حکومت نے ایسا کیا جادو کردیا کہ پیناڈول، انسولین سمیت کئی دواؤں کی قلت اچانک ختم ہوگئی
اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT
حکومت کی جانب سے غیر ضروری ادویات کی قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کرنے کے فیصلے کے بعد ملک بھر کی فارمیسیز پر اب تقریباً تمام دوائیں بآسانی دستیاب ہیں۔
فارماسیوٹیکل صنعت کے نمائندوں اور ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے کئی برسوں سے جاری قلت ختم ہوگئی ہے اور بلیک مارکیٹ میں منافع خوری پر بھی قابو پایا گیا ہے۔
پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (PPMA) کے چیئرمین توقیر الحق نے بتایا کہ ماضی میں انسولین، ٹی بی کی دوائیں اور حتیٰ کہ عام درد کش ادویات جیسے پیناڈول بھی مارکیٹ سے غائب رہتی تھیں کیونکہ حکومتی مقررہ قیمتیں پیداواری لاگت سے کم تھیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی، روپے کی قدر میں کمی اور خام مال کی عالمی قیمتوں میں اضافے کے باعث پرانی قیمت پر پیداوار ممکن نہیں رہی تھی۔ جو گولی پہلے 3 روپے میں فروخت ہوتی تھی، وہ لاگت پر بھی تیار نہیں ہوسکتی تھی، لیکن ڈی ریگولیشن کے بعد اب وہی گولی 6 روپے میں مارکیٹ میں دستیاب ہے۔
صحت کے ماہرین نے بھی اس فیصلے کو مثبت قرار دیا اور کہا کہ اس سے بلیک مارکیٹ کے استحصال میں کمی آئی ہے اور معیاری ادویات تک رسائی بہتر ہوئی ہے۔
حکام کے مطابق یہ پالیسی صرف غیر ضروری ادویات پر لاگو ہے، جبکہ 460 سے زائد بنیادی اور لازمی ادویات اب بھی سخت حکومتی کنٹرول میں ہیں تاکہ عوام کو کم قیمت پر دستیاب رہیں۔
چاروں صوبوں اور وفاقی علاقوں کے ڈرگ ایڈمنسٹریشن حکام نے بھی تصدیق کی ہے کہ اب مارکیٹ میں تقریباً تمام ادویات دستیاب ہیں اور وہ قلت، جو پہلے جعلی ادویات کے پھیلاؤ کا سبب بنتی تھی، بڑی حد تک ختم ہوگئی ہے۔
ایک مشترکہ سروے (PPMA، فارما بیورو اور IQVIA) کے مطابق، ڈی ریگولیشن کے بعد ٹاپ 100 فارما برانڈز کی قیمتوں میں اوسطاً 16.
پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس کے مطابق جون 2025 میں شہری علاقوں میں ادویات کے کنزیومر پرائس انڈیکس میں 13.05 فیصد اور دیہی علاقوں میں 15.3 فیصد اضافہ ہوا، جو کئی دیگر شعبوں کی مہنگائی کے مقابلے میں کم ہے۔
حکام کے مطابق وہ دوائیں جو پہلے نایاب تھیں، جیسے مرگی، نفسیاتی امراض اور بعض کینسر کے علاج کی ادویات، اب بڑی تعداد میں دستیاب ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ فارماسیوٹیکل مارکیٹ کا حجم بھی بڑھا ہے اور IQVIA کے مطابق 2023 میں 0.8 فیصد سے بڑھ کر اس سال 3.6 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔