فیصل آباد(نیوز ڈیسک)معروف ٹک ٹاکر و اداکارہ جنت مرزا کو بھارتی جارحیت سے متعلق پوچھے گئے سوال پر خاموشی اختیار کرنے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد تنقید کا سامنا ہے۔

جنت مرزا ان دنوں اہل خانہ سمیت برطانوی دورے پر ہیں، جہاں وہ ممکنہ طور پر خاندان کی ایک شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے گئی ہوئی ہیں۔

جنت مرزا کے لندن میں سیر سپاٹوں اور وہاں صحافیوں سے بات چیت کرنے کی ویڈیوز وائرل ہوگئیں اور اس پر صارفین نے دلچسپ تبصرے بھی کیے۔

لندن میں ہی جب صحافیوں نے جنت مرزا سے پاکستان اور بھارت کے درمیان پیدا ہونے والی حالیہ کشیدگی سے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کوئی بات کرنے کے بجائے خاموشی اختیار کرنے کو ترجیح دی، جس پر صارفین نے انہیں آڑے ہاتھوں بھی لیا۔

ان کی وائرل ہونے والی مختصر ویڈیو میں صحافیوں نے ان سے سوال کیا کہ وہ بھارتی جارحیت اور پاکستان و بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی پر کیا کہیں گی؟

اس پر جنت مرزا نے کوئی بات کیے بغیر ہونٹوں کو بند رکھنے کا اشارہ کیا اور وہ کوئی بات کیے بغیر وہاں سے چلی گئیں، جس پر صارفین نے انہیں آڑے ہاتھوں لیا۔

وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جنت مرزا نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری تازہ کشیدگی پر کوئی بات نہیں کی اور وہ ہونٹوں کو بند کرنے کا اشارہ کرتے ہوئے وہاں سے چلی گئیں۔

ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے انہیں آڑے ہاتھوں لیا اور تبصرے کیے کہ ٹک ٹاکر کو سیاسی معاملات کا کیا پتا، ان سے ناچ اور گانوں سے متعلق پوچھا جاتا۔

بعض صارفین نے تبصرے کیے کہ اگرچہ جنت مرزا نے کوئی جواب نہیں دیا لیکن اس باوجود انہیں بھارت میں کام نہیں ملے گا۔

کچھ افراد نے لکھا کہ پاک بھارت کشیدگی کے معاملے پر جنت مرزا کا تبصرہ کوئی اہمیت نہیں رکھتا، ان سے یہ سوال پوچھا بھی نہیں جانا چاہیے تھا اور یہ کہ انہیں اس طرح کے معاملات پر بات کرنا بھی نہیں آتی۔

بعض صارفین نے انہیں ان پڑھ عورت بھی قرار دیا اور لکھا کہ ان جیسی شخصیات کو اپنے ملک کی عزت کا ذرا بھی خیال نہیں۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by Murtaza Ali Shah (@murtazaviews)


مزیدپڑھیں:دنیا کا مہنگا ترین ایئرپورٹ، جس کی تعمیر 6 سال میں مکمل ہوئی

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: صارفین نے انہیں ا کوئی بات نہیں ا

پڑھیں:

شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف، یکطرفہ طاقت کے استعمال پر سخت تنقید کردی

چولپون آتا (کرغزستان): ایران نے شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس میں یکطرفہ پالیسیوں، بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی اور طاقت کے غیر قانونی استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کثیرالجہتی تعاون کو موجودہ عالمی حالات میں ناگزیر قرار دیا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کرغزستان کے سیاحتی شہر چولپون آتا میں جاری اجلاس کے موقع پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران شنگھائی تعاون تنظیم اور اس جیسے دیگر کثیرالجہتی فورمز کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا میں بڑھتی ہوئی یکطرفہ پالیسیاں، ریاستوں کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کی خلاف ورزیاں اور طاقت کا غیر قانونی استعمال بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے منشور اور عالمی قانونی نظام کی بنیادوں کو کمزور کر رہے ہیں۔

اگرچہ اسماعیل بقائی نے کسی ملک کا نام نہیں لیا، تاہم انہوں نے ماضی میں بھی اسی نوعیت کے بیانات میں امریکا کی خارجہ پالیسی اور اس کے اقدامات پر تنقید کی ہے۔

ایران 2023 میں شنگھائی تعاون تنظیم کا باقاعدہ رکن بنا تھا۔ یہ تنظیم چین اور روس کی قیادت میں قائم ایک اہم یوریشیائی سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی فورم ہے، جس میں پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک شامل ہیں۔

وزرائے خارجہ کا یہ اجلاس تنظیم کے آئندہ سربراہی اجلاس کی تیاریوں کا حصہ ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ سربراہ اجلاس میں علاقائی سلامتی، تجارتی روابط، اقتصادی تعاون اور رکن ممالک کے درمیان شراکت داری کے فروغ جیسے اہم موضوعات پر غور کیا جائے گا۔

We are in Cholpon-Ata, Kyrgyzstan, to participate in the meeting of the Council of Foreign Ministers of the Shanghai Cooperation Organization (SCO) Member States.

Iran attaches great importance to the SCO and similar multilateral arrangement, which represent a vital force for… pic.twitter.com/CCGd7mxcL8

— Esmaeil Baqaei (@IRIMFA_SPOX) July 24, 2026

تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ عالمی کشیدگی کے تناظر میں شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم پر ہونے والی یہ ملاقاتیں خطے میں سفارتی تعاون اور مشترکہ حکمت عملی کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ  جاری کردیاگیا
  • نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
  • شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف، یکطرفہ طاقت کے استعمال پر سخت تنقید کردی
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان