بھارت کو شکست: آئی ایم ایف نے پاکستان کو دیے گئے قرضوں کا ازسرنو جائزہ لینے کا مطالبہ مسترد کردیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, May 2025 GMT
بھارت کو پاکستان کے خلاف ایک اور محاذ پر شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے، انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کو دیے گئے قرضوں کا از سر نو جائزہ لینے کا بھارتی مطالبہ مسترد کردیا ہے، جس کے بعد پاکستان کو 2.3 ارب ڈالر کا پیکج ملنے کا امکان ہے۔
آئی ایم ایف حکام کے مطابق ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس پہلے سے جاری شیڈول کے مطابق 9 مئی کو ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں بجٹ برائے مالی سال 26-2025: معاملات آئی ایم ایف ہی طے کرے گا
نمائندہ آئی ایم ایف ماہر بینسی نے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ 9 مئی کو ہونے والے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں پاکستان کی درخواست پر غور کیا جائےگا، دوسرے ممالک کے خدشات پر ہم تبصرہ نہیں کرتے۔
دوسری جانب وزارت خزانہ کے حکام نے بتایا ہے کہ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں پاکستان کو 2.
حکام نے بتایا کہ اجلاس میں کلائمیٹ فنانسنگ سے متعلق 1.3 ارب ڈالر کے آر ایس ایف پروگرام کی منظوری متوقع ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے فنڈز 28 ماہ میں اقساط میں ملیں گے۔
واضح رہے کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 25 مارچ کو اسٹاف لیول معاہدہ طے پا چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں کلائمیٹ فنانسنگ پر پاکستان سے بات چیت کامیاب، 1.3 ارب ڈالر ملیں گے، آئی ایم ایف
بھارت نے حالیہ کشیدگی کے بعد آئی ایم ایف سے مطالبہ کیا تھا کہ عالمی مانیٹری فنڈ پاکستان کو دیے گئے قرضوں کا از سر نو جائزہ لے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آئی ایم ایف از سر نو جائزہ اسٹاف لیول معاہدہ ایگزیکٹو بورڈ اجلاس بھارت بھارت کو شکست پاکستان قرض وزارت خزانہ وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ئی ایم ایف اسٹاف لیول معاہدہ ایگزیکٹو بورڈ اجلاس بھارت بھارت کو شکست پاکستان وی نیوز ایگزیکٹو بورڈ ا ئی ایم ایف پاکستان کو ارب ڈالر
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
پاکستان سمیت 8 عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ اور الحرم الشریف میں اسرائیلی اشتعال انگیز اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ مشترکہ اعلامیے میں اسرائیل سے فوری طور پر ان اقدامات کو روکنے اور عالمی برادری سے مؤثر کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ (الحرم الشریف) میں اسرائیل کی حالیہ اشتعال انگیزی اور کشیدگی میں اضافے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں انتہا پسند اسرائیلی وزراء کی قیادت میں یہودی آبادکاروں کی مسلسل اجتماعی دراندازی، مسجد اقصیٰ کے صحن میں اسرائیلی پرچم لہرانا، اسرائیلی پولیس کی جانب سے دو خیمے نصب کرنا اور دیگر اشتعال انگیز اقدامات نہایت خطرناک اور ناقابل قبول ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی انتہا پسند وزراء اور گروہوں کی جانب سے اشتعال انگیزی، مسجد اقصیٰ میں دراندازی پر اکسانے اور تشدد پر مبنی بیانات کی بھی شدید مذمت کی۔ اعلامیے میں خبردار کیا گیا کہ ایسے اقدامات نفرت اور انتہا پسندی کو فروغ دیتے ہیں اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ اور پائیدار امن کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ یروشلم کے قدیم شہر اور اس کے مذہبی مقامات تک رسائی پر پابندیاں، خصوصاً مسلمانوں اور دیگر عبادت گزاروں کے ساتھ امتیازی سلوک، بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ یہ اقدامات مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کی ایک غیرقانونی کوشش ہیں۔
وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ اسرائیل کو مقبوضہ یروشلم یا وہاں موجود اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات پر کسی قسم کی خودمختاری حاصل نہیں۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ اسرائیل بطور قابض طاقت مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے کے لیے منظم اقدامات کر رہا ہے، جو اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے تقدس اور حیثیت کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہیں۔
آٹھوں ممالک نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کی کوشش کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے اس حیثیت کے تحفظ پر زور دیا۔ اعلامیے میں مقدس مقامات کی نگرانی کے حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا گیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35 ایکڑ) رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے۔ مزید کہا گیا کہ اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور کے ماتحت یروشلم اوقاف اور مسجد اقصیٰ امور کا محکمہ ہی وہ واحد قانونی ادارہ ہے جو مسجد اقصیٰ کے انتظام و انصرام اور وہاں داخلے کے معاملات کا مجاز ہے۔
وزرائے خارجہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ بطور قابض طاقت فوری طور پر یروشلم کے قدیم شہر میں عائد تمام پابندیاں ختم کرے، مسجد اقصیٰ میں مسلمانوں کی عبادت میں رکاوٹ ڈالنے سے باز آئے اور مقدس مقامات کے تقدس کا احترام کرے۔
مشترکہ اعلامیے میں عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ اسرائیل کو یروشلم میں اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے خلاف جاری غیرقانونی اقدامات اور خلاف ورزیوں سے باز رکھنے کے لیے واضح، مضبوط اور مؤثر موقف اختیار کرے، تاکہ مقدس مقامات کی حرمت اور تاریخی حیثیت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں