پاکستانی اداکارہ اور ماڈل عائشہ عمر نے اپنے آنے والے رئیلیٹی پروگرام ’لازوال عشق‘ پر شدید تنقید کے بعد بول پڑیں۔

عائشہ عمر نے کہا کہ کئی میڈیا اداروں نے پروگرام کو غلط طور پر پیش کیا ہے۔ کچھ نیوز چینلز یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ میں نے کہا ہے کہ یہ پاکستانی ڈیٹنگ شو ہے، لیکن میں نے کبھی نہیں کہا کہ یہ ڈیٹنگ شو ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ شو مغربی ڈیٹنگ فارمیٹس جیسے ’لوو آئی لینڈ‘ سے متاثر نہیں ہے۔

اداکارہ نے بتایا کہ یہ پروگرام بامعنی بات چیت اور دیرپا رشتے بنانے پر مرکوز ہے جس کا مقصد شادی ہے۔ ہاں، پرومو کو مختلف قسم کی رائے اور قیاس آرائیاں مل رہی ہیں، لیکن یہ بالکل ڈیٹنگ شو نہیں ہے بلکہ زندگی کے ساتھی کو تلاش کرنے کے لیے ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ’لازوال عشق‘ ریئلٹی شو کے خلاف شکایات پر پیمرا کا ردعمل آگیا

عائشہ عمر کے مطابق اگرچہ پروگرام میں شرکاء ایک ولا میں رہیں گے، مگر لڑکیوں اور لڑکوں کے لیے الگ الگ فلورز اور الگ الگ کمرے ہوں گے۔ ان کے اپنے ڈریسنگ رومز بھی ہیں۔ صرف لاؤنج، کچن اور پول سائیڈ مشترکہ ہے جہاں وہ ایک دوسرے سے ملیں گے۔

عائشہ نے کہا کہ اس طرح کے فارمیٹس پہلے بھی پاکستانی ٹی وی پر آ چکے ہیں جہاں نوجوان ایک ہی جگہ رہتے ہیں مگر الگ الگ کمرے رکھتے ہیں، اور ’لازوال عشق‘ کو ایک سماجی تجربہ قرار دیا جو بات چیت پر مبنی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پروگرام کا محور بات چیت اور مکالمہ ہے جیسا کہ لوگ کالج، یونیورسٹی، پارک یا تھیٹر میں کرتے ہیں۔ پروگرام میں اسی قسم کی بات چیت دکھائی جائے گی اور یہ ایک بہت اچھا تجربہ ہے۔ یہ دیکھنے کا موقع ہے کہ نوجوان کیسے بات کرتے ہیں، کہاں غلطیاں کرتے ہیں اور انہیں کیسے درست کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ’شروع ہونے سے پہلے ہی بائیکاٹ کیا جائے‘، عائشہ عمر کے ڈیٹنگ ریئلٹی شو ‘لازوال عشق’ پر صارفین پھٹ پڑے

فارمیٹ کے بارے میں بات کرتے ہوئے میزبان کا کہنا تھا کہ پروگرام میں کوئی پہلے سے جوڑے نہیں بنائے گئے بلکہ شرکاء ایک دوسرے کو جان کر قدرتی طور پر رشتے قائم کریں گے اور اس کا مقصد شادی ہے یہی پروگرام کی بنیاد ہے۔ کھیل بھی بات چیت پر ہی مبنی ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام پاکستانی نوجوانوں کے لیے ایک قیمتی تجربہ ثابت ہو سکتا ہے۔

عائشہ عمر کی وضاحت سوشل میڈیا پر ہونے والی شدید تنقید کے بعد سامنے آئی ہے، کئی صارفین کی جانب سے شو کے کانٹینٹ اور پیش کردہ اقدار پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔

پروگرام کے پرومو میں دکھائے گئے مناظر پر کئی سوشل میڈیا صارفین نے تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ مواد پاکستانی معاشرتی، ثقافتی اور مذہبی اقدار سے مطابقت نہیں رکھتا۔ صارفین کا کہنا ہے کہ ایسے ریئلٹی شوز پاکستانی معاشرے میں مغربی طرز زندگی کو فروغ دے رہے ہیں، جو نوجوان نسل پر منفی اثرات ڈال سکتے ہیں۔

متعدد افراد نے مطالبہ کیا ہے کہ لازوال عشق جیسے پروگرامز پر پابندی عائد کی جائے۔ بعض ناقدین نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ ایسے مواد کو نشر کرنے کی اجازت دے کر ہم بطور معاشرہ کس سمت جا رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پیمرا ڈیٹنگ شو عائشہ عمر لازوال عشق.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پیمرا ڈیٹنگ شو لازوال عشق لازوال عشق نے کہا کہ ڈیٹنگ شو کرتے ہیں بات چیت کے لیے

پڑھیں:

مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
  • شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف، یکطرفہ طاقت کے استعمال پر سخت تنقید کردی
  • چینی چڑیا گھر میں جانور گرمی کی شدید لہر سے کیسے محفوظ رہتے ہیں؟
  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا