پہلگام واقعے کے بعد پاک بھارت کشیدگی پر رضوان بھی بول اُٹھے
اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT
پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں ملتان سلطانز کے کپتان محمد رضوان نے پاک بھارت کشیدگی پر اپنا ردعمل دیدیا۔
لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے قومی ٹیم کے کپتان محمد رضوان نے کہا کہ کرکٹ میں سیاست نہیں ہونی چاہیے اور مجھے نہیں پتا پاکستان اور بھارت کے درمیان کیا چل رہا ہے، خود کو سوشل میڈیا سے دور رکھتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ جب ویرات کوہلی اور جوروٹ سے ملتے ہیں تو ہم کرکٹ فیملی کی طرح ملتے ہیں، ان دونوں کھلاڑیوں سے سیکھتے ہیں اور ہم بھی انہیں بتاتے ہیں۔
مزید پڑھیں: پی ایس ایل 10: کراچی کنگز نے ملتان سلطانز کو شکست دیکر ایونٹ سے باہر کردیا
محمد رضوان کا کہنا تھا کہ میں یہ کہوں کہ مجھ پر پریشر نہیں یہ جھوٹ ہوگا، پاکستان ٹیم کا دباؤ ہے، میں ٹیم کا کپتان ہوں لوگ دیکھ رہے ہیں اور اس کا دباؤ ہے، ملتان ٹیم کا دباؤ بھی ہے ہمیں یہ دباؤ لینا چاہیے، اپنی غلطیوں کو دور کرنا چاہیے۔
مزید پڑھیں: پی ایس ایل میں پرفارمنس؛ کون سے کرکٹرز ٹیم میں واپس آسکتے ہیں؟
واضح رہے کہ متان سلطانز کی ٹیم مسلسل شکستوں کے باعث پی ایس ایل کے 10ویں ایڈیشن میں ٹاپ فور میں شامل ہونے کی دوڑ سے باہر ہوگئی ہے۔
مزید پڑھیں: ٹی20 سیریز میں بابراعظم، رضوان کو شامل نہ کیے جانے امکان، مگر کیوں؟
ملتان سلطانز نے ایونٹ میں ابتک 8 میچز میں محض ایک کامیابی حاصل کی ہے جبکہ انہیں 7 شکستوں کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پی ایس ایل
پڑھیں:
بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔
قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔
پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔