بھارت کی ایک اور اوچھی حرکت، پاکستان سے تمام اشیا کی براہ راست یا بالواسطہ درآمد پر پابندی لگادی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, May 2025 GMT
نئی دہلی (ڈیلی پاکستان آن لائن )بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونے والے فالس فلیگ آپریشن کی آڑ میں بغیر شواہد کے پاکستان کے خلاف جارحانہ اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق پہلگام کے سیاحتی مرکز پر ہونے والے واقعے کے بعد بھارت نے پہلے پاکستان کے ساتھ عالمی بینک کی ثالثی میں ہونے والا سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر بند کیا اور پھر طبی بنیادوں پر علاج کے لئے بھارت میں موجود تمام پاکستانیوں اور سفارتی عملے کو فوری ملک چھوڑنے کا حکم دیا۔
اب بھارت نے پاکستان کے خلاف ایک اور چال چلتے ہوئے تمام اشیا کی براہ راست یا بالواسطہ درآمد پر پابندی لگا دی ہے۔بھارتی وزارت تجارت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ فارن ٹریڈ پالیسی 2023 میں ترمیم کرتے ہوئے پاکستان سے ہر قسم کی اشیا کی براہ راست یا بالواسطہ درآمد پر تاحکم ثانی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔بھارت کے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف فارن ٹریڈ کا کہنا ہے کہ پاکستان سے ہر قسم کی اشیا کی درآمد پر پابندی قومی مفاد میں لگائی گئی ہے۔
یاد رہے کہ 22 اپریل کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام کے سیاحتی مقام پر فائرنگ کے واقعے میں 26 افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوئے تھے۔ہندو انتہا پسند مودی سرکار نے بغیر شواہد کے پہلگام واقعے کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرایا تاہم متاثرہ خاندانوں، بھارت کی اپوزیشن جماعتوں حتیٰ کہ بھارت کے کئی اتحادیوں اور بھارت کی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہ نے بھی پہلگام واقعے کو بھارت کی سکیورٹی ناکامی قرار دیتے ہوئے اس کا ذمہ دار بی جے پی کی حکومت کو ٹھہرایا ہے۔
پاک بھارت ممکنہ جنگ ، کس کے پاس کتنے ہتھیار ہیں؟
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔
ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔