آسٹریلوی وزیراعظم دوسری بار بھی منتخب، لیبر پارٹی کی تاریخی فتح
اشاعت کی تاریخ: 3rd, May 2025 GMT
لیبر پارٹی کے انتھونی البانیز مسلسل دوسری بار تین سالہ مدت کے لیے منتخب ہوگئے جو 21 سالہ تاریخ میں ایک ریکارڈ ہے۔ اپوزیشن لیڈر نے انتخابی نتائج تسلیم کرتے ہوئے اپنی شکست کا اعتراف کیا۔ اسلام ٹائمز۔ آسٹریلوی وزیرِاعظم انتھونی البانیز نے دوسری مدت کے لیے بھی انتخابی معرکہ مار لیا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق آسٹریلیا میں ہونے والے انتخابات میں ایک بار پھر لیبر پارٹی نے تاریخی فتح حاصل کرلی۔ لیبر پارٹی کے انتھونی البانیز مسلسل دوسری بار تین سالہ مدت کے لیے منتخب ہوگئے جو 21 سالہ تاریخ میں ایک ریکارڈ ہے۔ اپوزیشن لیڈر نے انتخابی نتائج تسلیم کرتے ہوئے اپنی شکست کا اعتراف کیا۔ انھوں نے کہا کہ ہم انتخابی مہم میں اتنی اچھی کارکردگی نہیں دکھا سکے جتنی درکار تھی۔
آسٹریلوی الیکشن کمیشن کے مطابق بائیں بازو کی حکمراں جماعت لیبر پارٹی نے 70 نشستیں حاصل کیں جب کہ قدامت پسند اپوزیشن اتحاد کو صرف 24 نشستیں ملیں۔ علاوہ ازیں 13 نشستوں پر آزاد اور چھوٹی جماعتوں کے امیدوار کامیاب ہوئے۔ کچھ نتائج کا انتظار ہے۔ حکمراں جماعت کی نشستوں کی تعداد 76 تک ہوسکتی ہے۔ البتہ اگر لیبر پارٹی دو یا زیادہ نشستیں کھو بیٹھتی ہے تو اسے اتحادی حکومت بنانا ہوگی۔آسٹریلیا میں آخری بار کوئی اتحادی حکومت 2010 میں بنی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: لیبر پارٹی
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔