پریس فریڈم انڈیکس ،پاکستان کی تنزلی، 152سے 158درجے پر آگیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, May 2025 GMT
عالمی صحافتی تنظیم رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز کی 180ممالک میں آزادی صحافت کی صورتحال پر رپورٹ جاری
عالمی پریس فریڈم انڈیکس میں پاکستان کی تنزلی ہوگئی۔عالمی صحافتی تنظیم رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز نے 180ممالک میں آزادی صحافت کی صورتحال پر نئی رپورٹ جاری کردی۔عالمی پریس فریڈم انڈیکس میں پاکستان 152سے 158درجے پر آگیا، رپورٹ میں آزادی صحافت پر لگنے والی قدغنیں تنزلی کی اہم وجہ قرار دی گئی۔رپورٹ میں دنیا بھر میں صحافتی آزادی کو لاحق خطرات پر تشویش کا اظہار کیا گیا جبکہ میڈیا پر بڑھتے معاشی دباؤ کو خطرناک مسئلہ قرار دیا گیا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ امریکا سمیت تقریباً ایک تہائی ممالک میں معاشی مشکلات کے باعث خبررساں ادارے بند ہو رہے ہیں، آمرانہ حکومتیں میڈیا کو کنٹرول کرنے کے لیے اقتصادی دباؤ کا استعمال کر رہی ہیں۔ انڈیکس میں بھارت میں میڈیا کی ملکیت چند سیاسی اشرافیہ کے ہاتھوں مرکوز ہونے پر تحفظات کا اظہار کیا گیا، رپورٹ میں فلسطین کی صورتحال کو تباہ کن قراردیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے تقریباً 200 صحافیوں کو شہید کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔