قوم کو خوفزدہ کیا جا رہا ہے، 5 اگست کا احتجاج ملک گیر تحریک ہوگی، سلمان اکرم راجا
اشاعت کی تاریخ: 1st, August 2025 GMT
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیئر رہنما اور معروف وکیل سلمان اکرم راجا نے کہا ہے کہ 9 مئی کے واقعات کی آڑ میں منتخب عوامی نمائندوں کو دہشت زدہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج ہمارے ایک ساتھی کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے جبکہ 2 سرکاری ملازمین کی شہادت کے مقدمے میں 10، 10 سال کی سزائیں سنائی گئیں۔
یہ بھی پڑھیے: حکومت کا پی ٹی آئی کے 5 اگست کے احتجاج پر ردعمل اس کے رویے سے مشروط ہوگا، وزیردفاع
سلمان راجا کا کہنا تھا کہ ہم پر ایک ہی الزام ہے کہ 9 مئی کی سازش کے لیے کسی میٹنگ میں شریک ہوئے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سزائیں کسی مہذب جمہوری ملک میں نہیں دی جاتیں۔ پورا ملک اس وقت خوف کی فضا میں ہے، جو کسی ترقی یافتہ ریاست کی علامت نہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ تمام مقدمات 5 اگست کے ممکنہ ملک گیر احتجاج کے خوف سے قائم کیے جا رہے ہیں۔ یہ بھول ہے ان لوگوں کی کہ وہ ہمیں دبا سکیں گے۔ ہم بھاگنے والے نہیں، ہم آئین و قانون کی جنگ لڑ رہے ہیں، 5 اگست کا احتجاج ملک گیر تحریک ہوگی۔
یہ بھی پڑھیے: عمران خان ہی پارٹی کے قائد ہیں، شاہ محمود کی سربراہی کی خبریں بے بنیاد ہیں: سلمان اکرم راجہ
انہوں نے کہا کہ ہم سزاؤں کے خلاف اپیل ضرور کریں گے مگر 26ویں آئینی ترمیم کے بعد عدالتوں کی صورتحال سب کے سامنے ہے۔ اس کے باوجود ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
سلمان اکرم راجا نے انکشاف کیا کہ ان کی وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور سے بات ہوئی ہے جنہوں نے بتایا کہ بعض مخصوص علاقوں میں داعش اور ٹی ٹی پی کے لوگ موجود ہیں اور بعض عام شہریوں کے گھروں میں جنگجو پناہ لیے ہوئے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ جہاں بھی آپریشن ہو، وہاں مقامی لوگوں کی رضامندی سے کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیے: 9 مئی مقدمات: عمر ایوب، شبلی فراز اور زرتاج گل سمیت 108 افراد کو سزائیں، فواد چوہدری و دیگر بری
پی ٹی آئی کے اندرونی معاملات پر بات کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پارٹی میں ٹکٹوں کی تقسیم میرٹ پر ہونی چاہیے۔ ٹکٹ کسی پیسے والے کو نہیں بلکہ گراؤنڈ ورکر کو ملنا چاہیے۔ جو 6 نام سینیٹ کے لیے دیے گئے وہ سب بانی کی مرضی سے دیے گئے تھے۔ کل کے سینیٹ الیکشن میں جو امیدوار (مشعال یوسفزئی) سامنے آیا، وہ بھی بانی کا فیصلہ تھا۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ ہم اپیل کرتے ہیں کہ سب سیاسی قوتیں بیٹھیں اور ملک کو مل کر آگے لے جائیں۔ ہم پنجاب کے مظلوموں، بے گھر افراد، بلوچستان کے عوام کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
5 اگست احتجاج پی ٹی آئی تحریک انصاف سلمان اکرم راجہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: 5 اگست پی ٹی ا ئی تحریک انصاف سلمان اکرم راجہ انہوں نے کہا کہ سلمان اکرم
پڑھیں:
آبنائے ہرمز اور باب المندب کا متبادل تیار کرنے میں دہائیاں لگیں گی، عرب ماہر
متبادل زمینی توانائی راہداریوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک، شام یا ترکیہ کے راستے مجوزہ پائپ لائن منصوبے طویل المدتی سرمایہ کاری کے متقاضی ہیں، جن کی تکمیل میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں، اس لیے وہ قلیل مدت میں موجودہ بحران کا حل فراہم نہیں کر سکتے۔ اسلام ٹائمز۔ ایک عرب ماہر معاشیات نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب کی بیک وقت بندش عالمی معیشت کو تباہ کر دے گی۔ ان دونوں آبنائے کا متبادل بنانے میں دہائیاں لگیں گی۔ بین الاقوامی معیشت کے معروف عرب ماہر ڈاکٹر کامل وزنة نے ایران میں جاری جنگ اور اہم سمندری گزرگاہوں، خصوصاً آبنائے ہرمز اور باب المندب کی ممکنہ بندش کے تباہ کن نتائج سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جنگ جاری رہی تو دنیا ایک ایسے حقیقی خطرے سے دوچار ہو جائے گی جو ہر فرد کی زندگی کو متاثر کرے گا اور عالمی منڈیوں کو مہنگائی کی ایک غیر معمولی لہر کی طرف دھکیل دے گا۔ ڈاکٹر کامل وزنة نے عربی ویب سائٹ عربی 21 سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ باب المندب کا فوجی کشیدگی کے دوسرے بڑے مرکز کے طور پر سامنے آنا عالمی منڈیوں میں استحکام کی بحالی اور معاشی بہتری کے عمل کو روک چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ خام تیل کی قیمتیں بتدریج بڑھتے ہوئے 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہیں، اور اگر موجودہ کشیدگی برقرار رہی تو قیمتوں میں مزید اضافے کا خطرہ انتہائی سنگین ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اشیا اور توانائی کی ترسیل کے سمندری راستوں کی بندش دنیا بھر میں مہنگائی میں اضافے اور تمام ممالک کے معاشی مسائل میں شدت کا باعث بنے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب مسئلہ صرف ایک آبنائے کی بندش تک محدود نہیں رہا، بلکہ پوری کی پوری ریاستیں عالمی تجارت کے بہاؤ اور بنیادی وسائل تک رسائی سے محروم ہو رہی ہیں، جس کے باعث یہ وسائل عالمی منڈیوں تک نہیں پہنچ پا رہے۔ ڈاکٹر کامل وزنة نے خطے اور خصوصاً سعودی عرب پر اس بحران کے اثرات کے حوالے سے کہا کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب میں بحری آمدورفت متاثر ہونے سے خطے کے ممالک کی برآمدات اور صنعتی سرگرمیوں کو نقصان پہنچے گا، اگرچہ سعودی عرب کی معیشت نسبتاً مضبوط اور زیادہ لچکدار ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس بحران نے پورے خطے میں معاشی سست روی پیدا کر دی ہے، جس کے اثرات جائیداد کی مارکیٹ، روزگار، سرمایہ کاری کے مواقع اور بیرونِ ملک مقیم افراد کی ترسیلاتِ زر پر بھی پڑ رہے ہیں۔ ان کے مطابق کوئی بھی ملک اپنے علاقے یا اپنے ملک میں جاری جنگ سے فائدہ نہیں اٹھاتا، اسی لیے بحران کے خاتمے کے لیے جلد از جلد سیاسی حل تلاش کرنا ناگزیر ہے۔ ڈاکٹر کامل وزنة نے زور دے کر کہا کہ اگر یہ اہم سمندری گزرگاہیں بند رہیں تو عالمی معیشت کے پاس اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے کوئی فوری یا تیار متبادل موجود نہیں ہو گا۔ انہوں نے بتایا کہ دنیا کے 20 سے 25 فیصد بنیادی وسائل اور توانائی کی ترسیل آبنائے ہرمز اور باب المندب کے ذریعے ہوتی ہے، اور عالمی اسٹاک مارکیٹیں بھی متعدد بار اس صورتحال کے ممکنہ نتائج سے خبردار کر چکی ہیں۔
متبادل زمینی توانائی راہداریوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک، شام یا ترکیہ کے راستے مجوزہ پائپ لائن منصوبے طویل المدتی سرمایہ کاری کے متقاضی ہیں، جن کی تکمیل میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں، اس لیے وہ قلیل مدت میں موجودہ بحران کا حل فراہم نہیں کر سکتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسے منصوبوں کی کامیابی سیاسی استحکام سے مشروط ہوتی ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے روس اور جرمنی کے درمیان گیس پائپ لائن کی مثال دی، جو مکمل ہونے کے باوجود یوکرین جنگ کے بعد تخریب کاری کا نشانہ بنی اور دھماکے سے تباہ کر دی گئی۔