ہمیں مسلمانوں یا کشمیریوں کو نشانہ نہیں بنانا چاہیئے، پہلگام حملے کی متاثرہ
اشاعت کی تاریخ: 1st, May 2025 GMT
جموں و کشمیر کے وزیراعلٰی عمر عبداللہ نے دیگر ریاستوں کے اپنے ہم منصبوں سے بات کرتے ہوئے کشمیری طلباء اور باشندوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پہلگام دہشت گردانہ حملے میں شہید ہونے والے لیفٹیننٹ ونے نروال کے یوم پیدائش کے موقع پر انکی اہلیہ ہمانشی نے آج بھارتی عوام سے ایک جذباتی اپیل کرتے ہوئے کہا "ہمیں مسلمانوں یا کشمیریوں کو نشانہ نہیں بنانا چاہیئے، ہم امن چاہتے ہیں"۔ انہوں نے انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ اس حملے میں ملوث ہیں انہیں سخت سے سخت سزا ملنی چاہیئے۔ واضح رہے کہ پہلگام دہشت گردانہ حملے کے چند دن بعد بھارت کی کئی ریاستوں میں کشمیری طلباء اور مسلمانوں کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات آئی ہیں۔ اس سلسلے میں جموں و کشمیر کے وزیراعلٰی عمر عبداللہ نے دیگر ریاستوں کے اپنے ہم منصبوں سے بات کرتے ہوئے کشمیری طلباء اور باشندوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ پہلگام حملے کے بعد عام کشمیریوں اور مسلمانوں کے نشانہ بنانے کے واقعات پر کئی سماجی کارکنان نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
دریں اثنا شہید لیفٹیننٹ ونے نروال کی یوم پیدائش منانے کے لئے ان کے اہل خانہ نے مختلف سماجی تنظیموں کے ساتھ مل کر خون کے عطیہ کیمپ کا انعقاد کیا۔ لیفٹیننٹ ونے نروال کے اہل خانہ سمیت بڑی تعداد میں لوگوں نے جواں مرگ افسر کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے خون کا عطیہ دیا۔ "دی ٹربیون" کی خبر کے مطابق اسی تقریب کے دوران ان کی اہلیہ نے عوام سے کہا کہ وہ کشمیریوں اور مسلمانوں کو نشانہ نہ بنائیں بلکہ اس کے اصل مجرموں کو سخت سے سخت سزا دینے کی طرف توجہ دیں۔ اسی سال 22 اپریل کو ونے نروال کے ساتھ شادی کے بندھن میں بندھنے والی ہمانشی نے کہا کہ وہ بھی اپنے شوہر کی طرح ہی ملک کی خدمت کے راستے پر چلیں گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ونے نروال کرتے ہوئے کو نشانہ
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔