حکومت نوجوانوں کو جدید مہارتوں سے لیس کرکے عالمی مارکیٹ میں لانے کے لیے پُرعزم ہے: چوہدری سالک
اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT
اسلام آباد: وفاقی وزیر سمندرپار پاکستانیز و ترقی انسانی وسائل چوہدری سالک حسین سے فارن افیئرز کمیٹی (ایف اے سی) اور پاکستان مسلم لیگ (ق) کے اراکین مسز بخاری اور ایچ کامران نے ملاقات کی۔اس ملاقات میں ملک کی ورک فورس کو مہارتوں کی فراہمی اور ان کی ترقی کے حوالے سے جاری حکومتی اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اراکین نے اس سلسلے میں چودھری سالک حسین کے فعال اور مؤثر کردار کو سراہا اور اُن کی کوششوں کو نوجوانوں کو بااختیار بنانے کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا۔انہوں نے وفاقی وزیر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اُن کے عملی اقدامات نوجوانوں کی فنی تربیت اور عالمی معیار کی تیاری میں سنگِ میل ثابت ہوں گے۔اس موقع پر چودھری سالک حسین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت نوجوانوں کو جدید مہارتوں سے لیس کرنے اور عالمی مارکیٹ میں مؤثر انداز سے متعارف کرانے کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔
مزید پڑھیںلاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال
اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔