ظالم حکمران مظلوم بلوچ خواتین کی آواز سے خوفزدہ ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, May 2025 GMT
کوئٹہ میں منعقدہ جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، سمی دین بلوچ اور دیگر خواتین کو بغیر کسی مقدمے کے صرف ایم پی او کے تحت قید میں رکھا گیا۔ حکمران ان سے خوفزدہ ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی رہنماء علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا ہے کہ ظالم ہمیشہ بزدل ہوتے ہیں۔ جس طرح فرعون اور یزید بزدل تھے۔ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، سمی دین بلوچ اور دیگر خواتین کو بغیر کسی مقدمے کے صرف ایم پی او کے تحت قید میں رکھا گیا ہے۔ ہم اس ظلم کو قبول نہیں کرتے کہ تم ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو پابند سلاسل کر دو۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلوچستان نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام شاہوانی اسٹیڈیم کوئٹہ میں منعقدہ عظیم الشان جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جس میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ جلسے سے بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل، مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنماء علامہ مقصود علی ڈومکی، بی این پی کے نائب صدر ایڈوکیٹ ساجد ترین اور سابق وفاقی وزیر آغا حسن بلوچ سمیت دیگر قائدین نے خطاب کیا۔
بی این پی کی دعوت پر مجلس وحدت مسلمین کے ایک وفد نے علامہ مقصود علی ڈومکی، علامہ شیخ ولایت حسین جعفری، علامہ علی حسنین حسینی کی قیادت میں شرکت کی۔ وفد میں صوبائی نائب صدر عیوض علی ہزارہ، ضلعی رہنماء حاجی الطاف حسین ہزارہ، محمد یونس ہزارہ و دیگر بھی شامل تھے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ ظلم کے خلاف بولنا اور ظالم کی مخالفت کرنا ایک عظیم عبادت ہے۔ پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جس معاشرے میں ظالم کو ظالم کہنا جرم بن جائے، اس معاشرے کا اللہ ہی حافظ ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ظالم ہمیشہ بزدل ہوتے ہیں جس طرح فرعون اور یزید بزدل تھے۔ فرعون شیرخوار بچوں سے ڈرتا تھا۔ اس لئے اس نے ہزاروں نومولود بچوں کو ذبح کیا۔ یزید آل رسول (ص) کی نہتی اسیر مستورات خصوصاً نواسی رسول (ص) حضرت زینب کبریٰ (س) سے ڈرتا تھا۔ ظالم حق کی آواز اور نہتی خواتین سے ڈرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آج بھی ظالم حکمران مظلوم بلوچ خواتین کی آواز سے خوفزدہ ہیں۔ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، سمی دین بلوچ اور دیگر خواتین کو بغیر کسی مقدمے کے صرف ایم پی او کے تحت قید میں رکھا گیا ہے۔ ہم اس ظلم کو قبول نہیں کرتے کہ تم ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو پابند سلاسل کر دو۔ علامہ ڈومکی نے کہا کہ جب کوئی شخص اپنی قوم کے لیے آواز بلند نہ کر سکے، تو اسے اقتدار کی کرسی کو لات مار دینی چاہیے، جیسا کہ سردار اختر جان مینگل نے اصولوں پر سمجھوتہ نہ کرتے ہوئے قومی اسمبلی کی نشست کو ٹھوکر مار دی۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے بہادر سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی طرف سے بلوچستان کے عوام، سردار اختر جان مینگل اور بی این پی کے کارکنوں کے لیے یہ پیغام لایا ہوں کہ ہم بلوچستان کے حقوق کی جدوجہد میں ہر قدم پر بلوچستان کے ساتھ کھڑے ہیں، کیونکہ مظلوم کی حمایت اور ظالم کی مخالفت ہمارے اصولی مؤقف کا حصہ ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: علامہ مقصود علی ڈومکی ڈومکی نے کہا کرتے ہوئے نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔