ہانیہ عامر کا بھارتی میڈیا کو منہ توڑ جواب، خود سے منسوب جھوٹی خبروں کی سختی سے تردید
اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT
پاکستان شوبز کی خوبرو اداکار ہانیہ عامر نے بھارتی میڈیا کے جھوٹ کا بھانڈا پھوڑ دیا۔
معروف پاکستانی اداکارہ ہانیہ عامر نے حالیہ واقعات کے تناظر میں بھارتی میڈیا کی جانب سے اُن سے منسوب کیے گئے جھوٹے بیانات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے ایک عوامی بیان جاری کیا ہے۔
اپنے بیان میں اداکارہ نے واضح الفاظ میں کہا کہ اُن سے منسوب کیے جانے والے کسی بھی جملے یا رائے کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں، اور وہ ایسی کوئی بات نہیں کرتیں جو نفرت یا غلط فہمی کو جنم دے۔
ہانیہ عامر نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے پیغام میں ان مشکل حالات میں ایک دوسرے کے لیے ہمدردی، نرمی اور سمجھ بوجھ کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت معاشرے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور حساس ماحول کو مدنظر رکھتے ہوئے محتاط طرزِ عمل اختیار کرنا ناگزیر ہے۔
View this post on InstagramA post shared by DIVA Magazine Pakistan (@divamagazinepakistan)
انہوں نے کہا کہ غلط معلومات کو پھیلانا نہ صرف فردِ واحد کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ اس سے مجموعی سماجی فضا بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ اداکارہ نے مداحوں اور عوام سے گزارش کی کہ وہ تصدیق شدہ معلومات پر ہی بھروسہ کریں اور غیر مصدقہ خبروں سے گریز کریں۔
ہانیہ عامر کا کہنا تھا کہ بھارتی میڈیا کی جانب سے ان سے منسوب کئے جانے والے بیانات کا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے اور سوشل میڈیا پر بھی ان سے متعلق پھیلائے گئے جھوٹے بیانات سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ بیانات جھوٹ پر مبنی ہیں۔
View this post on InstagramA post shared by BollywoodShaadis.
یاد رہے کہ گزشتہ 2 دن سے بھارتی میڈیا کی جانب سے اداکارہ ہانیہ عامر کا نام لے کر جھوٹی خبریں پھیلائی جارہی تھیں۔ یہ بھارتی عوام اور ہانیہ عامر کے بھارتی مداحوں کو اداکارہ کیخلاف کرنے کی سازش تھی ساتھ ہی بھارتی میڈیا اپنے روایتی انداز میں ہانیہ عامر کو ملک مخالف جھوٹی پوسٹ کے ذریعے بدنام کرنے کی کوشش کر رہا تھا جس کا ہانیہ عامر نے منہ توڑ جواب دیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ہانیہ عامر نے بھارتی میڈیا
پڑھیں:
بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
کراچی:ایڈیشنل سیشن جج جنوبی نے بی ایم ڈبلیو تحویل میں لے کر پانچ لاکھ روپے جرمانہ وصولی پر ڈی ایچ اے ویجلنس، ایس ایس پی جنوبی اور ایس ایچ او ساحل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست گزار نے ڈی ایچ اے ویجلنس پر گاڑی غیر قانونی طور پر قبضے میں لینے کا الزام عائد کیا ہے۔
درخواست گزار ارسلان خواجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈی ایچ اے ویجلنس اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کیا، بغیر شواہد درخواست گزار پر ڈرفٹنگ اور ڈونٹس کا الزام لگایا گیا، 25 سے 30 اہلکاروں نے گاڑی کو گھیر کر تحویل میں لیا، بی ایم ڈبلیو گاڑی ضبط کرکے ڈی ایچ اے ویجلنس دفتر منتقل کی گئی اور 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔
درخواست گزار نے وکیل کے توسط سے کہا کہ گاڑی کی رہائی کے لیے 5 لاکھ روپے طلب کیے گئے، ڈی ایچ اے ویجلنس کو گاڑیاں ضبط کرنے کا اختیار حاصل نہیں، شہریوں کو روکنے اور جرمانہ عائد کرنے کا اختیار صرف پولیس کے پاس ہے، ڈی ایچ اے ویجلنس پولیس فورس نہیں، ویجلنس حکام کے اقدامات اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہیں، درخواست میں بھتہ خوری، غیر قانونی حراست اور دھمکیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
درخواست پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 جون کو جواب طلب کرلیا۔