پی آئی اے کا قبل از حج آپریشن کا آغاز، پہلی حج پرواز کراچی سے روانہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT
کراچی:
پی آئی اے کا قبل از حج آپریشن کراچی سے کامیابی کے ساتھ آغاز ہوگیا ہے، جب پی آئی اے کی پہلی حج پرواز پی کے 743 علی الصبح کراچی سے 397 عازمین کو لے کر مدینہ کے لیے روانہ ہوئی۔
اس موقع پر پی آئی اے کے چیف آپریٹنگ آفیسر، خرم مشتاق نے عازمین حج کو رخصت کیا۔
ایک سادہ مگر پروقار تقریب میں چیف آپریٹنگ آفیسر پی آئی اے خرم مشتاق اور دیگر حکام نے عازمین کو پھول اور تحائف پیش کیے، اور پاکستان کی ترقی کے لیے خصوصی دعاؤں کی درخواست کی۔ عازمین حج نے پی آئی اے کی جانب سے کیے گئے انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔
مزید پڑھیں: حجاج کرام کو لے کر پہلی حج پرواز سعودی عرب روانہ، وفاقی وزیر مذہبی امور نے الوداع کیا
پی آئی اے کے قبل از حج آپریشن کے تحت اب تک مختلف شہروں سے 2500 سے زائد عازمین حج کو سعودی عرب پہنچایا جا چکا ہے۔ پی آئی اے اس حج آپریشن میں بوئنگ 777 اور ایئربس 320 طیاروں کا استعمال کر رہی ہے۔
کراچی سے 7 ہزار 200 سے زائد عازمین کو 39 خصوصی پروازوں کے ذریعے حجاز مقدس پہنچایا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں عازمین کرام کی پروازیں پاکستان سے مدینہ کے لیے روانہ ہوں گی، جبکہ دوسرے مرحلے میں یہ پروازیں جدہ روانہ ہوں گی۔
مزید پڑھیں: حج 2025؛ شدید گرمی اور لُو سے بچنے کیلیے انتظامات مکمل؛ خصوصی ہدایات جاری
پی آئی اے حج آپریشن کے دوران 35200 سرکاری عازمین حج کو 117 خصوصی پروازوں کے ذریعے حجاز مقدس پہنچایا جائے گا۔ اس آپریشن کی پروازیں کراچی، لاہور، اسلام آباد، کوئٹہ، ملتان اور پشاور سے آپریٹ کی جا رہی ہیں۔
پی آئی اے کا قبل از حج آپریشن 31 مئی تک جاری رہے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔