مںصورہ لاہور میں پریس کانفرنس میں نائب امیر جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ بلوچستان اور پنجاب کے درمیان جو نفرتیں پھیلائی گئی اس سے بیت نقصان ہوا، اس لانگ مارچ نے تعصب کی دیوار کو گرا دیا ہے، اس لانگ مارچ کے باعث پنجاب اور بلوچستان کی عوام کے درمیان نفرتوں کو ختم کرنے کا موقع ملا ہے۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ ڈائیلاگ سے گاڑیوں سے باہر نکال کر قتل عام اور بلوچستان اور پنجاب میں میں نفرت ختم ہوئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے منصورہ لاہور میں پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ’’حق دو بلوچستان لانگ مارچ‘‘ کامیاب رہا، لانگ مارچ کے تمام شرکاء پُرعزم رہے اور ہمت اور استقامت کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں اور جماعت اسلامی کی قیادت کو اس کامیاب جدوجہد پر مبارکباد پیش کرتا ہوں، اس لانگ مارچ میں کسی کا کوئی ذاتی مفاد نہیں تھا، یہ صرف اور صرف بلوچستان کے عوام کے دکھ اور درد کو حکومتی بااختیار افراد تک پہنچانا تھا۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ اس لانگ مارچ سے حاصل ہونیوالے اہداف میں بلوچستان کے عوام کے حقوق کیلئے آواز اٹھائی گئی ہے، یہ لانگ مارچ کسی کے اشارے، کسی بیرونی ہاتھ کے اشارے پر نہیں، کسی کے مفاد کیلئے نہیں کیا گیا، یہ لانگ مارچ اس لئے کیا گیا تاکہ دنیا کو بتایا جا سکے کہ بلوچستان کے لوگ پُرامن اور قانون پسند ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان اور پنجاب کے درمیان جو نفرتیں پھیلائی گئی اس سے بیت نقصان ہوا، اس لانگ مارچ نے تعصب کی دیوار کو گرا دیا ہے، اس لانگ مارچ کے باعث پنجاب اور بلوچستان کی عوام کے درمیان نفرتوں کو ختم کرنے کا موقع ملا ہے۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ ڈائیلاگ سے گاڑیوں سے باہر نکال کر قتل عام اور بلوچستان اور پنجاب میں میں نفرت ختم ہوئی ہے، نوجوانوں کیساتھ خواتین لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے کام کررہی ہیں، بلوچستان کو حق دو مارچ کا مقصد بحرانوں و پریشانیوں سے نجات دلانے کیلئے قوت بن کر کردار ادا کرنا ہے۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ اگر طاقت و قوت سے لوگوں کو راستوں سے ہٹاؤ گے تو آزاد قوم کیلئے مشکلات کا باعث ہوگا، پاکستان کے عوام ہائبرڈ نظام کیساتھ یا اندھی طاقت کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔

لیاقت بلوچ نے کہا کہ عوام آئین و جمہوری نظام کی بالادستی چاہتے ہیں، ہم نے بلوچستان کو حق دو مارچ میں آٹھ مطالبات حکومت کے سامنے رکھے، ہماری گرفتاریاں ہوئیں لیکن کوئی اشتعال میں نہیں آیا، منصورہ کو حصار میں لے لیا گیا، چاروں اطراف راستے بند کر دیئے گئے، ہمارے پاس آپشن تھا پورے لاہور کو کال دیں، اس موقع پر ادلے کا بدلہ آسان کام تھا، گرفتاریوں اور آنسو گیس یا ویگنیں بھرنا آسان کام نہ تھا، یہ ایونٹ بن سکتا تھا تو ہمیں پھر دیوار سے لگا دیا جاتا۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ پنجاب میں حکومت کی جانب سے سینئر وزیر وزراء کے مذاکرات ہوئے طلال چوہدری سے بھی ملاقاتیں ہوئیں اور پھر معاہدہ ہوا، کاررواں لاہور پریس کلب پہنچا اور وفاقی حکومت کی کمیٹی نوٹیفائی ہوگئی، کمیٹی کیساتھ مذاکرات ہوئے تو معاملہ حل ہوگیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: لیاقت بلوچ نے کہا کہ بلوچستان اور پنجاب اور بلوچستان اس لانگ مارچ کے درمیان عوام کے

پڑھیں:

جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ

ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • جمال رئیسانی کا بی وائی سی اور کالعدم بی ایل اے کے مبینہ روابط کا دعویٰ، خواتین کے استعمال کو بلوچ روایات کے خلاف قرار دے دیا
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب