لیبر پارٹی کے انتھونی البانیز مسلسل دوسری بار تین سالہ مدت کے لیے منتخب ہوگئے جو 21 سالہ تاریخ میں ایک ریکارڈ ہے۔ اپوزیشن لیڈر نے انتخابی نتائج تسلیم کرتے ہوئے اپنی شکست کا اعتراف کیا۔ اسلام ٹائمز۔ آسٹریلوی وزیرِاعظم انتھونی البانیز نے دوسری مدت کے لیے بھی انتخابی معرکہ مار لیا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق آسٹریلیا میں ہونے والے انتخابات میں ایک بار پھر لیبر پارٹی نے تاریخی فتح حاصل کرلی۔ لیبر پارٹی کے انتھونی البانیز مسلسل دوسری بار تین سالہ مدت کے لیے منتخب ہوگئے جو 21 سالہ تاریخ میں ایک ریکارڈ ہے۔ اپوزیشن لیڈر نے انتخابی نتائج تسلیم کرتے ہوئے اپنی شکست کا اعتراف کیا۔ انھوں نے کہا کہ ہم انتخابی مہم میں اتنی اچھی کارکردگی نہیں دکھا سکے جتنی درکار تھی۔

آسٹریلوی الیکشن کمیشن کے مطابق بائیں بازو کی حکمراں جماعت لیبر پارٹی نے 70 نشستیں حاصل کیں جب کہ قدامت پسند اپوزیشن اتحاد کو صرف 24 نشستیں ملیں۔ علاوہ ازیں 13 نشستوں پر آزاد اور چھوٹی جماعتوں کے امیدوار کامیاب ہوئے۔ کچھ نتائج کا انتظار ہے۔ حکمراں جماعت کی نشستوں کی تعداد 76 تک ہوسکتی ہے۔ البتہ اگر لیبر پارٹی دو یا زیادہ نشستیں کھو بیٹھتی ہے تو اسے اتحادی حکومت بنانا ہوگی۔آسٹریلیا میں آخری بار کوئی اتحادی حکومت 2010 میں بنی تھی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: لیبر پارٹی

پڑھیں:

سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔

ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • رائل کمیشن کی مکہ کے تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے اہم پیشرفت
  • سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • کراچی میں کھلے مین ہول میں گر کر 7 سالہ بچہ جاں بحق
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل