بوئنگ کمپنی کا اہم سپلایئر ‘اسپریٹ ایرو اسپیس’ دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ گیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, May 2025 GMT
بوئنگ کے لیے طیاروں کے پرزوں کا اہم سپلایئر ‘اسپریٹ ایرو اسپیس’ نے مالی مسائل کی وجہ سے کام جاری نہ رکھ پانے کے خدشے کا اظہا کیا ہے۔
کمپنی نے جمعہ کو اعلان کیا کہ وہ 12 مئی سے 250 سے 350 ملازمین کو ایک ماہ کے لیے چھٹی پر بھیجے گی کیونکہ بوئنگ کے 2 پروگرامز کے لیے پرزہ جات کی ایک بڑی تعداد کا انتظار ہے۔
یہ بھی پڑھیے: چین کا امریکی بوئنگ طیاروں کی خریداری پر پابندی کا اعلان
اسپریٹ کی 2005 میں بوئنگ سے علیحدہ ہوئی تھی مگر گزشتہ سال سے اس کے ساتھ دوبارہ اشتراک کے معاہدے کو حتمی شکل دے رہی ہے۔ اس کے علاوہ، بوئنگ کے حریف، ایئر بس، جو فرانس میں واقع ہے، نے جمعرات کو کمپنی کو 200 ملین ڈالر کا قرض فراہم کرنے پر اتفاق کیا ہے تاکہ وہ اپنے طیاروں کی تیاری پر کام جاری رکھ سکے۔
2023 میں اسپریٹ کے کاروبار کا تقریباً 70 فیصد حصہ بوئنگ سے منسلک تھا۔ اس کمپنی نے جنوری سے ستمبر 2024 تک 1.
یہ بھی پڑھیے: چینی طیارہ ساز کمپنی میدان میں آگئی، کیا ایئربس اور بوئنگ کا خاتمہ قریب ہے؟
اسپریٹ کمپنی کی بنیاد 1927 میں رکھی گئی تھی اور 1941 میں اسے بوئنگ نے اپنے ساتھ ملا لیا۔ تاہم 2004 میں اس کی بوئنگ سے علیحدگی ہوئی اور اب شدید مالی مشکلات کے درمیان کمپنی دوبارہ سے بوئنگ کے ساتھ ضم ہونے کی کوشش کررہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسپرٹ ایرو اسپیس ایئر بس بوئنگ دیوالیہ طیارہ کمپنی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسپرٹ ایرو اسپیس ایئر بس دیوالیہ طیارہ امریکی ڈالر بوئنگ کے کے لیے
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔