انسان تو سب ہی اللہ کے بندے ہیں، اس کے پیدا کردہ ہیں لیکن کچھ انسان اللہ تعالیٰ کے خاص اور مقبول بندے ہوتے ہیں عرف عام میں جن کو اولیاء کہاجاتا ہے، یہ وہ بزرگ ہستیاں ہیں کہ توحید و رسالت پر ایمان کے ساتھ ساتھ ان کے عقائد، اعمال و اخلاق اورعبادت سب اللہ اور اللہ کے رسول کی مرضی کے تابع اور احکام شرع کے مطابق ہوتے ہیں،قرآن کریم نے ایسے ہی خاص بندوں کو ’’عبادالرحمن‘‘کا لقب عطا فرمایا جو ان کا بہت بڑا اعزاز ہے۔سورہ الفرقان کے آخری رکوع میں اللہ تعالیٰ کے ان خاص بندوں کی کچھ صفات و علامات ذکر کی گئی ہیں کہ وہ خاص متعینہ لوگ نہیں بلکہ جو بھی ان صفات کو اپنائے گا، اپنا کردار، گفتار، اخلاق و اطوار، عبادات و معاملات وغیرہ ان صفات کے مطابق کرے گا تو وہ بھی اللہ تعالیٰ کے ان قریبی اور مقبول بندوں ’’عبادالرحمن‘‘ میں شامل ہو جائے گا۔ قرآن مجید کی بیان کردہ ’’عباد الرحمن‘‘کی وہ خاص صفات پڑھتے ہیں کہ جن کی بدولت ان کو یہ اعزاز حاصل ہوا۔عباد الرحمن کی پہلی صفت ہے ’’عبودیت‘‘یعنی اللہ تعالیٰ کا ہی بندہ بن کر رہنا، اپنے اعمال و اخلاق بلکہ اپنے وجود تک کو مالک حقیقی کا مملوک سمجھنا، ہر قول و فعل مالک کی مرضی کے مطابق کرنا، ہمہ وقت ہر حال میں اس کی اطاعت کے لئے کمر بستہ رہنا، ایسے لوگ ہیں اللہ کے بندے اور جو اس لائق ہیں کہ انہیں بندہ کہا جائے کیونکہ اپنی حد تک یہ بندگی کا حق ادا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، ورنہ جو برائے نام کا رحمن کا بندہ ہو اور کام اس کے شیطان کے ہوں تو ایسے لوگوں کے بارے میں قرآن مجید میں آتا ہے: ’’اولئک کالانعام بل ھم اضل‘‘ یعنی باوجود یکہ ان کا خالق و مالک بھی اللہ ہی ہے لیکن ان کے اخلاق و اعمال عقائد و عبادات ایسے ہیں کہ یہ اس لائق نہیں کہ ان کو اللہ کا بندہ کہا جائے بلکہ یہ جانوروں سے بھی بدترہیں، جانور بھی اپنے مالک کے اتنے نافرمان نہیں ہوتے جتنا یہ شخص ہے، ان جانوروں میں کتنے ہی ایسے ہیں جن کو لوگ حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں لیکن وہ اپنے مالک کے اتنے وفادار ہوتے ہیں کہ مالک کی خاطر اپنی جان تک قربان کر دیتے ہیں مگر یہ (بعض) انسان ہیںکہ جو اپنے مالک حقیقی اللہ جل شانہ اور اللہ تعالیٰ کے رسول کی عملاً بغاوت پر اترے ہوئے ہیں۔
قرآن و سنت کے احکامات کو پس پشت ڈال کر اپنی من مانی، جی چاہی زندگی گزار رہے ہیں ، حیات چند روزہ کو حیات جاوداں(آخرت)پر ترجیح دے رہے ہیں یہ لوگ اس بات کے مستحق ہی نہیں کہ ان کو اللہ کا بندہ کہا جائے اور’’عباد الرحمن‘‘کا تمغہ امتیاز ان کو دیا جائے۔ عبادالرحمن کی دوسری صف یہ ہے کہ وہ زمین پر تواضع کے ساتھ چلتے ہیں،ا کڑاتے ہوئے تکبر کی ساتھ نہیں چلتے، ان کی چال میں مسکنت(عاجزی)اور وقار کی صفت نظر آرہی ہوتی ہے،عورتوں کی طرح بہت آہستہ آہستہ چلنا مراد نہیں کیونکہ یہ تو خلاف سنت ہے، آپﷺ کے بارے میں آتا ہے کہ یعنی آپ ﷺ جب چلتے تھے تو ایسا لگتا تھا گویا بلندی سے اتر رہے ہیں اور زمین آپﷺ کے لئے سمیٹ دی گئی ہے۔ اس وجہ سے بتکلف (بلا ضرورت)مریضوںکی طرح آہستہ آہستہ چلنے کو علماء نے مکروہ لکھا ہے کہ اس ادا سے تکبر صاف دکھائی دے رہا ہوتاہے اور تکبر کرنا، بڑائی جتلانا بندہ کی شان نہیں ہے، ایسے اکڑ اکڑ کر، یا کسی بھی دوسرے طریقے پر متکبرانہ انداز میںچلنے سے قرآن کریم نے صاف لفظوں میں منع فرمایا ہے ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’یعنی زمین پر اتراتے ہوئے مت چل بے شک تو زمین کو پھاڑ بھی نہیں سکتا اور پہاڑ کی بلندی کو بھی نہیں پہنچ سکتا‘‘ حضرت حسن بصری ؒنے اس آیت ’’یمشون علی الارض ھونا‘‘کی تفسیر میں فرمایا کہ مومنین مخلصین کے تمام اعضا و جوارح آنکھ، کان، ہاتھ ، پائوں سب اللہ کے سامنے ذلیل و عاجز ہوتے ہیں، ناواقف ان کو دیکھ کر معذور وعاجز سمجھتا ہے حالانکہ نہ وہ بیمار ہیں نہ وہ معذور بلکہ تندرست قوی ہیں مگر ان پر حق تعالیٰ کا خوف ایسا طاری ہے جو دوسروں پر نہیں ہے۔ ان کو دنیا کے دھندوں سے آخرت کی فکر نے روکا ہوا ہے اور جو شخص اللہ پر بھروسہ نہیںکرتا اور اس کی ساری فکر دنیا ہی کے کاموں میں لگی رہتی ہے تو وہ ہمیشہ حسرت ہی حسرت میں رہتا ہے(کہ دنیا تو ساری ملتی نہیں اورآخرت میں اس نے حصہ نہیں لیا)اور جس شخص نے اللہ کی نعمت صرف کھانے پینے کی ہی چیزوں کو سمجھا اور اعلیٰ اخلاق کی طرف دھیان نہیں دیا، اس کا علم بہت تھوڑا ہے اور عذاب اس کے لئے تیار ہے۔(از ابن کثیر)
قرآن کریم میں اسی لفظ ’’ھونا‘‘کااستعمال ہوا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ مسکنت اور وقار کے ساتھ چلنا اور چلتے وقت پائوں اٹھا کر رکھنا، زمین پر گھسیٹتے ہوئے نہ چلنا آپﷺ کے بارے میں آتا ہے کہ آپﷺ جب چلتے تو پائوں اٹھا اٹھا کر رکھتے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے آپ بلندی سے اتر رہے ہوں اور سینہ تان کر چلنا یہ متکبرین کا کام ہے عباد الرحمن کا طریقہ یہ ہے کہ وہ تکبر اور خود نمائی سے بچتے ہیں اور اپنے گفتار و کردار، عادات اور اطوار اور چال چلن میں تکبر کی بو بھی محسوس نہیں ہونے دیتے،مسکنت اور عاجزی ان کی اک اک ادا سے ٹپک رہی ہوتی ہے اور یہ انسان کی چال ہی ہے جو اس کے ذہن، اور سیرت و کردار کی مکمل ترجمانی کرتی ہے ایک بدمعاش اور غنڈے آدمی کی چال ایک ظالم و جابر کی چال، ایک مہذب آدمی کی چال الگ الگ ہوتی ہے اور انسان کی چال چلن کو دیکھ کر بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کس چال کے پیچھے کس طرح کی شخصیت جلوہ گر ہے۔ انسان کا یہ قدم ہی ہے جو اس کو خیر کی طرف بھی لے جاتا ہے اور شر کی طرف بھی، کامیابی کی طرف بھی ، ناکامی کی طرف بھی اس لئے اللہ تبارک و تعالیٰ نے عباد الرحمن کی صفات کے اوائل ہی میں اس کا تذکرہ کیا،جن کا ہرقدم خیر کے ساتھ اٹھتا ہے اور خیر ہی کی طرف اٹھتا ہے، نہ تو کسی پر ظلم و جبر کرنے کے لئے اور نہ زمین میں فساد مچانے اور اپنی بڑائی جتلانے کے لئے۔خلاصہ اس صفت کا یہ ہوا کہ عباد الرحمن یعنی اللہ کے خاص اور مقرب بندے(بلاضرورت)نہ تو بہت آہستہ چلتے ہیں (عورتوں اور مریضوں کی طرح)اور نہ ہی بہت تیز بلکہ درمیانی رفتار سے چلتے ہیں اور چلتے وقت زمین پر پائوں گھسیٹتے ہوئے نہیں چلتے بلکہ قدم اٹھا اٹھا کر رکھتے ہیں، متکبرانہ انداز میں سینہ تان کر اوپر اٹھا کر نہیں چلتے بلکہ عاجزی اور مسکنت و وقار کے ساتھ سینہ اور نظریں جھکائے ہوئے چلتے ہیں اور ان کا کوئی قدم گناہ اور معاصی کے کام کی طرف نہیں اٹھتا بلکہ خیر ہی کی طرف اٹھتا ہے، اللہ تعالیٰ ایسی ہی چال ہر مسلمان کو نصیب کردے۔ آمین
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: عباد الرحمن اللہ تعالی کی طرف بھی ہوتے ہیں چلتے ہیں ہیں اور اٹھا کر اللہ کے رہے ہیں کے ساتھ ہے اور ہیں کہ کی چال کے لئے
پڑھیں:
’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
معروف بھارتی گلوکار سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے میڈیا نمائندوں سے کہا کہ اس معاملے پر ان سے مزید سوال نہ کیے جائیں۔
سونو نگم سے ایک حالیہ میڈیا گفتگو کے دوران مبینہ نیٹ پرچہ لیک اور تعلیمی اصلاحات کے مطالبے پر جاری احتجاج کے حوالے سے سوال کیا گیا، تاہم انہوں نے اس موضوع پر اپنی رائے دینے سے گریز کیا۔
رپورٹرز کی جانب سے مسلسل سوالات کیے جانے پر سونو نگم نے واضح کیا کہ وہ اس معاملے پر بات نہیں کرنا چاہتے۔ بار بار سوالات کیے جانے پر وہ کچھ برہم دکھائی دیے اور مختصراً کہا، ’’ابھی ہو گیا، بس۔‘‘ اس جملے کے ذریعے انہوں نے اشارہ دیا کہ وہ اس موضوع پر مزید گفتگو نہیں کرنا چاہتے۔
رپورٹس کے مطابق، یہ میڈیا گفتگو کہاں اور کس موقع پر ہوئی، اس حوالے سے کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
View this post on Instagram
نیٹ احتجاج پر متعدد شوبز شخصیات کا ردِعمل
سونو نگم کی خاموشی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارتی فلم انڈسٹری کی کئی معروف شخصیات نیٹ احتجاج پر اپنے خیالات کا اظہار کر رہی ہیں۔
اداکار سلمان خان، عالیہ بھٹ، دُلکر سلمان، وجے ورما، نصیرالدین شاہ، انوپم کھیر، ہیما مالنی، پریتی زنٹا اور عمران خان سمیت متعدد فنکار اس معاملے پر مختلف رائے کا اظہار کر چکے ہیں۔ بعض نے طلبہ کی حمایت کرتے ہوئے مذاکرات اور تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ کیا جبکہ دیگر نے مختلف مؤقف اختیار کیا۔
واضح رہے کہ نیٹ امتحان میں مبینہ پرچہ لیک کے بعد ملک بھر میں طلبہ کی جانب سے احتجاج جاری ہے۔ مظاہرین امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی اور احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔