسی طرح گجرات، گجرانوالہ، حافظ آباد اور سیالکوٹ میں بھی موسم کی یہی کیفیت رہنے کا امکان ہے۔
اس کے علاوہ صوبائی دارالحکومت لاہور، نارووال، ساہیوال، قصور، اوکاڑہ اور فیصل آباد میں ژالہ باری اور بارش متوقع ہے۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ، جھنگ، خوشاب، سرگودھا، میانوالی، ڈی جی خان، بہاولنگر اور بہاولپور میں بھی ژالہ باری اور بارش کی توقع ہے۔
سندھ کے علاقوں سکھر، گھوٹکی، شکارپور، جیکب آباد میں شام یا رات کے وقت گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔ اسی طرح لاڑکانہ، شہید بینظیر آباد، خیرپور اور گردونواح میں بھی بارش متوقع ہے۔
دیگر صوبوں کی طح بلوچستان کے اضلاع کوئٹہ، زیارت، ژوب، موسیٰ خیل، چمن اور مستونگ میں شام یا رات کے وقت بارش متوقع ہے۔ پشین، قلعہ عبداللہ، قلعہ سیف اللہ، لورالائی، بارکھان، سبی، خضدار، چاغی اور نوشکی میں بھی بارش کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق پشاور شہر میں رات گئے ہونے والی بارش سے موسم خوشگوار ہو گیا۔ پشاور، بنوں اور دیگر میدانی علاقوں میں گرد و غبار کے طوفان کا بھی امکان ہے جب کہ کئی علاقوں میں ژالہ باری کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
گزشتہ روز پشاور کا درجہ حرارت 39 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ اسی طرح ڈیرہ اسماعیل خان میں 43، بنوں میں 42 جب کہ مردان اور تخت بھائی میں 39 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا۔
بالائی علاقوں میں کالام میں درجہ حرارت 30، مالم جبہ 27، چترال 35، دیر اور دیر لوئر میں 34 ڈگری سینٹی گریڈ رہا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بارش کا امکان کا امکان ہے علاقوں میں ژالہ باری متوقع ہے میں بھی
پڑھیں:
کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
کراچی میں اضافی پانی کا منصوبہ کے فور کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی۔
ایکسپریس نیوز کو واٹر کارپوریشن حکام کے سینئر افسران نے اس کی تصدیق کی کہ منصوبے میں مزید ڈھائی سال لگ سکتے ہے، اگر کام اسی طرح ہوتا رہے تو اس منصوبے میں وفاق، سندھ حکومت ، بین الاقومی مالیتی اداروں کی فنڈنگ بھی کی گئی۔
حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہوچکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔
تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1ارب 20 کروڑ گیلن ہے جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کر نے کے لئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔
2014 میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بناناتھا جس کی لاگت 25 ارب روپے بتا ئی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا تاہم پھر اس کو واپڈ کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہوسکا۔
کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026 کی ڈیڈ لائن دی ہے۔ ایکپسریس نیوز نے مختلف ذرائع سے جو تفصیلا ت حاصل کیں ان کے مطابق کے فور منصوبہ 2026 میں بھی مکمل نہیں ہوسکے گا اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029 کی جنوری تک ہے۔
ایک ذرائع نے بتایا کہ اگر کام اسی رفتار سے کام چلتا رہا تو نومبر 2025 کو آگمیٹیشن کام نیپا چورنگی سے شروع ہوا جو حسن اسکوائر تک محیط ہے، اس کی لمبائی 2 اعشاریہ 7 کلو میٹر طویل ہے اب تک مکمل نہیں ہوسکا کیونکہ یہ تو صرف ابتداء ہے اصل کام تو آر ون، آر ٹو، آر تھری کا کام جو اب تک شروع ہی نہیں ہوا۔
سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان کا ٹھیکہ ہی نہیں ہوسکا کہ کام کون کریں گا آر ون ،آر ٹو ، آر تھری ہے کیا یہ ریروائر کی لائنیں ہے آر ون 26 کلومیٹر طویل ہے ، آر ٹو40کلومیٹر طویل ہے جبکہ آرتھری 28 کلومیٹر طویل بتائی جا تی ہے۔
یہ لائنیں شہر کے وسط سے ہوتی ہوئی گزریں گی ان لائنوں کا مختلف نمبرز دئیے گئے ہے یہ لائنیں ڈلنے کے بعد ہی کراچی کو اضافی پانی مل سکے گا جب لائنوں کا مکمل شروع ہوگا تو شہر کی اہم شاہراہوں کو کھودنا پڑے گا، جس میں 72 انچ اور 96 انچ کی لائنیں ڈالی جا ئیں گی۔
صرف ایک روڈ آر ٹو کی تفصیلات فراہم کرر ہے ہیں یہ ریزر وائر ٹو نادرن بائی سے واپڈ کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی کے سپرد کریں گی جو کھدائی کرتی ہوئی۔
نادرن بائی پاس، ٹول پلازہ سے سپرہائی وے ، پھر جنجال گوٹھ سے ہوتی ہوئی سہراب گوٹھ ، وہاں سے ابوالحسن اصفہانی روڈ ، ڈسکو بیکری سے ہوتی ہے گلشن چورنگی ، رب میڈیکل سے ہوتی ہوئی ہے سرسید یونی ورسٹی سےنیپا چورنگی پر آگمینٹیشن سے منسلک کیا جا ئے گا۔
پھر یہ حسن اسکوائر سے ہوتا ہوا غریب آباد ، لیا قت آباد ، ناظم آباد، حبیب بنک چورنگی ، سے ہوتی ہوئی گلبائی تک جا ئیں گی، یہ راستہ ہے (آر ٹو) ریزر وائر ٹو کے فور کے لئے ڈالی جانی والی لائن اس کے لئے جب لائن ڈالنے کا کام ہو گا تو کھدائی ہوگی جس میں 72 انچ اور کسی مقام پر 96 انچ کی لائن ڈالی جا ئیں گی۔
اندازہ لگانا مشکل نہیں یہ 94 کلو میٹر کی لائنیں ڈالنے کے لئے 80 ارب روپے لگے اس کے لئے 2 بین الاقومی مالیتی ادارے 80 فیصد قرضے کی صورت میں فنڈ فراہم کر یں گے جبکہ 20 فیصد فنڈ سندھ حکومت فراہم کر یگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ 80 ارب روپے صرف آرون، آرٹو، آر تھری کی لائنیں ڈالنے میں خرچ ہوں گے جبکہ 124 ارب ٹرانسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشنز، فلٹر پلانٹٹس اور دیگر کاموں میں خرچ ہوں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جا نے ہے جن میں ٹراسمیشن لائن ، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنا نے کے کام کی ذمہ داری ہے جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن ، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے آگمیٹیشن کانیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025 سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا بلکل بین الاقومی مالیتی ادارے نے اس کو غیر معیا ری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جا ئیں گی اس وقت شہریوں کو آمد ورفت میں مزید مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑیگا۔