وزیراعظم شہباز شریف کا سینیٹر پروفیسر ساجد میر کے انتقال پر اظہارِ تعزیت
اشاعت کی تاریخ: 3rd, May 2025 GMT
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف کا سینیٹر پروفیسر ساجد میر کے انتقال پر اظہارِ تعزیت
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے امیر جمیعتِ اہل حدیث اور سینیٹر پروفیسر ساجد میر کے انتقال پر گہرے رنج اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اپنے تعزیتی پیغام میں وزیراعظم نے مرحوم کی بلندیٔ درجات اور پسماندگان کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ ساجد میر نہ صرف ایک بصیرت افروز سیاسی شخصیت تھے بلکہ ایک جید دینی اسکالر بھی تھے۔ ان کی رحلت سے پاکستان کے سیاسی و دینی منظرنامے میں ایک ایسا خلا پیدا ہو گیا ہے جو مدتوں پُر نہیں ہو سکے گا۔
شہباز شریف نے کہا کہ ساجد میر نے ہمیشہ انتہاپسندی، فرقہ واریت اور مذہبی شدت پسندی کے خلاف مضبوط موقف اپنایا۔ ان کا سیاسی و مذہبی سفر رواداری، اعتدال اور اتحاد کی تعلیمات سے عبارت رہا۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ ساجد میر کی خدمات تاریخ کے سنہری باب کا حصہ بن چکی ہیں۔ مشکل کی اس گھڑی میں حکومت، پوری قوم اور وہ خود ساجد میر کے اہلِ خانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ساجد میر کے شہباز شریف
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔