بھارت کی جانب سے اٹاری بارڈر بند ہونے کے بعد پاکستان آنے والے شہری سرحد پر پھنس گئے، خواتین نے بھارتی رویے کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ کس قانون کے تحت بچوں کو ماؤں سے الگ کیا جارہا ہے۔

پاک بھارت سرحد پر شہریوں کی بھیڑ لگی ہے، گاڑیوں کی قطاریں ہیں، پاکستان واپس آنے والوں کو پریشانی کا سامنا ہے۔

 بھارتی حکام نے بھارتی پاسپورٹ رکھنے والی خواتین کو بھی سرحد پر روک لیا، اور انہیں  پاکستان جانے سے روک دیا۔

جنگ مسلط کرنے کی کسی بھی کوشش کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا، کور کمانڈرز کانفرنس

آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ جنگ مسلط.

..

خواتین کا کہنا ہے کہ کس قانون کے تحت بچوں کو ماؤں سے الگ کیا جارہا ہے، خواتین نے احتجاج کرتے ہوئے بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس کی رکاوٹ بھی گرادی۔

دوسری جانب لاہور کے واہگہ بارڈر کے راستے مزید 26 پاکستانی شہری بھارت سے وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔ اب تک پاکستان واپس آنے والوں کی مجموعی تعداد 960 ہو گئی ہے۔ 

پہلگام میں بھارت کے فالس فلیگ آپریشن کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو گیا۔ دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے شہریوں کو 30 اپریل تک اپنے وطن واپس جانے کی ہدایت کی تھی۔ 

آج خصوصی اجازت کے بعد 26 پاکستانی شہری اٹاری واہگہ بارڈر کے راستے بھارت سے وطن واپس پہنچے ہیں۔ اب تک 960 پاکستانی وطن واپس پہنچ چکے ہیں۔ جبکہ ایک ہزار 606 بھارتی شہری اپنے ملک واپس گئے ہیں۔

بدھ کے روز اٹاری بارڈر پر تین پاکستانی سفارت کاروں کو بھارتی امیگریشن حکام نے 24 گھنٹے سے زیادہ انتظار کروانے کے بعد سرحد پار کرنے کی اجازت دی تھی۔

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: وطن واپس کے بعد

پڑھیں:

سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا

قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹو

اقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔

اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔

صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔

بھارت دہشت گردی برآمد کرتا ہے، صائمہ سلیم

اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔

صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایشین گیمز: پاکستان، بھارت، بنگلادیش، سری لنکا براہِ راست ناک آؤٹ مرحلے میں
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
  • ’حکومت مان گئی‘ پٹرول ڈیلرز نے 15 روز کے لیے ملک گیر ہڑتال کی کال واپس لے لی
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو