ہفتہ وار مہنگائی کی شرح بڑھ کر 4.07فیصد ہو گئی ، 14اشیائے ضروریہ مزید مہنگی
اشاعت کی تاریخ: 25th, July 2025 GMT
ہفتہ وار مہنگائی کی شرح بڑھ کر 4.07فیصد ہو گئی ، 14اشیائے ضروریہ مزید مہنگی WhatsAppFacebookTwitter 0 25 July, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)ملک بھر میں ہفتہ وار بنیادوں پر مہنگائی کی شرح بڑھ کر4.07 فیصد ہو گئی، جس کی بنیادی وجہ گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔
پاکستان ادارہ شماریات نے مہنگائی سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 2.
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پہلی سہ ماہی کے لیے گیس چارجز میں 590 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو کا اضافہ ہوا ہے، اور یہ ایک ہزار 976 روپے 50 پیسے سے بڑھ کر 2 ہزار 566 روپے 50 پیسے فی ایم ایم بی ٹی یو ہوگئے۔ادارہ شماریات کے مطابق پہلی سہ ماہی کے لیے بجلی چارجز میں ایک روپے فی یونٹ کا اضافہ ہوا، جو 4 روپے 66 پیسے سے بڑھ کر 5 روپے 66 پیسے فی یونٹ ہوگئے۔رپورٹ کے مطابق حالیہ ہفتے ٹماٹر 22.93 فیصد، انڈے 3.96 فیصد مہنگے ہوئے، جبکہ لہسن، بیف، دودھ، دہی، سیگریٹس، انرجی سیور کی قیمتوں میں بھی معمولی اضافہ ہوا۔
اسی طرح چکن 7.95 اور چینی کی قیمتوں میں 4.25 فیصد کی کمی ہوئی، جبکہ پیاز، کیلے، آلو، آٹا، دالیں، ایل پی جی کے نرخوں میں بھی تنزلی ریکارڈ کی گئی۔ادارہ شماریات کے مطابق ملک میں مہنگائی کی مجموعی سالانہ شرح 2.22 فیصد ہوگئی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپی ڈی ایم اے پنجاب نے مون سون بارشوں کے پانچویں اسپیل کا الرٹ جاری کردیا پی ڈی ایم اے پنجاب نے مون سون بارشوں کے پانچویں اسپیل کا الرٹ جاری کردیا چیئرمین سی ڈی اے کی زیر صدارت اجلاس،نالوں پر قائم تجاوزات کے فوری خاتمے کی ہدایت لندن ہائیکورٹ، عادل راجہ کو پاکستانی انٹیلی جنس اداروں کیخلاف جھوٹے ثبوت دینے پر ہزیمت کا سامنا تاجکستان کے چیف آف جنرل سٹاف کی جوائنٹ چیفس جنرل ساحر شمشاد سے ملاقات،دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق صدر مملکت سے سعودی سفیر کی ملاقات، تجارت، معیشت، ثقافت پر تبادلہ خیال پاکستان امن پسند ملک، دشمن کو ہمیشہ مایوسی کا سامنا ہوگا، ترجمان پاک فوجCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: مہنگائی کی شرح ہفتہ وار بڑھ کر
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
عالمی منڈی میں جمعہ کو خام تیل (Crude Oil)کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھی گئی، تاہم مجموعی طور پر ہفتہ وار بنیادوں پر تیل کی قیمتیں نمایاں اضافے کی جانب بڑھتی رہیں۔ بحیرۂ احمر میں آئل ٹینکروں پر حملوں اور قازقستان سے تیل کی برآمدات میں رکاوٹ نے عالمی منڈی میں سپلائی سے متعلق خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
کاروباری سیشن کے دوران برینٹ خام تیل (Brent Crude) کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد عبور کرتے ہوئے 100.12 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو مئی کے بعد پہلی مرتبہ اس سطح پر پہنچی ہے۔ اسی طرح ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 92 ڈالر فی بیرل جبکہ اماراتی مربن آئل (Murban Crude) 107.30 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہوا۔
مارکیٹ میں تیزی کی ایک بڑی وجہ یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے بحیرۂ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان حملوں کے بعد سرمایہ کاروں میں خدشات بڑھ گئے ہیں کہ اگر باب المندب کی اہم بحری گزرگاہ متاثر ہوئی تو عالمی سطح پر تیل کی ترسیل شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ یہ راستہ آبنائے ہرمز کے بعد دنیا میں خام تیل کی نقل و حمل کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump) نے خبردار کیا ہے کہ مستقبل میں ایسے کسی بھی حملے کی ذمہ داری ایران پر عائد کی جائے گی۔ دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان بھی کر رکھا ہے، جبکہ مختلف اطلاعات کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں باب المندب کی صورتحال مزید حساس ہو گئی ہے۔
مزیدپڑھیں:پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
ادھر قازقستان (Kazakhstan) کی وزارتِ توانائی نے بتایا کہ مشتبہ یوکرینی ڈرون حملوں کے بعد ملک کی ایک اہم برآمدی تنصیب عارضی طور پر بند ہونے سے خام تیل کی پیداوار کم کر دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق کیسپین پائپ لائن کنسورشیم (Caspian Pipeline Consortium – CPC) نے ٹرمینل پر حملوں کے باعث قازقستان سے خام تیل کی وصولی عارضی طور پر معطل کر دی ہے۔ یہ پائپ لائن عالمی سطح پر یومیہ خام تیل کی تقریباً دو فیصد سپلائی سنبھالتی ہے، جبکہ ایک ذریعے کے مطابق قازقستان کے سب سے بڑے آئل فیلڈ کی پیداوار بھی نصف سے کم کر دی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی اور قازقستان سے سپلائی میں رکاوٹ کے باعث عالمی تیل مارکیٹ غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے، جس کے نتیجے میں آنے والے دنوں میں خام تیل کی قیمتوں پر اضافے کا دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔